تصویرِ کائنات کی باریک تہوں اور معاشرے کی زوال پذیری پر غور کرتے ہوئے، ایک سقراطی مکالمے کے لامتنا ہی نثری سلسلے کی صورت میں یہ فکر یوں روشن ہوتی ہے:
دیکھو اے رفیقِ راہ! کیا تم نے شہر کی سڑکوں پر اٹھتے ہوئے اس غبار اور نوجوانوں کے سینوں سے نکلتی ہوئی اس آہ پر غور کیا، جو بنگلہ دیش کے ساحلوں سے لے کر بھارت اور پاکستان کی بستیوں تک محیط ہے؟ بظاہر اربابِ حکومت کے گہرے ایوانوں میں چند عددی شماریات اور ترقی کے اعداد و شمار پر فتح کے ڈھول بجائے جا رہے ہیں، لیکن کیا انسان کی حقیقی فلاح کا معیار صرف یہ بے روح اعداد و شمار ہو سکتے ہیں؟ اگر کوئی شخص تم سے یہ کہے کہ ایک درخت سرسبز ہو رہا ہے کیونکہ اس کی اونچائی بڑھ رہی ہے، لیکن اس کی شاخوں سے پھل جھڑ رہے ہوں اور اس کے سائے تلے کھڑے مسافر پیاس سے دم توڑ رہے ہوں، تو کیا تم اس درخت کو شاداب کہو گے؟ ہرگز نہیں، سقراط! ہم تو یہی کہیں گے کہ وہ درخت اپنے ظاہری قد و قامت کی نمائش میں اپنی اصل غایت یعنی حیات پروری کو کھو چکا ہے۔
پھر ذرا اس عقدے کو ادھیڑو کہ ہمارے دور کے ماہرینِ معاشیات کا یہ گمان کہ "انسان کم پیداواری زراعت کے تاریک حصار سے نکل کر جب فیکٹریوں اور سروسز کے روشن خیموں میں داخل ہوگا تو اس کے لیے معاشی بقا کے تمام در وا ہو جائیں گے” کیا یہ گمان اس خطے کے معاشی وجود کی کسوٹی پر پورا اترا ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ تین دہائیوں تک چھ سے سات فیصد کی شرحِ نمو کا دعویٰ کرنے والی معیشتیں اپنے فرزندانِ زمین کے لیے رسمی اور باوقار روزگار کا ایک تلخ قطرہ بھی پیدا نہ کر سکیں۔ بھارت میں ۱۹۹۰ء کی دہائی میں زراعت جی ڈی پی کے ۳۵ فیصد حصے پر محیط تھی اور ۶۳ فیصد ورک فورس کو سنبھالے ہوئے تھی، اور اج ۲۰۲۵ء کے افق پر، جب جی ڈی پی میں اس کا حصہ گھٹ کر محض ۱۶ فیصد رہ گیا، تب بھی ۴۲ فیصد انسان اسی پسماندہ شعبے سے چمٹے ہوئے ہیں۔ اس زراعت کی پیداواری صلاحیت کا دیگر شعبوں کے مقابلے میں گرنا کیا اس بات کا ازخود ثبوت نہیں کہ وہاں ایک چھپی ہوئی بے روزگاری کا اژدہا پرورش پا رہا ہے؟
جب ہم اس ٹیکنالوجی پر مبنی نام نہاد ترقی کا جائزہ لیتے ہیں، جسے دنیا کے دانشور ‘عصرِ نو کا معجزہ’ گردانتے ہیں، تو بتائو، کیا یہ چمکتا ہوا آئی ٹی شعبہ اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دو ہزار سے زائد عالمی قابلیت کے مراکز (GCCs) اس کروڑوں کے ہجوم میں چند ہزار شاہینوں کی پرورش کے سوا کچھ کر پائے ہیں؟ تین سو ارب ڈالر کمانے والا اور اربوں ڈالر کا وینچر کیپٹل پانے والا شعبہ جب کل ورک فورس کے صرف ایک فیصد کو اپنے اندر جذب کرتا ہے، اور ہر سال ایک کروڑ بیس لاکھ نئے داخل ہونے والے نوجوانوں میں سے نصف سے زیادہ کو نااہل قرار دے کر دور پھینک دیتا ہے، تو کیا ہم یہ نہ کہیں گے کہ یہ ٹیکنالوجی ہنر مانگتی ہے، انسان نہیں؟ جب روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کا دیو کم ہنر مند انسانوں کو اتنی تیزی سے فارغ کر رہا ہو جس تیزی سے نئی صنعتیں انہیں سنبھال نہ سکیں، تو یہ کیسا تضادِ حیات ہے؟ کیا ٹیکنالوجی کی اس اندھی مسابقت میں ہم نے ان انسانوں کا نان و نفقہ اور شرف ہی چھین نہیں لیا؟
اس سے بھی بڑا المیہ، اے دوست، اس تعلیمی نظام کی حقیقت ہے جو روحِ حکمت سے خالی اور محض کاغذ کی اسناد کا تاجر بن چکا ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ اعلیٰ تعلیم کا اینرولمنٹ ریٹ مسلسل بڑھ رہا ہے اور ساڑھے چار کروڑ طالب علم جامعات کے صحنوں میں قدم رکھ رہے ہیں، مگر سالانہ ۵۰ لاکھ گریجویٹس میں سے محض ۲۸ لاکھ کو کام مل پاتا ہے اور محض چند ہزار سرکاری ملازمتوں کے لیے ساڑھے بائیس کروڑ تشنہ لب درخواست گزار بن کر قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں تو کیا یہ تعلیمی ادارے علم بانٹ رہے ہیں یا فریب؟ جب میکنزی کی تحقیق یہ بتائے کہ نصف سے زیادہ طلبہ رٹا سسٹم، پرانے نصاب اور تحلیلی سوچ کی عدم موجودگی کے باعث عملی دنیا کے قابل ہی نہیں، اور ریاستی خزانے کا بڑا حصہ چند اشرافیہ کے اداروں کی نذر کر دیا جاتا ہے، تو اس پر کس کا دل خون کے آنسو نہ روئے گا؟
پس، اے رفیقِ فکر! اس تمام بحث کا وہ مطلق اور ان مٹ نتیجہ کیا نکلتا ہے جس کی طرف سچائی کا راستہ جاتا ہے؟ یہی کہ محض جی ڈی پی کی عددی بڑھوتری نہ تو سماجی استحکام کا ضامن ہے اور نہ ہی شباب کے ابلتے ہوئے غضب کو ٹھنڈا کر سکتی ہے۔ جب تک اس نمو کو لیبر-فرینڈلی اور محنت کش دوست نہیں بنایا جائے گا، مینوفیکچرنگ میں جان پھونک کر غیر ہنر مندوں کے لیے راستے نہیں کھولے جائیں گے، اور تعلیم کو محض ڈگری کے حصول کے بجائے حقیقی معاشی اور فکری ضرورتوں سے ہم آہنگ نہیں کیا جائے گا تب تک یہ بڑھتا ہوا تفاوت، یہ تہی دستی اور یہ غضبناک شباب ایک ایسے تباہ کن زلزلے کو جنم دیتا رہے گا جو اس پورے خطے کی سیاسی، معاشی اور اخلاقی بنیادوں کو تنکے کی طرح بہا لے جائے گا۔