7 اگست کے احتجاج میں شرکت کیوں ضروری ہے؟

7 اگست کو جماعتِ اسلامی کی جانب سے ملک میں جاری کمر توڑ مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کے خلاف ملک گیر احتجاج کی کال دی گئی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کے نام سے حکومت کی جانب سے وصول کی جانے والی رقم کو جماعتِ اسلامی عوام پر سراسر ظلم اور زیادتی قرار دیتی ہے۔

اس سلسلے میں جماعتِ اسلامی نے پوری قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ اس عوامی مسئلے پر احتجاج میں اس کا ساتھ دے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ خالصتاً ایک عوامی ایشو ہے، اس لیے ہر شہری کو اپنے، اپنے بچوں اور اپنے خاندان کی بھلائی کے لیے اس احتجاج میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہر فرد کو چاہیے کہ وہ موجودہ مہنگائی کے تناظر میں کسی غریب گھرانے کے ایک ماہ کے اخراجات کا اندازہ لگائے، پھر خود سے یہ سوال کرے کہ کیا اس مہنگائی میں کسی غریب کے لیے باعزت زندگی گزارنا ممکن ہے؟

اگر انسان غیر جانب داری سے غور کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ صرف غریب ہی نہیں بلکہ متوسط طبقے کے لیے بھی یہ مہنگائی ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔ ان گھروں میں بچے بھی ہیں، بوڑھے بھی، بیمار بھی اور تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ بھی۔ ایسے حالات میں یہ لوگ اپنے روزمرہ کے اخراجات کیسے پورے کریں گے؟

کیا ایسے حالات میں والدین اپنے معصوم بچوں کی معمولی سی خواہش، مثلاً ایک ٹافی خریدنے کی خواہش بھی پوری کر سکیں گے؟ کیا کوئی اپنے بوڑھے والدین کا علاج کرا سکیں گے؟ کیا کوئی فرد اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھ سکیں گے؟

اگر دیانت داری سے ان سوالات پر غور کریں تو ہماری عقل کا جواب نفی میں ہوگا۔ یقیناً موجودہ حالات میں یہ سب کچھ بہت بڑی اکثریت کے لیے ممکن نہیں رہا۔

پھر کیا ہمارا ایمان اور ہمارا انسانی احساس ہم سے یہ تقاضا نہیں کرتا کہ ہم ان غریب اور متوسط طبقات کی معاشی بحالی کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق آواز بلند کریں اور عملی کوشش کریں؟

میری رائے میں جماعتِ اسلامی کا یہ اقدام قابلِ تحسین ہے کہ وہ عوام کے سب سے بنیادی مسئلے پر احتجاج کے لیے دن رات محنت کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے وابستہ تمام افراد کی اس کوشش کو قبول فرمائے۔

یہ بات اس لیے بھی اہم ہے کہ جماعتِ اسلامی کو نہ وفاق میں حکومت ملی ہے اور نہ کسی صوبے میں اقتدار، اس کے باوجود وہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور ان پر احتجاج کرنے کے لیے میدان میں موجود ہے۔ دوسری طرف اس ملک میں بڑی بڑی سیاسی جماعتیں موجود ہیں جنہیں عوام نے وفاق اور صوبوں میں نمایندگی دی ہے، مگر وہ عوام کے اس بنیادی مسئلے پر یا تو خاموش ہیں یا محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے رسمی بیانات دے دیتی ہیں۔ ان کا مقصد مسئلے کا حل نہیں بلکہ صرف اپنے مخالفین پر تنقید کرنا ہوتا ہے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حافظ نعیم الرحمٰن مہنگائی کے اس مسئلے پر سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ تاثر عوام کو گمراہ کرنے اور حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ اگر غیر جانبداری سے سوچا جائے تو یہ پروپیگنڈا خود ہی بے بنیاد ثابت ہو جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ایسے سیاسی رہنماؤں کی ضرورت ہے جو Issue-Oriented Politics کریں، یعنی عوام کے حقیقی مسائل پر سیاست کریں، نہ کہ گالی گلوچ، کردار کشی اور بے مقصد پروپیگنڈے کی سیاست۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کی سیاست کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں اکثر سیاست شخصیات، خاندانوں اور ذاتی مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ جب کوئی جماعت یا رہنما حقیقی عوامی مسائل کو اپنا موضوع بناتا ہے تو اسے مختلف پروپیگنڈوں کے ذریعے بدنام اور کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سادہ لوح عوام بھی اکثر ایسے پروپیگنڈوں سے متاثر ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں مفاد پرست عناصر سیاست میں نمایاں رہتے ہیں جبکہ عوامی مفاد کی سیاست کرنے والے پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔

اگر ہم نے آج ایسے مثبت سیاسی رویوں کا ساتھ نہ دیا تو بعید نہیں کہ مستقبل میں غربت، بے روزگاری اور مہنگائی لوگوں کو مایوسی اور خودکشی جیسے انتہائی اقدامات کی طرف دھکیل دیں۔ اگر آج، استطاعت کے باوجود، ہم ظلم کے خلاف آواز بلند نہ کریں، جبکہ جماعتِ اسلامی نے اس کے لیے ایک پُرامن اور جمہوری پلیٹ فارم فراہم کیا ہے، تو اندیشہ ہے کہ کل ہم معاشرے میں بڑھتی ہوئی غربت اور اس کے المناک نتائج کے سامنے خود کو اخلاقی ذمہ داری سے بری الذمہ ثابت نہ کر سکیں گے۔

لہٰذا ہمیں کھلے ذہن، وسیع سوچ اور قومی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ اس عوامی مسئلے پر ہونے والے احتجاج میں شرکت کرنی چاہیے۔ اسی طرح اگر مستقبل میں کوئی دوسری سیاسی یا سماجی جماعت بھی خالصتاً عوامی مفاد کے کسی مثبت مقصد کے لیے آواز بلند کرے تو ہمیں جماعتی وابستگی سے بالاتر ہو کر اس کا بھی ساتھ دینا چاہیے، کیونکہ اصل ترجیح عوام کی بھلائی اور ملک کے مسائل کا حل ہونا چاہیے۔

یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اگر اس احتجاج کے نتیجے میں حکومت کی جانب سے عوام کو کسی بھی قسم کا ریلیف ملتا ہے تو اس سے فائدہ کسی ایک جماعت یا طبقے کو نہیں بلکہ پوری قوم کو ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ہر قسم کے تعصب، سیاسی وابستگی اور ذاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر اس میں بھرپور شرکت کریں، کیونکہ حکومت پر مؤثر دباؤ اسی وقت پڑ سکتا ہے جب عوام بڑی تعداد میں میدان میں آئیں۔ یہی دباؤ حکومت کو عوام کے جائز مطالبات تسلیم کرنے اور ریلیف فراہم کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے