یومِ استحصالِ کشمیر

ایک وادی، ایک داستانِ کرب اور عالمی ضمیر کے نام ایک سوال

کچھ تاریخیں کیلنڈر کے صفحات پر محض ہندسوں کی صورت میں درج نہیں ہوتیں، بلکہ قوموں کے حافظے میں زخم بن کر زندہ رہتی ہیں۔ کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جنہیں گزر جانے کے باوجود وقت مٹا نہیں پاتا، کیونکہ ان کے پیچھے انسانی دکھ، سیاسی محرومی اور ناانصافی کی ایک طویل داستان ہوتی ہے۔ 5 اگست بھی کشمیر کی تاریخ میں ایسا ہی ایک دن ہے، جسے پاکستان اور کشمیری عوام یومِ استحصالِ کشمیر کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

کشمیر! برف پوش پہاڑوں، سرسبز وادیوں، بہتے دریاؤں اور قدرتی حسن سے مالا مال یہ خطہ بظاہر جنت نظیر ہے، مگر اس کے دامن میں دہائیوں سے ایک ایسا انسانی المیہ سانس لے رہا ہے جس کا حل آج بھی عالمی سیاست کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ یہاں کے لوگوں کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ان کی مرضی اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہو، جبکہ خطے کی سیاسی کشمکش نے نسل در نسل زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔

1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے بعد جموں و کشمیر کا تنازع پیدا ہوا اور جلد ہی یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر پہنچ گیا۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیر کے مسئلے پر متعدد قراردادوں کے ذریعے اس تنازع کو ایک بین الاقوامی مسئلے کے طور پر زیرِ بحث رکھا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی 2019ء میں واضح کیا تھا کہ جموں و کشمیر سے متعلق اقوامِ متحدہ کا مؤقف، اقوامِ متحدہ کے منشور اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں سے رہنمائی حاصل کرتا ہے۔

پھر 5 اگست 2019ء آیا۔ بھارت کی حکومت نے اس روز بھارتی آئین کی دفعہ 370 سے متعلق خصوصی انتظامات ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور جموں و کشمیر کی سابق آئینی حیثیت میں بنیادی تبدیلیاں کیں۔ اس کے بعد سابق ریاست کو دو وفاقی زیرِ انتظام خطوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اقوامِ متحدہ نے ان اقدامات کے بعد صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا اور اسی ماہ سلامتی کونسل میں کشمیر کی صورتِ حال پر غور بھی ہوا۔

پاکستان نے اس اقدام کو یک طرفہ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا، جبکہ بھارت نے اسے اپنے داخلی آئینی و انتظامی فیصلے کے طور پر پیش کیا۔ یوں 5 اگست 2019ء کشمیر کے سیاسی تنازع میں ایک نئے اور نہایت حساس مرحلے کی علامت بن گیا۔ مگر کسی بھی سیاسی فیصلے کی اصل اہمیت اس وقت سامنے آتی ہے جب اس کے اثرات عام انسان کی زندگی تک پہنچتے ہیں۔

کشمیر کے معاملے میں بھی یہی سوال بنیادی حیثیت رکھتا ہے کہ وہاں رہنے والے عام شہری کس کیفیت سے گزر رہے ہیں؟ ان کی آزادیِ اظہار، نقل و حرکت، سیاسی سرگرمی، تعلیم، روزگار اور روزمرہ زندگی پر طویل کشیدگی کے کیا اثرات مرتب ہوئے؟ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے 2018ء اور 2019ء میں کشمیر کی صورتِ حال پر اپنی رپورٹس میں انسانی حقوق سے متعلق متعدد سنگین خدشات کا ذکر کیا تھا۔

جن میں شہری ہلاکتیں، طاقت کے استعمال، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق الزامات شامل تھے۔ 5 اگست 2019ء کے بعد بھی اقوامِ متحدہ کے خصوصی طریقۂ کار کے تحت انسانی حقوق سے متعلق تشویش سامنے آتی رہی۔ اقوامِ متحدہ کے ریکارڈ میں اگست 2019ء کے بعد کشمیر میں اظہارِ رائے، پُرامن اجتماع اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں، گرفتاریوں اور حراستوں سے متعلق اطلاعات درج ہیں۔

یہاں ایک بنیادی اصول کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا: کسی بھی سیاسی تنازع کا سب سے اہم فریق عام انسان ہوتا ہے۔ وہ ماں جو اپنے بیٹے کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہے؛ وہ طالب علم جو تعلیمی مواقع چاہتا ہے؛ وہ تاجر جو امن کے ماحول میں کاروبار کرنا چاہتا ہے؛ وہ استاد جو اپنے شاگردوں کو خوف کے بجائے امید دینا چاہتا ہے؛ اور وہ نوجوان جو اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق چاہتا ہے—یہ سب اس تنازع کے اصل انسانی کردار ہیں۔

کشمیر کو صرف نقشے کی لکیروں میں دیکھنا، اس مسئلے کی انسانی حقیقت کو نظرانداز کرنا ہے۔ یہ مسئلہ صرف زمین کا نہیں، انسانوں کا بھی ہے۔ یہ صرف سرحدوں کا نہیں، مستقبل کا بھی ہے۔ یہ صرف سیاسی بیانات کا نہیں، ان خاندانوں کا بھی ہے جنہوں نے برسوں سے بے یقینی اور کشیدگی کے ماحول میں زندگی گزاری ہے۔

یومِ استحصالِ کشمیر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں انسانی حقوق کی اہمیت آخر کہاں تک ہے؟ اگر دنیا کے کسی حصے میں انسانی حقوق کی پامالی پر آواز اٹھانا عالمی ذمہ داری ہے تو پھر کشمیر کے عوام کی مشکلات بھی عالمی ضمیر کی توجہ کی مستحق ہیں۔ اصول اگر واقعی عالمگیر ہیں تو ان کا اطلاق جغرافیہ، طاقت اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہونا چاہیے۔

البتہ کشمیر کے مسئلے کو صرف جذبات کی نظر سے دیکھنا بھی کافی نہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے سیاسی بصیرت، سفارتی حکمتِ عملی، بین الاقوامی قانون کی تفہیم اور مسلسل پُرامن جدوجہد کی ضرورت ہے۔ محض نعروں سے تاریخ نہیں بدلتی اور محض جذبات سے سفارتی کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔

قومیں اپنے اصولی مؤقف کو مضبوط دلیل، مضبوط معیشت، مضبوط سفارت کاری اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے دنیا کے سامنے منواتی ہیں۔ پاکستان کے لیے کشمیر کا مسئلہ ایک دیرینہ قومی اور خارجہ پالیسی کا اہم موضوع ہے۔ پاکستانی عوام کی ایک بڑی تعداد کشمیری عوام کے ساتھ اپنی تاریخی اور انسانی وابستگی کا اظہار کرتی ہے۔

لیکن اس وابستگی کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ کشمیر کے مقدمے کو دنیا کے سامنے جذبات کے ساتھ ساتھ دلیل، تحقیق اور عالمی قوانین کے تناظر میں پیش کیا جائے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ کشمیر کے مسئلے پر قومی سطح پر ایک سنجیدہ علمی مکالمہ پیدا کیا جائے۔ جامعات، تحقیقی اداروں، صحافتی مراکز اور اہلِ قلم کو چاہیے کہ وہ کشمیر کی تاریخ، اس کے قانونی پہلو، انسانی صورتِ حال اور ممکنہ پُرامن حل پر تحقیق کو فروغ دیں۔

نئی نسل اگر کشمیر کو صرف نعروں کے ذریعے جانے گی تو اس کا مقدمہ محدود ہو جائے گا، لیکن اگر وہ تاریخ، قانون، سفارت کاری اور انسانی حقوق کے تناظر میں اسے سمجھے گی تو وہ دنیا کے سامنے زیادہ مؤثر انداز میں اپنا مؤقف پیش کر سکے گی۔ اسی طرح کشمیری عوام کے حقوق کی بات کرتے ہوئے انسانی جان کے احترام کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔

دہشت گردی، تشدد اور شہریوں کے خلاف ہر قسم کی کارروائی قابلِ مذمت ہے، خواہ وہ کسی بھی فریق کی جانب سے ہو۔ انسانی جان کسی بھی سیاسی تنازع سے زیادہ قیمتی ہے اور کسی بھی نظریے یا سیاسی مقصد کو بے گناہ انسانوں کے قتل کا جواز نہیں بننا چاہیے۔

کشمیر کے مسئلے کا دیرپا حل بندوق کی گھن گرج میں نہیں، بلکہ مذاکرات، سیاسی تدبر اور انصاف کے راستے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ جنگیں نسلیں برباد کر دیتی ہیں، مگر سنجیدہ مذاکرات تاریخ کا رخ بدل سکتے ہیں۔ جنوبی ایشیا کے دو بڑے ممالک کے درمیان کشیدگی کا اثر صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتا؛ اس کے اثرات پورے خطے کے امن، معیشت اور مستقبل پر پڑتے ہیں۔

دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کشمیر میں امن صرف کشمیریوں کی ضرورت نہیں، بلکہ پاکستان، بھارت اور پورے جنوبی ایشیا کی ضرورت ہے۔ ایک پُرامن اور مستحکم جنوبی ایشیا میں کروڑوں انسان بہتر تعلیم، روزگار، صحت اور معاشی ترقی کے مواقع حاصل کر سکتے ہیں۔

اس لیے کشمیر کا پُرامن اور منصفانہ حل صرف ایک علاقائی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ پورے خطے کے روشن مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ کشمیر کو محض ایک سالانہ دن، ایک رسمی بیان یا چند جذباتی تقاریر تک محدود نہ کیا جائے۔

یومِ استحصالِ کشمیر دراصل ہمیں اپنی ذمہ داری یاد دلانے کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں بتاتا ہے کہ مسئلے زندہ رکھنے کے لیے صرف جذبات کافی نہیں؛ مسلسل سیاسی جدوجہد، علمی تحقیق، مؤثر ابلاغ اور سفارتی سرگرمی ضروری ہے۔

ہمیں اپنی نئی نسل کو کشمیر کی تاریخ ضرور بتانی چاہیے، مگر نفرت کے ساتھ نہیں؛ حقیقت اور دلیل کے ساتھ۔ انہیں یہ سمجھانا چاہیے کہ کسی قوم کے حقوق کی حمایت کا مطلب دوسری قوم سے نفرت نہیں، بلکہ انصاف کے اصول پر کھڑا ہونا ہے۔ امن کی خواہش کمزوری نہیں، بلکہ سیاسی بصیرت کی علامت ہے۔

5 اگست کا دن ہمیں ماضی کے زخم دکھاتا ہے، مگر مستقبل کے لیے ایک راستہ بھی تجویز کرتا ہے: انصاف، مذاکرات، انسانی وقار اور حقِ خودارادیت کے اصول۔ کشمیر کی وادی آج بھی دنیا سے ایک سوال کرتی ہے: کیا طاقت ہمیشہ انصاف پر غالب رہے گی، یا ایک دن دنیا کا ضمیر جاگے گا؟

اس سوال کا جواب صرف اقوامِ متحدہ کے ایوانوں یا عالمی دارالحکومتوں سے نہیں آنا چاہیے، بلکہ ہر اس شخص کے ضمیر سے آنا چاہیے جو انسانی حقوق، آزادی اور انصاف پر یقین رکھتا ہے۔ یومِ استحصالِ کشمیر ہمیں یہ عہد کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ ہم ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں گے، مگر دلیل اور اخلاق کے ساتھ۔

ہم امن کی بات کریں گے، مگر انصاف کے ساتھ؛ ہم کشمیر کے عوام کے حقوق کی حمایت کریں گے، مگر انسانیت کے عالمگیر اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے۔ کیونکہ تاریخ کا فیصلہ طاقتور کے حق میں ہمیشہ نہیں ہوتا؛ آخرکار تاریخ ان قوموں کو یاد رکھتی ہے جو اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہیں۔

ظلم کی رات خواہ کتنی ہی طویل ہو، انسانی ضمیر میں انصاف کی شمع بجھائی نہیں جا سکتی۔ قوموں کی تاریخ میں ایسے لمحے ضرور آتے ہیں جب خاموشی خود ایک سوال بن جاتی ہے اور انصاف کی آواز نسلوں کے دلوں میں زندہ رہتی ہے۔ کشمیر کا مسئلہ کسی ایک دن کی آواز نہیں، یہ کئی نسلوں کی داستان ہے۔

اور جب تک اس داستان کا منصفانہ حل تلاش نہیں کیا جاتا، 5 اگست محض ایک تاریخ نہیں رہے گا؛ یہ عالمی ضمیر کے سامنے ایک زندہ سوال بن کر کھڑا رہے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے