انسان کے پاداش میں کچھ نہیں،کبھی حالات ،کبھی دوسرے اشخاص کے سامنے بے سر و پا ہوجاتا ہے ،یہ مختصر سی زندگی کبھی کبھی انتی طویل ہوجاتی ہے کہ بندہ اختتام کو خوشی سمجھتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ غربت کی زندگی گزارنا اکثر بےبدست و پا کی صورت در آتا ہے ،یہ وہ شمستان ہے کہ وہاں بندہ رُکنے کے قابل نہیں ہوسکتا،چلتی گاڑی کا نام زندگی ہے لیکن ہمارے ہاں زندگی کی گاڑی بغیر ٹائیروں سے کچی سڑک پر روان ہے جو ناقابلِ برداشت سفر تصور کی جاتی ہے ۔
کسی نے بہت خوب کہا تھا کہ حالات کے ستائے ہوئے لوگ یا ہار مانتے ہیں یا پھر پتھر کی طرح سخت بن جاتے ہیں۔ لیکن ہم حالات کے ستائے ہوئے لوگ ہیں اور اس ارتباط میں اپنے لوگ درآمد بن جاتے ہیں ۔ اس درآمدوں کی آبادی میں اکثر ہم جیسے بے گھر ؤ بے سامان ہوجاتے ہیں آبادی سے دور نکل نہیں سکتے کہ ہم نے اپنی زندگی ایک چین کی طرح باندہ رکھا ہے ۔اور اس چین کو حالات کے آئل سے روز بروز مظبوط کرجاتے ہیں۔لیکن اب اس چین کو توڑنا ہوگا
اس بے کَسی کے حالات انسان کے اوپر اس طرح گرتے ہیں کہ بندہِ ناچیز نہ ادھرا کا رہتا ہے نہ اوھر کا ،سانس نکلنے کےلیے بھی ہلنے کی استطاعت نہیں رکھتا ،اس ناگہانی دور میں ہاتھ لینا کجا بلکہ اکثر اپنے خود کی جگریں تم سے فاصلہ رکھنے کی سعی کرتے ہیں، کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غربت آدمی کو کھاجاتا ہے یا یہ ایسا بیماری ہے کہ دوسرے لوگ تم سے اس لیے دور باگتے ہیں کہ ان کو یہ وئیرس نہ لگ جائے۔
ہم کیا کرسکتے ہیں ؟ حالات وہ دریائی پانی ہے کہ وہ اپنا راستہ خود بناتا ہے ،انسان ایک مدت کےلیے بے گھر و بے سامان ہوجاتا ہے لیکن یہ مدت چند لمحات کےلیے ہوتا ہے یہ زیادہ دیر تک ٹھکتا نہیں ۔اس کی ایک اچھائی بھی ہے کہ تم کو اصل لوگوں کی پہچان ہوجاتا ہے،رشتوں میں پہچان کراتا ہے کہ لوگ کتنے حد تک تمارے ساتھ تھے ،آپ کی زندگی میں وہ لوگ بچتے ہیں جو خالص ہوتے ہیں اور آپ کے ساتھ اس زوال کے وقت ہمراہ داری کرتے ہیں ۔زندگی کے کارروان میں ہزاراں لوگ آتے ہیں اور ہر کوئی اپنے منزل تک آپ کا ساتھ دیتا ہے ۔چلو زندگی سے گِلہ کرنے سے بہتر ہے کہ زندگی کی سمت کو تبدیل کرنے کی سعی کریں۔