16 اگست 1961ء کی کراچی کی اُس شام کا تخیّل کیجیے جب ایک سال خوردہ عالم، اپنی حیاتِ مستعار کے آخری مرحلے سے گزر کر ابدی سفر کی جانب روانہ ہوا۔ شہر اپنی روزمرہ مصروفیات کی بے نیازی کے ساتھ رواں دواں تھا؛ شاہراہوں پر آمد و رفت جاری تھی، بازاروں میں زندگی کی گہماگہمی برقرار تھی، مگر ایک شخص کی خاموشی کے اندر گویا ایک پوری زبان کی صدیوں پر محیط صدائے تاریخ سمٹ کر رہ گئی تھی۔ وہ شخص مولوی عبدالحق تھا وہی مردِ درویش صفتِ علم جسے زمانے نے بعد ازاں ’’بابائے اردو‘‘ کے لقب سے وہ دوام بخشا جو خود ایک تاریخی استعارہ بن گیا۔ آج، 16 اگست 2026ء کو، ان کی پینسٹھویں برسی کے موقع پر بنیادی سوال یہ نہیں کہ انہوں نے اردو کے لیے کیا کچھ کیا؛ اصل سوال اس سے کہیں زیادہ کڑا، احتساب انگیز اور ہمارے عہد کے لیے معنی خیز ہے کہ ہم نے ان کی اردو کے ساتھ کیا کیا؟
مولوی عبدالحق کی حیات کو اگر محض ایک ماہرِ لسانیات، محقق، مدوّن، لغت نویس یا علمی مدیر کی سوانحی روداد سمجھ لیا جائے تو ان کی شخصیت کی حقیقی معنویت کے ایک وسیع تر اور عمیق تر جہان سے ہمارا تعارف ہی نہ ہوسکے گا۔ وہ دراصل اُس عہد کے ایسے فکری مجاہد تھے جس میں زبان محض مافی الضمیر کی ترسیل کا وسیلہ نہیں تھی، بلکہ تہذیبی بقا، علمی خودمختاری، اجتماعی تشخص اور فکری خود اختیاری کا ایک بنیادی محاذ تھی۔ 20 اپریل 1870ء کو ہاپڑ میں ولادت پانے والے مولوی عبدالحق نے علی گڑھ میں کسبِ علم کیا، سرسید احمد خان، شبلی نعمانی اور الطاف حسین حالی جیسے اربابِ علم و ادب کے فکری ماحول سے اکتسابِ فیض کیا اور 1895ء میں حیدرآباد دکن پہنچ کر تدریس، ترجمہ، تحقیق اور ادارہ سازی کے وسیع میدان میں اپنی علمی مساعی کا آغاز کیا۔
یہیں سے ان کی شخصیت کا وہ بنیادی جوہر منکشف ہوتا ہے جو انہیں محض اردو کے ایک شیدائی سے کہیں بلند تر مقام عطا کرتا ہے: عبدالحق اردو سے صرف محبت نہیں کرتے تھے، وہ اسے منظم، مستحکم اور ادارہ جاتی ساخت عطا کرتے تھے۔ محبت جذبات کو مہمیز دیتی ہے، لیکن ادارہ سازی تاریخ کے دھارے کا رخ متعین کرتی ہے۔ 1912ء میں جب وہ انجمنِ ترقیِ اردو کے سیکریٹری منتخب ہوئے تو یہ محض ایک انتظامی منصب سنبھالنے کا واقعہ نہ تھا؛ درحقیقت یہ اردو کی علمی و تہذیبی تحریک کو ایک منظم، مربوط اور دیرپا سمت عطا کرنے کے ایک نئے عہد کا آغاز تھا۔
عبدالحق نے بہت پہلے یہ حقیقت بھانپ لی تھی کہ کوئی زبان محض شاعروں کے لبوں، ادیبوں کے قلم اور اہلِ ذوق کی محفلوں میں زندہ نہیں رہ سکتی۔ اگر اسے تاریخی بقا، علمی اقتدار اور تہذیبی استحکام حاصل کرنا ہے تو اسے مدارس و جامعات، نصاب و تدریس، لغات و اصطلاحات، تحقیقی مراکز و علمی رسائل اور جدید علمی مباحث کے تمام دائرۂ کار میں اپنی کارفرمائی ثابت کرنا ہوگی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بابائے اردو ایک ادیب یا زبان شناس سے آگے بڑھ کر اردو کے تہذیبی معمار کی صورت اختیار کرتے ہیں۔
انجمنِ ترقیِ اردو کے پلیٹ فارم سے انہوں نے علمی و سائنسی مضامین کی اشاعت، ترجمے، لغت نویسی، تحقیق، تدوین اور قدیم متون کے تحفظ کو ایک مربوط علمی منصوبے کی شکل دی۔ ان کی کوششوں سے ایسے نادر علمی ذخائر نئی زندگی پانے لگے جو وقت کی گرد، غفلت اور فرسودگی کے باعث تاریخ کے حافظے سے محو ہونے کے قریب تھے۔ ’’اردو‘‘ اور ’’سائنس‘‘ جیسے رسائل کے ذریعے اردو کو محض ادبی اظہار کی زبان کے محدود حصار سے نکال کر علمی، تحقیقی اور سائنسی مباحث کی زبان بنانے کی کوشش کی گئی۔
یہی عبدالحق کی بصیرتِ لسانی کا مرکزی نکتہ تھا: زبان کو زندہ رکھنے کے لیے اسے زندگی کے ہر علمی اور عملی شعبے میں داخل کرنا ناگزیر ہے۔
وہ بیک وقت قدیم متون کے محقق بھی تھے اور جدید علمی اصطلاحات کے معمار بھی۔ ان کے نزدیک لغت مرتب کرنا محض الفاظ کو حروفِ تہجی کی ترتیب میں مجتمع کردینا نہیں تھا؛ یہ دراصل ایک ایسی علمی اساس تعمیر کرنا تھا جس کے ذریعے اردو جدید دنیا کے نئے تصورات، علوم اور اصطلاحات کو اپنے دامن میں جذب کرنے کی استعداد پیدا کرسکے۔ ’’اسٹینڈرڈ انگلش اردو ڈکشنری‘‘، ’’قواعدِ اردو‘‘ اور ’’اردو صرف و نحو‘‘ جیسے علمی کارنامے اسی وسیع تر لسانی منصوبۂ فکر کے اجزائے ترکیبی تھے۔
ان کی تحقیق کا امتیاز یہ تھا کہ وہ روایت کو احترام کی نگاہ سے ضرور دیکھتے تھے، لیکن اسے تحقیق کی جگہ کبھی نہیں دیتے تھے۔ ان کے علمی مزاج میں روایت قابلِ احترام تھی، مگر ناقابلِ سوال نہیں۔ قدیم ادب کے ماخذ، متون، نسبتوں اور تاریخی دعووں کی چھان بین ان کے تحقیقی منہج کا لازمی حصہ تھی۔ اسی لیے ان کے ہاں تحقیق عقیدت کی تابع نہیں بلکہ حقیقت کی پاسبان بن کر سامنے آتی ہے؛ روایت ان کے لیے نقطۂ آغاز ہوسکتی تھی، نقطۂ اختتام نہیں۔
تاہم مولوی عبدالحق کی فکری جدوجہد کا ایک نہایت اہم مرحلہ قیامِ پاکستان کے بعد سامنے آیا۔ ہجرت کے بعد کراچی کو اپنی علمی سرگرمیوں کا مرکز بناتے ہوئے انہوں نے انجمنِ ترقیِ اردو کو نئے جغرافیائی، سیاسی اور تہذیبی تناظر میں ازسرِنو فعال کیا۔ اردو کالج کے قیام کی جدوجہد بھی اسی وسیع تر تصور کا مظہر تھی کہ اردو کو محض قومی جذبات کی علامت یا شناختی شعار بنائے رکھنے کے بجائے اسے اعلیٰ تعلیم، علمی تشکیل اور فکری پیداوار کی زبان بنایا جائے۔ بعد کے ادوار میں یہی ادارہ جاتی روایت وفاقی اردو یونیورسٹی کی تشکیل کی راہ ہموار کرنے والے اہم علمی سلسلوں میں شامل ہوئی۔
یہاں تاریخ ہمارے سامنے ایک نہایت معنی خیز آئینہ رکھ دیتی ہے۔ جس شخص نے اردو کو درس گاہ، کالج اور یونیورسٹی کے علمی ماحول میں سربلند کرنے کے لیے اپنی پوری زندگی نذر کردی، آج اردو یونیورسٹی ہمارے سامنے موجود ہے؛ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اردو واقعی ہمارے علم، تحقیق، سائنس، ٹیکنالوجی، معیشت اور نظامِ حکمرانی کی مؤثر زبان بن چکی ہے؟
اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو بابائے اردو کی برسی محض رسمی تعزیت، پھولوں کی نذر یا ماضی کے کسی عظیم شخص کی یاد تازہ کرنے کا موقع نہیں؛ یہ دراصل اپنے قومی عہد و پیمان کے احتساب کا دن ہے۔
آج کا زمانہ مصنوعی ذہانت کے الگورتھم، ڈیجیٹل مواصلات اور لسانی ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے۔ دنیا کی زبانیں محض بولی جانے والی آوازیں نہیں رہیں؛ وہ ڈیٹا، ڈیجیٹل کارپس، مشینی ترجمے، صوتی نظام اور مصنوعی ذہانت کے ماڈلز میں اپنی نئی حیات تلاش کر رہی ہیں۔ ایسے عہد میں اردو کا مستقبل اس سوال سے متعین نہیں ہوگا کہ ہم اسے کتنی خوب صورتی، فصاحت یا شائستگی سے بولتے ہیں؛ اصل سوال یہ ہوگا کہ ہم نے اردو کو ڈیجیٹل عہد کی علمی و تکنیکی ساخت میں کس قدر قابلِ استعمال بنایا ہے۔
اگر عبدالحق آج ہمارے درمیان موجود ہوتے تو بعید نہیں کہ ان کی توجہ محض کسی نئی لغت کی تدوین تک محدود نہ رہتی، بلکہ وہ اردو کے وسیع ڈیجیٹل ذخیرے، سائنسی و تکنیکی اصطلاحات، مشینی ترجمے، لسانی کارپس اور مصنوعی ذہانت کے اردو ماڈلز کی تشکیل کو اپنی نئی علمی مہم کا مرکز بناتے۔ اس لیے کہ ان کی پوری زندگی کا عملی فلسفہ ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ زبان کو ماضی کی محفوظ یادگار نہیں، مستقبل کی فعال قوت بنانا چاہیے۔
16 اگست 1961ء کو کراچی میں ان کی حیاتِ دنیوی کا اختتام ہوا اور انہیں اسی شہر میں اردو یونیورسٹی کے عبدالحق کیمپس کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔
یہ منظر اپنے اندر ایک غیرمعمولی تاریخی معنویت رکھتا ہے کہ جس شخص نے اپنی پوری زندگی اردو کی حفاظت، ترویج اور سربلندی کے لیے وقف کردی، اس کی آخری آرام گاہ بھی اسی شہر میں ایک ایسے تعلیمی ادارے کی آغوش میں ہے جو اردو کے نام سے اپنی شناخت قائم رکھتا ہے۔ گویا تاریخ نے ان کی مرقدِ خاموش پر ایک ایسا غیر مرئی کتبۂ فکر ثبت کردیا ہو جسے پڑھنے کے لیے الفاظ سے زیادہ شعور درکار ہے:
زبانیں محض بولے جانے سے زندہ نہیں رہتیں؛ انہیں ادارے، علم، تحقیق، تخلیق اور نئی نسلوں کی فعال وابستگی زندہ رکھتی ہے۔
بابائے اردو کا عظیم ترین کارنامہ شاید ان کی کوئی منفرد کتاب، لغت، تدوین شدہ متن یا تحقیقی تصنیف نہیں؛ ان کا حقیقی تاریخی کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے اردو کو جذباتی وابستگی کے حصار سے نکال کر ادارہ سازی، ادارہ سازی سے علمی تشکیل، اور علمی تشکیل سے تہذیبی شعور کی سطح تک پہنچانے کی مسلسل جدوجہد کی۔
آج ان کی پینسٹھویں برسی پر اگر ہم واقعی انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتے ہیں تو صرف یہ اعلان کافی نہیں کہ ’’اردو ہماری قومی زبان ہے‘‘۔ ہمیں اپنے عملی کردار سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اردو صرف ہماری شناخت کی زبان نہیں بلکہ علم کی زبان، تحقیق کی زبان، سائنس کی زبان، ٹیکنالوجی کی زبان اور مستقبل کی زبان بھی بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ورنہ اصل اندیشہ یہ نہیں کہ اردو مٹ جائے گی؛ زبانیں اکثر اس سے کہیں زیادہ سخت تاریخی آزمائشوں سے گزر کر بھی باقی رہتی ہیں۔ اصل خطرہ اس سے زیادہ پیچیدہ ہے: اردو زندہ رہے، بولی بھی جائے، لکھی بھی جائے، اس کے مشاعرے بھی آباد رہیں، مگر علم کی نئی دنیا کے مرکز سے بتدریج باہر ہوتی چلی جائے۔
اور شاید یہی وہ سوال ہے جو بابائے اردو کی خاموش مرقد سے آج بھی ہمارے اجتماعی شعور کو مخاطب کرتا ہے کیا ہم نے اردو کو صرف ماضی کی امانت سمجھ کر محفوظ رکھا ہے، یا اسے مستقبل کی قوت بنانے کا حوصلہ بھی پیدا کیا ہے؟