اکادمی ادبیات پاکستان کی تیسری ’’نسلِ نو‘‘ ادبی میلے کے بارے میں ایک تاثر

13 اگست 2026ء کو جب میں اکادمی ادبیات پاکستان کی عمارت پہنچا تو وہاں غیر معمولی خاموشی تھی۔ ادارے کے ملازمین سے معلوم ہوا کہ اگلے روز، یعنی 14 اگست، یومِ آزادی کے سلسلے میں ایچ-8 سیکٹر کے پریڈ گراؤنڈ میں تقریبات کے باعث اردگرد کے علاقوں میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور ہر قسم کی سرگرمیوں کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ اسی سرکاری حکم کے پیشِ نظر اکادمی ادبیات پاکستان میں ’’نسلِ نو‘‘ میلے کی آج ہونے والی اختتامی تقریبات بھی ملتوی کر دی گئی ہیں۔

آج کے پروگراموں میں ایک تقریب ویت نام کی معروف کتاب ’’قیدی کی ڈائری‘‘ کی تقریبِ رونمائی تھی، جس کی صدارت سرائیکی اور اردو کے معروف فکشن نگار جناب حفیظ خان کو کرنا تھا ، جبکہ اسلام آباد میں ویت نام کے سفیر اور دیگر سفارت کار بطور مہمان شریک ہونا تھا۔ جناب صلاح الدین اور جناب امداد آکاش کتاب پر اظہارِ خیال کرنے والے تھے اور نظامت منیر فیاض کے ذمے تھی، لیکن یہ پروگرام منعقد نہ ہو سکا۔

دوسری تقریب اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے شائع ہونے والی کتاب ’’ملت کا پاسباں محمد علی جناح‘‘ کی تقریبِ رونمائی تھی۔ اس کی صدارت پروفیسر فتح محمد ملک نے کرنا تھی، جبکہ معروف کالم نگار اور صحافی جناب مرزا بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوتے۔ نظامت محترم رباب تبسم کے ذمے تھی اور ڈاکٹر خان فرحان رفعت، نئیر سرحدی اور درشہوار توصیف نے اظہارِ خیال کرنا تھا، مگر یہ تقریب بھی نہ ہو سکی۔تیسری تقریب اکادمی کی مطبوعہ کتاب ’’کلاسیکی ادب کی تسہیل و تلخیص‘‘ کی تقریبِ رونمائی تھی، جس کی صدارت پروفیسر جلیل عالی نے کرنا تھی۔ احمد حاطف صدیقی اور جناب واحد سراج مہمانانِ خصوصی تھے، جبکہ نظامت جناب عثمان غنی رند کے ذمے تھی۔

اسی طرح چوتھی تقریب اختتامی تقریب تھی۔ تلاوتِ قرآن پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کے بعد اکادمی ادبیات پاکستان کی پچاس سالہ کارکردگی پر ایک دستاویزی فلم پیش کی جانی تھی۔ سینیٹر ہدایت اللہ خان، چیئرمین سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تاریخ، ثقافت اور قومی ورثہ، مہمانِ اعزاز تھے، جبکہ محترمہ فرح ناز اکبر، جو اس وزارت کی پارلیمانی سیکرٹری ہیں، مہمانِ خصوصی تھیں۔ اس تقریب میں پاکستان کے مختلف علاقوں سے اپنے ذاتی وسائل اور خرچ پر آنے والے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں، جن کی تعداد تقریباً دو سو تھی، میں اسناد تقسیم کی جانی تھیں۔

یقیناً ’’نسلِ نو‘‘ کے ساتھ مکالمے کا یہ خوب صورت تصور اکادمی کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف کا ہے اور ان کے دیگر قابلِ قدر کاموں کے ساتھ یہ کاوش بھی قابلِ تحسین ہے۔ تاہم میں ان نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی علم دوستی کو بھی سلام پیش کرتا ہوں، جو اپنے ذاتی خرچ پر ملک کے دور دراز علاقوں سے اسلام آباد آئے۔ مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے یہاں اپنے دن کس طرح گزارے ہوں گے، لیکن مختلف ورکشاپس اور دیگر تقریبات میں ان کا شوق، ذوق اور دلچسپی دیدنی تھی۔مجھے اپنے ان نوجوانوں پر خوشی بھی ہوتی ہے اور ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں ان کے مستقبل کے بارے میں تشویش بھی۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں روشن اور تابناک مستقبل عطا فرمائے اور ہمارے تمام بچوں کو سلامت رکھے۔

آج کے دور میں جب سوشل میڈیا پر بعض نوجوان بدتہذیبی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بعض مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کی طرف بھی مائل ہوتے ہیں، ایسے علمی، ادبی اور فکری پروگرام نئی نسل کی ذہنی تربیت کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ یقیناً سرکاری ادارے اپنے دستیاب معلومات اور سرکاری احکامات کے مطابق کام کرتے ہیں، لیکن ’’نسلِ نو‘‘ جیسے پروگرام کو جاری رکھنے کے لیے کوئی متبادل مقام بھی تلاش کیا جا سکتا تھا۔

اس روز کے تمام پروگرام اپنی جگہ اہم تھے، لیکن نوجوانوں کے لیے اسناد کی تقریب کی اپنی ایک خاص اہمیت تھی۔ نوجوان اس بات پر سب سے زیادہ خوش ہوتے ہیں کہ کسی بزرگ شاعر، ادیب یا دانشور کے ہاتھوں انہیں سند دی جائے اور اس شخصیت کے ساتھ ان کی تصویر بھی بنے۔یہ ’’نسلِ نو‘‘ کا تیسرا میلہ تھا۔ تقریباً تین سال قبل جب ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اکادمی کی پہلی خاتون چیئرپرسن کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالی تو ان کی سرپرستی میں اس میلے کا آغاز ہوا۔ اگرچہ اس سال تیسری تقریب بعض مجبوریوں کے باعث نامکمل رہی، تاہم دو روز کے دوران ایک ہی وقت میں چار چار مختلف ورکشاپس منعقد ہوئیں جن دورانیہ دو گھنٹے پر محیط تھی ۔ ہر ورکشاپ میں ایک دانشور کے ساتھ کئی شاعر، ادیب اور دانشور معاونین کے طور پر شریک تھے۔

مثلاً ہماری ورکشاپ ’’علمِ عروض‘‘ کے موضوع پر تھی۔ اس میں تقریباً بیس نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شریک تھے، جن کا تعلق بنوں، لکی مروت، چنیوٹ، نوشہرہ، ملاکنڈ، آزاد کشمیر، مانسہرہ، لیہ، ہری پور، گلگت بلتستان، راولپنڈی اور گجرات سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں سے تھا۔عروض اور علمِ بدیع و صنائع کا علم اس لیے نسبتاً مشکل محسوس ہوتا ہے کہ اس کی بہت سی اصطلاحات عربی اور فارسی سے اردو میں آئی ہیں۔ جن لوگوں نے عروض پر کتابیں لکھیں، انہوں نے انہی عربی و فارسی اصطلاحات کو برقرار رکھا، جس کی وجہ سے نئے طالب علموں کے لیے یہ علم قدرے دشوار ہو جاتا ہے۔

اکادمی کے افتتاحی اجلاس میں وفاقی وزیر برائے تاریخ، ثقافت و قومی ورثہ جناب اورنگزیب خان کچھی نے بھی اسی حوالے سے ایک دلچسپ بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی مادری زبان سرائیکی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اردو سرکاری دفاتر میں زیادہ عام ہو۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے اپنے وزارت کے ایک علمی ادارے سے کہا کہ آئندہ اجلاس کا ایجنڈا اردو میں تیار کیا جائے، لیکن جب وہ ایجنڈا سامنے آیا تو اس میں عربی اور فارسی کی اتنی مشکل اصطلاحات تھیں کہ وہ خود بھی انہیں سمجھ نہ سکے۔ چنانچہ اسے دوبارہ انگریزی میں منتقل کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری مادری اور قومی زبانیں عام ہوں تو ہمیں زبان کو آسان بنانا ہوگا۔

ہماری عروض کی کلاس کے استاد جناب سید ابرار حسین شاہ تھے۔ سید ابرار حسین شاہ پشاور کے ایک علمی و ادبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ عربی اور فارسی ان کے خاندانی علمی پس منظر کا حصہ ہیں۔ انہوں نے انگریزی اور اردو میں ماسٹرز کیا ہے اور انگریزی زبان و ادب پر بھی عبور رکھتے ہیں۔وہ کچھ عرصہ کالج میں لیکچرار رہے اور مردان کالج میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں سی ایس ایس کا امتحان پاس کرکے دفترِ خارجہ سے وابستہ ہوئے اور مختلف ممالک، خصوصاً افغانستان میں قونصلر اور سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ آخرکار وفاقی سیکرٹری کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔

سید ابرار حسین شاہ اردو کے صاحبِ اسلوب شاعر بھی ہیں۔ حمد و نعت اور شعری مجموعوں کے علاوہ عروض کے موضوع پر ان کی نہایت آسان اور مفید کتاب ’’اردو بحریں‘‘ ہے، جس کا دوسرا ایڈیشن نیشنل بک فاؤنڈیشن نے شائع کیا ہے۔ ان کی ایک اہم کتاب ’’ملا عمر سے اشرف غنی تک‘‘ بھی ہے۔ میری کتاب ’’تحقیق و شننہ‘‘ میں بھی شاہ صاحب کی اس کتاب پر ایک تبصرہ شامل ہے۔عروض کی ورکشاپ کے پہلے روز شاہ صاحب کے ساتھ پروفیسر ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد اور محترمہ ناہید قمر معاونین کے طور پر موجود تھے۔ ڈاکٹر ارشد ناشاد علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے چیئرمین اور عروض کے استاد ہیں۔ وہ گزشتہ سال بھی اس ورکشاپ میں نوجوانوں کو علمِ عروض سے آگاہ کر چکے تھے۔ اس سال بھی انہوں نے سید ابرار حسین شاہ کے ساتھ مل کر خاصی محنت کی۔

دوسرے روز کی ورکشاپ میں میرے علاوہ ڈاکٹر مہناز انجم، جو شاعرہ، ادیبہ اور پروفیسر ہیں، اور منیر فیاض انگریزی کے پروفیسر کے ساتھ عربی فارسی اردو زبانوں پر مکمل عبور حاصل ہے ۔ دونوں دن کے اساتذہ کی محنت کے نتیجے میں نوجوان مختلف اشعار کی تقطیع کرنے کے قابل ہوئے اور یہ بتانے لگے کہ کسی شعر کا وزن فاعلاتن، فَعِلاتن، فعلن وغیرہ میں ہے۔اس کلاس میں عروض سمجھنے والے درمیانے درجے کے طلبہ کے ساتھ ساتھ بہترین کارکردگی دکھانے والے نوجوانوں کا تعلق ملاکنڈ، بنوں اور نوشہرہ سے تھا۔ یہ میرے اور آپ کے لیے یقیناً خوشی کی بات ہے کہ ہمارے دور دراز علاقوں کے نوجوان علمِ عروض جیسے مشکل موضوع میں بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔

تخلیقی نثر نگاری، ادارت اور ترجمہ نگاری کی نشستوں میں بالترتیب ڈاکٹر فرخ ندیم، ڈاکٹر عابد سیال اور ڈاکٹر صفدر رشید نے رہنمائی کی۔ ان کے ساتھ شعیب خالق، طارق بھٹی، فرخ یار، عرفان احمد عرفی، محترمہ فریدہ حفیظ، محترمہ نعیم فاطمہ علوی، ڈاکٹر یعقوب، ڈاکٹر ظفر اقبال شاہین، ڈاکٹر صلاح الدین درویش، جناب الیاس بابر اعوان اور ڈاکٹر فاخِرہ نورین بھی معاونین کے طور پر شریک تھے۔ان دو دنوں میں اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے انگریزی اور چینی زبان سے ترجمہ شدہ کتاب ’’شاخِ زیتون‘‘، ’’پاک چین کلاسیکی ادب‘‘ اور ویت نامی کتاب ’’قیدی کی ڈائری‘‘ سمیت کئی کتابوں کی تقریبِ رونمائی بھی ہوئی۔اسی طرح ’’معمارانِ ادب‘‘ منصوبے کے تحت آٹھ کتابوں کی رونمائی ہوئی، اگرچہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان میں پاکستان کی علاقائی زبانوں کے کسی شاعر، ادیب یا دانشور کو شامل نہیں کیا گیا۔

اکادمی کی جانب سے بچوں کے لیے شائع ہونے والے رسالے ’’اطفال‘‘، سہ ماہی ’’ادبیات‘‘ اور انگریزی رسالے ’’پاکستانی لٹریچر‘‘ کے حوالے سے بھی نہایت معلوماتی نشستیں ہوئیں۔ان تقریبات میں مختلف معروف اہلِ قلم نے صدارت، اظہارِ خیال اور نظامت کے فرائض انجام دیے۔ ’’معمارانِ ادب‘‘ کی تقریب کی صدارت جناب حمید شاہد اور ڈاکٹر سلمان باسط نے کی، جبکہ ڈاکٹر جنید آذر، ڈاکٹر رویش ندیم اور ڈاکٹر منظور وسریو نے اظہارِ خیال کیا اور نظامت شیر علی نے کی۔

’’اطفال‘‘ کی تقریب کی صدارت ڈاکٹر وحید احمد نے کی، قیوم طاہر مہمانِ خصوصی تھے، جبکہ رحمان حفیظ، ڈاکٹر صنوبر الطاف اور ڈاکٹر ریاض عادل نے اظہارِ خیال کیا اور نظامت ڈاکٹر سعدیہ کمال نے کی۔ان دو دنوں میں افتخار عارف اور کشور ناہید کی صدارت میں ایک مشاعرہ بھی ہوا، جس میں حلیم قریشی مہمانِ خصوصی تھے اور نظامت شکیل جاذب نے کی۔ دوسرا مشاعرہ پروفیسر ڈاکٹر احسان اکبر کی صدارت میں ہوا۔

چونکہ یہ دونوں مشاعرے ’’نسلِ نو‘‘ میلے کا حصہ تھے اور ’’نسلِ نو‘‘ سے مراد پورے پاکستان کے نوجوان تھے، اس لیے اگر مختلف علاقائی زبانوں کے نوجوان شعراء کو بھی ان مشاعروں میں زیادہ نمایاں موقع دیا جاتا تو شاید وہ اپنے ساتھ ایک اور خوب صورت تاثر لے کر واپس جاتے۔11 اگست 2026ء کو صبح دس بجے اکادمی ادبیات پاکستان کے سبزہ زار میں قومی پرچم لہرایا گیا۔ اس کے بعد قومی ترانے کے ساتھ ملک کی سلامتی، خوش حالی اور ترقی کے لیے دعا کی گئی اور پاکستان کے یومِ آزادی کی مناسبت سے کیک کاٹا گیا۔

اس کے بعد وفاقی وزیر برائے تاریخ، ثقافت و قومی ورثہ ڈویژن جناب اورنگزیب خان کچھی، افتخار عارف، عطا الحق قاسمی، ڈاکٹر نجیبہ عارف، اسلام آباد و راولپنڈی کے شعراء و ادباء اور ’’نسلِ نو‘‘ کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے ہمراہ اکادمی ادبیات پاکستان کی عمارت میں بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے پورٹریٹس کی نقاب کشائی کی گئی۔اس کے بعد فیض احمد فیض آڈیٹوریم میں ’’نسلِ نو‘‘ ادبی میلے کی افتتاحی تقریب شروع ہوئی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ جناب اقدس ہاشمی نے اپنی خوب صورت آواز میں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔ نظامت سلطان ناصر نے کی۔

وفاقی وزیر برائے تاریخ، ثقافت و قومی ورثہ جناب اورنگزیب خان کچھی مہمانِ خصوصی تھے۔ اسٹیج پر کمالِ فن ایوارڈ حاصل کرنے والی شخصیات کے لیے خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا تھا، جس میں جناب افتخار عارف اور جناب عطا الحق قاسمی شریک ہوئے۔ براہوی زبان کے معروف شاعر، ادیب اور دانشور ڈاکٹر عبدالرحمان براہوی اپنی علالت کے باعث شریک نہ ہو سکے۔تقریب کی اعزازی مہمان محترمہ نوشین افتخار، چیئرپرسن قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی، تھیں۔

اکادمی ادبیات پاکستان کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اپنے افتتاحی خطاب میں تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور اپنی تین سالہ کارکردگی کا اجمالی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’نسلِ نو‘‘ کا یہ مسلسل تیسرا میلہ محض وقت گزاری یا تفریح کی تقریب نہیں بلکہ نئی نسل کے تخلیقی جوہر کے اظہار، فکری مکالمے اور ادبی تشکیل کی ایک شعوری کوشش ہے۔ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کہا کہ اس میلے میں شریک نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنے ذاتی خرچ اور وسائل سے پاکستان کے دور دراز علاقوں سے یہاں پہنچے ہیں۔ میلے کے دوران انہیں وقت ضائع کرنے کا موقع نہیں ملتا بلکہ وہ مسلسل مکالمے، گفتگو اور علمی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ اس مکالمے کے ذریعے ان میں باہمی ہم آہنگی اور فکری اشتراک پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے اکادمی کی پچاس سالہ کارکردگی اور اپنی تین سالہ مدت کے دوران کیے گئے کاموں کا بھی ذکر کیا۔ ان میں غیر رسمی ہفتہ وار پروگرام ’’چائے، باتیں اور کتابیں‘‘، ’’نسلِ نو‘‘، 18 سے 50 سال تک کے شعراء و ادباء کے لیے دس روزہ رہائشی پروگرام، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور چاروں صوبوں میں ادبی کانفرنسیں شامل تھیں، جن میں متعلقہ علاقوں میں بولی جانے والی مختلف زبانوں کے شعراء اور ادباء کو شرکت کا موقع دیا گیا۔ڈاکٹر نجیبہ عارف نے بتایا کہ جب انہوں نے اکادمی کی ذمہ داری سنبھالی تو گزشتہ سات برس کے کمالِ فن ایوارڈز اور کتابوں کے ایوارڈز بھی زیرِ التوا تھے۔ انہوں نے چار روزہ تقریب میں ان ایوارڈز کا اجرا کیا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کی عمارت میں پاکستان کی 76 زبانوں کا عجائب گھر قائم کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے لیے لوگوں نے بعض اشیاء عطیہ کیں اور اکادمی نے بہت سی اشیاء خریدیں۔ اسی طرح دو مزید ایوارڈز کا اضافہ کیا گیا۔ اردو میں تخلیقی اور غیر تخلیقی ادب کے لیے سعادت حسن منٹو ایوارڈ کے علاوہ گزشتہ دو برس سے غیر تخلیقی ادب کے لیے مشتاق یوسفی ایوارڈ شروع کیا گیا، جبکہ گلگت بلتستان کی زبانوں کے لیے بھی ایک نیا ایوارڈ شامل کیا گیا۔اکادمی کی عمارت میں لفٹ نصب کی گئی اور شیخ ایاز کانفرنس ہال کی تزئین و آرائش بھی کی گئی۔ڈاکٹر نجیبہ عارف نے نوجوانوں سے کہا کہ آپ سب علم حاصل کرنے کے لیے دور دراز علاقوں سے آئے ہیں، اس لیے اپنے وقت کو قیمتی بنائیں۔ جو نوجوان بہترین کارکردگی دکھائیں گے، اکادمی انہیں ایوارڈ سے نوازے گی۔انہوں نے ملک بھر کے شعراء، ادباء، اکادمی ادبیات پاکستان کے افسران و کارکنان، بورڈ آف گورنرز کے ارکان، وزارتِ تاریخ، ثقافت و قومی ورثہ کے افسران، خصوصاً وفاقی سیکرٹری اسد رحمان گیلانی اور وفاقی وزیر جناب اورنگزیب خان کچھی کی بھرپور معاونت اور تعاون پر شکریہ ادا کیا.معروف شاعر افتخار عارف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’نسلِ نو‘‘ میلہ محض ایک رسمی ادبی سرگرمی نہیں بلکہ تخلیق، فکر اور مکالمے کی ایک بامقصد اور دل چسپ کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف خود شاعرہ، ادیبہ، محققہ اور نقاد ہیں، لیکن ان کی انتظامی صلاحیتیں بھی قابلِ تحسین ہیں۔ ان کی قیادت میں اکادمی نے اتنا کام کیا ہے کہ اگر ہم اس کا دنیا کی دیگر ادبی اکیڈمیوں سے تقابل کریں تو یہ کارکردگی یقیناً قابلِ قدر اور قابلِ ستائش ہے۔معروف شاعر اور کالم نگار عطا الحق قاسمی اور اعزازی مہمان محترمہ نوشین افتخار، چیئرپرسن قائمہ کمیٹی، نے بھی ڈاکٹر نجیبہ عارف کی کارکردگی اور کاوشوں کو سراہا اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔وفاقی وزیر جناب اورنگزیب خان کچھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوان، خصوصاً نوجوان خواتین، قوم کا روشن مستقبل ہیں اور اس بات کا عملی ثبوت اکادمی ادبیات پاکستان کا یہ ’’نسلِ نو‘‘ میلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت شعراء، ادباء کی فلاح و بہبود اور ادب کے فروغ کے لیے سنجیدہ ہے، کیونکہ شاعر، ادیب اور دانشور معاشرے کی تہذیبی ترقی اور فکری رہنمائی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے اکادمی کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف کی کارکردگی کو قابلِ قدر اور قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے خواہش ظاہر کی کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف آئندہ تین برس کے لیے بھی یہ ذمہ داری قبول کریں اور ادب کے فروغ کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔اس موقع پر وزیر موصوف نے نوجوانوں کے ساتھ اپنے طالب علمی کے زمانے کی یادیں بھی شیئر کیں اور کہا کہ ادب کے فروغ کے لیے وہ ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر جناب اورنگزیب خان کچھی اور اعزازی مہمان محترمہ نوشین افتخار نے انتہائی احترام کے ساتھ کمالِ فن ایوارڈ 2023ء جناب افتخار عارف، کمالِ فن ایوارڈ 2024ء جناب عطا الحق قاسمی اور کمالِ فن ایوارڈ 2025ء بلوچستان کے براہوی زبان کے عظیم شاعر، ادیب اور دانشور ڈاکٹر عبدالرحمان براہوی کو دیا۔ ڈاکٹر صاحب کی عدم موجودگی میں یہ ایوارڈ معروف بلوچ شاعر، ادیب، محقق اور نقاد جناب پنا بلوچ نے ان کی نمائندگی کرتے ہوئے وصول کیا۔اس موقع پر جناب اسفندیار خٹک نے قومی ترانے کے ساتھ رقص کرکے حاضرین کو محظوظ کیا۔ بعد ازاں شعراء، ادباء اور ’’نسلِ نو‘‘ کے نوجوانوں نے اجتماعی تصاویر بنوائیں۔

یہ تیسرا ’’نسلِ نو‘‘ میلہ یقیناً اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس نے پاکستان کے مختلف علاقوں، زبانوں اور فکری پس منظر رکھنے والے نوجوانوں کو ایک جگہ جمع کرکے انہیں مکالمے، مطالعے، تخلیق اور ادبی تربیت کا موقع فراہم کیا۔ اس نوعیت کی سرگرمیاں نئی نسل کو کتاب، ادب، فکر اور تہذیب سے جوڑنے کے لیے نہایت ضروری ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے