میں گزشتہ ہفتےاورینٹل کالج کے مین گیٹ سے کالج میں داخل ہوا تو میری نظروں میں 1964ء کے وہ لمحات گھوم گئے جب میں ایم اے اُردو میں داخلہ لینے کیلئے اس دروازے سے کالج میں داخل ہو رہا تھا ۔ وہی سرخ اینٹوں سے بنی ہوئی سوا سو سال پرانی عمارت ، وہی اس کا لان اور ویسے ہی اس کے کلاس روم ، میرے اساتذہ میں ڈاکٹر سید عبد الله ، سید وقار عظیم ، ڈاکٹر وحید قریشی ، ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار ، سجاد باقر رضوی، ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی اور ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا شامل تھے۔ میرے ذہن کی سکرین پر ایک پرانی بلیک اینڈ وائٹ فلم چلنے لگتی ہے۔ کالج کے لان میں ٹینٹ لگا ہوا ہے ڈاکٹر سید عبداللہ کا لیکچر سننے کیلئے تقریباً ڈیڑھ سو طلباء و طالبات ہمہ تن گوش ہیں۔ دراز قد ڈاکٹر صاحب کانوں میں آلہ سماعت لگائے سحر انگیز انداز میں گفتگو کر رہے ہیں۔ اگر کوئی طالبہ یا طالب علم سوال کرتا ہے اور ڈاکٹر صاحب کو اس کی آواز سنائی نہیں دیتی تو وہ مسکراتے ہوئے دھیمے انداز میں غالب کا یہ شعر پڑھنے لگتے ہیں :
بہرا ہوں میں تو چاہیے دُونا ہو التفات
سنتا نہیں ہوں بات مکرر کہے بغیر
پیریڈ ایک گھنٹے کا ہے لیکن اُستاد کی گفتگو کا انداز کچھ ایسا پرکشش ہے کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ پھر میں دو دو تین تین سیٹرھیاں پھلانگتا ہوا ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار کا لیکچر اٹینڈ کرنے کیلئے کالج کی بالائی منزل پر پہنچتا ہوں ۔ ڈاکٹر صاحب نظریں جھکائے اپنے سامنے دھری نوٹ بک میں سے نوٹس لکھوارہے ہیں جن کی علمی اور تعلیمی افادیت کے علاوہ اس کی اہمیت سے صرف وہی طلبہ واقف تھے جو اپنی کسی کلاس فیلو سے نوٹس ایکسچینج کرنے کے بہانے اس سے ہم کلام ہوتے تھے۔ یہاں سے میں دھان پان سے سید وقار عظیم کی کلاس میں داخل ہوتا ہوں، اچکن پائجامہ اور گلے میں مفلر سید صاحب کی پہچان بن چکے ہیں۔ میرے دل میں اقبال کیلئے محبت کی شمع سید صاحب ہی نے جلائی تھی ۔ ڈاکٹر وحید قریشی عظیم الجثہ ، زبردست محقق اور اس کے ساتھ ساتھ بذلہ سنجی میں بھی یکتا ، لیکچر کے دوران ان کی آواز اتنی بلند ہوتی تھی کہ میں اکثر نیچے لان میں برگد کے درخت تلے بیٹھا اس سے مستفید ہوا کرتا تھا۔ ڈاکٹر وحید قریشی اور سید وقار عظیم میں ” معاصرانہ چشمک“جاری و ساری رہتی تھی ۔ ایک دن ڈاکٹر سید عبداللہ نے ڈاکٹر وحید قریشی کو مخاطب کیا اور اپنے مخصوص دھیمے انداز میں کہا ” ڈاکٹر صاحب آپ کیا سید وقار عظیم کے پیچھے پڑے رہتے ہیں کسی روز لغزش پا کو بہانہ بنا کر دبلے پتلے سید وقار عظیم پر گر جائیں۔ آپ کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہو جائے گا۔“
ان لمحوں میں میں خود کو ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی ، ڈاکٹر خواجہ زکریا اور پروفیسر سجاد باقر رضوی کے سامنے بھی زانوئے تلمذ تہ کیے پاتا ہوں اور کتنی ہی خوشگوار یادیں میرا پیچھا کرنے لگتی ہیں ۔ کلاس روم میں پردے کا معقول انتظام ہے، لڑکوں اور لڑکیوں کو لکڑی کی پارٹیشن کے ذریعے ایک دوسرے سے دور رکھنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ ایک استاد محترم کو جو ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں اپنی عمر کم ظاہر کرنے کا شوق ہے۔ چنانچہ وہ ہماری کلاس فیلوز کو بیٹی کی بجائے بہن کے درجے پر رکھا کرتے تھے۔ ایک دن لڑکوں کو کسی بات پر ڈانتے ہوئے کہا”کچھ شرم کرو، یہاں میری بہنیں بھی بیٹھی ہوئی ہیں۔“ اس پر ایک کونے سے آواز آئی ”سر! اگر یہ آپ کی بہنیں ہیں تو ہماری تو پھر یہ پھوپھیاں ہی لگیں،“۔ہماری کلاس میں ستر اسی فیصد لڑکیاں تھیں، باقی لڑکے تھے۔
چنانچہ تانگے والے ہمارے کالج کو کڑیاں دا کالج کہتے تھے۔ میں ان دنوں پڑھائی میں کم دلچسپی لیتا تھا اور ہجو گوئی زیادہ کیا کرتا تھا اور اس کے پیچھے کوئی بد نیتی نہیں ہوتی تھی بلکہ اس کا مقصد صرف چھیڑ چھاڑ تھا۔ بیٹھے بٹھائے اس نوع کے تیس چالیس شعر کہنا میرے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ میرا اس زمانے کا ہجویہ کلام پنجاب یونیورسٹی میں نہیں بلکہ پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں میں وائرس کی طرح پھیل جاتا تھا۔ سینیٹر پرویز رشید جو اُن دنوں گورڈن کالج راولپنڈی میں زیر تعلیم تھے، میرے اس نوع کے کلام ہی کے حوالے سے مجھ سے متعارف ہوئے تھے۔ چنانچہ میں کالج میں گھوم رہا ہوں اور اپنی ہجویات مجھے یاد آ رہی ہیں اور میرے چہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ مجھے امجد اسلام امجد اور گلزار وفا چودھری ( مرحوم ) بھی یاد آتے ہیں کہ اس کار خیر میں وہ بھی پورے جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوتے تھے۔
میں ڈاکٹر خواجہ سعید کی کلاس میں ان کی گپ شپ سے مستفید ہو کر نیچے لان کی طرف آرہا ہوں ، سیڑھیوں میں دو برقع پوش لڑکیاں جن کے چہرے کھلے ہیں ، میرا راستہ روک لیتی ہیں۔ میں اب ایم اے کے سال دوم میں ہوں ، وہ سال اول کی طالبہ ہیں۔ وہ مجھ سے پوچھ رہی ہیں کہ یونیورسٹی میگزین ”محور“جس کا میں ایڈیٹر ہوں کب شائع ہو جائیگا۔ میں جواب دیتا ہوں جب آپ چاہیں گی وہ پوچھتی ہیں ”کیا مطلب؟“ میں کہتا ہوں میگزین تیار ہے صرف پروف ریڈنگ باقی ہے۔ آپ اگر میرا ہاتھ بٹاتی ہیں تو میگزین جلدی شائع ہو جائے گا ۔ اس کے بعد ہم تینوں یونیورسٹی لائبریری میں روزانہ پروف ریڈنگ کیلئے جمع ہونے لگتے ہیں، کچھ عرصے بعد ہم دو رہ جاتے ہیں کہ تیسرا پارٹنر اپنی تعلیم پر زیادہ توجہ دینے لگا ہے۔ تاہم اس تعاون کے نتیجے میں میگزین مزید لیٹ ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے بعد ہمارا زیادہ وقت علمی مباحثوں میں صرف ہونے لگا ہے۔
اب میں 66-1964 ءسے واپس آ جاتا ہوں کیونکہ تحسین فراقی میرے شانوں کو جھنجھوڑتے ہوئے کہتے ہیں اب واپس آ جائیے اور پنڈال میں چلیں کیونکہ آل پاکستان مشاعرہ شروع ہونے والا ہے جو 45برس بعد میرے اور آپ کےکالج میں منعقد ہو رہا ہے ؟ اور میں روشنیوں سے بقعہ نور بنے ہوئے پنڈال میں داخل ہو جاتا ہوں جہاں اب برگد کا درخت نہیں ہے جس کے سائے میں میں نے اپنی زندگی کے دو خوبصورت سال گزارے تھے لیکن میرے سامنے سینکڑوں کی تعداد میں ہر قسم کے تفکرات سے آزاد ویسے ہی ہنستے مسکراتے طلباء و طالبات موجود ہیں جیسے میرے زمانہ طالب علمی میں تھے۔ ایک بائیس سالہ شوخ و شنگ سا لڑ کا شاعروں کو اُچھل اُچھل کر داد دے رہا ہے، میں اسے پہچاننے کی کوشش کرتا ہوں اور بالآ خر پہچان لیتا ہوں۔ یہ میں ہوں۔
بشکریہ جنگ