مزید حماقتیں

اسکول کے زمانے میں شفیق الرحمان میرے پسندیدہ رائٹر تھے۔ میرے اسکول بیگ میں اُن کی کوئی نہ کوئی کتاب موجود رہتی۔ جب میں اُن کی کتاب پڑھ لیتا تو پھر وہی کتاب مختلف کلاس فیلوز میں گھومتی رہتی اور کچھ دن بعد میرے پاس واپس آجاتی۔ شفیق الرحمان صرف ایک مزاح نگار نہیں بلکہ ڈاکٹر بھی تھے۔ ڈاکٹر بھی وہ جسکی ساری عمر فوج میں گزری۔ اُنکی ہنستی مسکراتی کہانیوں کا ایک مجموعہ ’’حماقتیں‘‘ کے نام سے بڑا مقبول ہوا۔ ’’حماقتیں‘‘ کے بعد اُنکی ایک اور کتاب آئی جس کا نام ’’مزید حماقتیں‘‘ تھا۔ ان کتابوں میں انہوں نے کچھ ایسے احمقوں کو موضوع سخن بنایا جو اپنے آپ کو بڑا عقل مند سمجھتے تھے۔

چند دنوں سے مجھے شفیق الرحمان کی یہ دونوں کتابیں ’’حماقتیں‘‘ اور ’’مزید حماقتیں‘‘بہت یاد آ رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک تین رکنی بینچ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا۔ عدالتی حکم سامنے آیا تو حکومت کے کچھ سینئر وزراء نے اس فیصلے کو بڑا متوازن قرار دیتے ہوئے اس پر فوری عملدرآمد کا اعلان کر دیا۔

کچھ ہی گھنٹے گزرنے کے بعد وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ میڈیا پر نمودار ہوئے اور انہوں نے بڑے طمطراق سے اس فیصلے کیخلاف نظرثانی کی اپیل دائر کرنے کا اعلان کر دیا۔ تارڑ صاحب کے اعلان نے اُنکے اپنے ہی کچھ ساتھی وزراء کو پریشان کر دیا۔ اس اعلان سے اگلے دن سپریم کورٹ میں نظرثانی کی اپیل دائر کر دی گئی، لیکن اس درخواست کو تکنیکی وجوہات کی بنا پر ناقابلِ سماعت قرار دیکر واپس کر دیاگیا۔

اب حکومت نے ہر حالت میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرنا تھا۔ جمعرات کو عمران خان کو اڈیالہ جیل سےشفا اسپتال لایا جانا تھا لیکن انہیں پمز پہنچا دیاگیا۔ رات بارہ بجے سے صبح فجر تک اُنہیں پمز میں ہی رکھا گیا اور پھر واپس اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔ یہ عجب طبی معائنہ تھا جس کیلئے تہجد کا وقت چنا گیا۔

حکومت کا مؤقف تھا کہ شفا کے باہر ہجوم اکٹھا ہو گیا تھا اسلئے عمران خان کو پمز بھیجا گیا۔ سوال یہ ہے کہ پھر خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو کس نے شفا میں بٹھائے رکھا؟ میں نے حکومت کے ایک وزیر سے پوچھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ اُنہوں نے کہا کہ پہلے سپریم کورٹ کے فیصلے نے ہمارے لئے پریشانیاں پیدا کیں اور اب اس فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے سے مزید پریشانیاں پیدا ہو رہی ہیں۔

’’مزید پریشانیاں‘‘ کے الفاظ سن کر مجھے ’’مزید حماقتیں‘‘یاد آ گئی۔ پاکستان کی موجودہ سیاست اور شفیق الرحمان کی کتاب ’’مزید حماقتیں‘‘ کا بظاہر آپس میں کوئی تعلق نظر نہیں آتا، لیکن یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان کی سیاست پر کبھی کبھی احمقوں کی جنت کا گمان ہوتاہے۔ اس جنت کے بعض احمق ترین مکین اپنے آپ کو سب سے زیادہ عقل مند سمجھتے ہیں۔

احمق ہونا کوئی بری بات نہیں کیونکہ حماقتیں تو کبھی کبھی ہم جیسے عقلمندوں سے بھی سرزد ہو جایا کرتی ہیں۔لیکن ایک آدھ حماقت کے بعد ’’مزید حماقتیں‘‘باعث تشویش ہونی چاہئیں ۔

ہندوستان میں اردو کے ایک مزاحیہ شاعر احمق پھپھوندوی گزرے ہیں۔ اُنکا اصل نام محمد مصطفیٰ خان تھا۔ وہ اُتر پردیش کے قصبے پھپھوند میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے احمق کا تخلص اختیار کر کے ہندوستان پر قابض برطانوی حکومت پر طنز کے تیر برسانے شروع کیے تو گرفتار کر لئے گئے۔ دورانِ قید انہوں نے جو لکھا وہ ’’زندانِ حماقت‘‘کے نام سے شائع ہوا۔

اس مجموعہ کلام کو پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ وہ صرف نام کے احمق تھے، حقیقت میں بہت بڑے ادیب اور حریت پسند تھے۔ ایک دفعہ کسی مشاعرے میں بلائے گئے۔ وہاں کچھ ناپسندیدہ شاعروں کو دیکھ کر فرمایا:

ادب نوازی اہلِ ادب کا کیا کہنا

مشاعروں میں آجکل احمق بلائے جاتے ہیں

آج احمق پھپھوندوی زندہ ہوتے تو اڈیالہ جیل کے ’’زندان حماقت‘‘ میں وقت گزارنے کے باوجود ’’مزید حماقتیں‘‘ کرنیوالے کئی سیاسی کرداروں پر لازوال نظمیں لکھتے۔

ہمارے اہلِ سیاست نے عدالتوں سے بہت زخم کھائے ہیں، ان زخموں کے باوجود یہ اپنی سیاسی لڑائیوں کو بار بار گھسیٹ کر عدالتوں میں لے جاتے ہیں اور جب فیصلہ مرضی کا نہ ملے تو ججوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ ہر حکومت ان عدالتوں کو فتح کرنے کے خواب دیکھتی ہے۔

کبھی سپریم کورٹ پر حملہ کر دیتی ہے کبھی آئینی ترامیم سے اپنے خواب کی تعبیر حاصل کرنے کی سعی کرتی ہے۔ اس خواب کے پیچھے دوڑنے والے کئی حکمران اقتدار کے گھوڑےسے گر کر اپنی ہڈیاں تڑوا چکے لیکن اپنی پرانی حماقتوں سے سبق سیکھنا ’’توہینِ سیاست‘‘ سمجھتے ہیں۔

’’توہینِ سیاست‘‘ کی پاکستان میں کوئی سزا نہیں لیکن ’’توہینِ عدالت‘‘پر تو حکومت سے ہاتھ بھی دھونے پڑ جاتے ہیں۔ شہباز حکومت نے اپنی نظر ثانی اپیل دوبارہ دائر کر دی ہے۔ جبکہ عمران خان کے بارے میں سپریم کورٹ کےفیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے بعد تحریکِ انصاف نے وزیراعظم شہباز شریف، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ سمیت کچھ سرکاری افسران کیخلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی ہے۔

تحریکِ انصاف کے وکلاء نے اس درخواست میں وزیر داخلہ محسن نقوی کو فریق نہ بنا کر مسلم لیگ (ن) والوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اس پریشانی میں مسلم لیگ (ن) کے کچھ حامی سوشل میڈیا پر اتنی زیادہ چیخ و پکار کر رہے ہیں کہ اُن پر ترس آتا ہے۔

تحریکِ انصاف کے وکلاء نے واضح کر دیا ہے کہ محسن نقوی کو فریق نہ بنانے کی وجہ سپریم کورٹ کی طرف سے یوسف رضا گیلانی کیس کا فیصلہ ہے، جس میں لکھا گیا تھا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے کا ذمہ دار وزیراعظم ہوتا ہے، دوسری وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ وزیرِ قانون اور وزیرِ اطلاعات نے سپریم کورٹ کے فیصلےپر میڈیا میں متنازعہ بیانات دیئے۔ محسن نقوی نے ایساکوئی بیان نہیں دیا۔

میری اطلاع کے مطابق عمران خان کو اسپتال لانے کا معاملہ بیرسٹر گوہر خان اور محسن نقوی کے درمیان سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل بھی زیرِ بحث تھا۔ عدالتی فیصلے کے بعدمحسن نقوی نے بیرسٹر گوہر خان کو یقین دلایا تھا کہ فیصلے پر عملدرآمد ضرور ہوگا لیکن اعظم نذیر تارڑ کے بیان نے یہ پیغام دیا کہ تختِ لاہور اس عدالتی فیصلے سے خوش نہیں۔

تحریک انصاف نے محسن نقوی کو توہینِ عدالت کا ملزم نہ بنا کر عقل مندی دکھائی ہے، سلمان اکرم راجہ کے بیان کردہ قانونی نکتے اپنی جگہ لیکن اچھی بات ہے کہ تحریک انصاف حکومت کی حماقتوں کا جواب مزید حماقتوں سے نہیں دینا چاہتی۔

محسن نقوی مسلم لیگ ن کے نمائندے نہیں ہیں۔ وہ جنکی نمائندگی کرتے ہیں تحریک انصاف اُن سے نہیں ٹکرانا چاہتی کیونکہ ماضی میں تحریک انصاف کی ریاستی اداروں سے محاذآرائی کا فائدہ مسلم لیگ ن کو ہوا۔

تحریک انصاف کو محمود خان اچکزئی، راجہ ناصر عباس، مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو زرداری نے بھی یہی مشورہ دیا ہے کہ لڑائی صرف مسلم لیگ (ن) سے کرو ،اداروں سے مت لڑو۔

مسلم لیگ (ن) کی حماقتیں اورپھر مزید حماقتیں مولانا فضل الرحمان کے بعد بلاول کو بھی تحریکِ انصاف کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ پنجاب حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت تین ماہ کیلئے راولپنڈی میں فوج تعینات کر دی ہے۔

اس فیصلے کے بعد سمجھ آتی ہے کہ اپوزیشن کا ریاستی اداروں سے محاذآرائی نہ کرنے کا فیصلہ کتنا اہم ہے۔ اگلے دس پندرہ دن میں عمران خان کو جیل سے اسپتال نہ لایا گیا تو شہباز شریف کی حکومت کیلئے پریشانیاں بڑھ جائیں گی۔

مسلم لیگ ن کو چاہئے کہ اپوزیشن کا مقابلہ سیاسی انداز میں کرے اور اداروں کو سیاست میں نہ گھسیٹے۔ اگر اپوزیشن نے ریاستی اداروں سے ٹکرانے کی بجائے صرف مسلم لیگ (ن) سے ٹکرانے کی پالیسی پر جمہوری اور آئینی طریقے سے عمل کیا تو اس حکومت کی ’’مزید حماقتیں‘‘جاری رہیں گی اور کسی نہ کسی کے زوال کا باعث بن کر اسے پھر سے ’’زندان حماقت‘‘ میں پہنچا دیںگی۔ بہتر ہے ’’مزید حماقتیں‘‘ مت کریں۔

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے