اگست کے آغاز میں کراچی کے قیوم آباد سے ڈیڑھ سالہ بچی ایزل جنسی زیادتی کے بعد شدید زخمی حالت میں اسپتال پہنچائی گئی، جہاں وہ زندگی کی بازی ہار گئی۔ پولیس نے ایک 17 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کیا۔
ذرا سوچئے… صرف ڈیڑھ سال! چلیں آگے چلتے ہیں۔۔
لاہور کے غازی آباد پولیس اسٹیشن سے ایک ایسا الزام سامنے آیا جس نے ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو ہلا دیا۔ تقریباً 19 سے 20 سالہ ایک ذہنی معذوری رکھنے والی خاتون نے الزام لگایا کہ ایک ASI اسے پولیس اسٹیشن لے گیا اور وہاں مبینہ طور پر زیادتی کی، مقدمہ درج ہوا۔گرفتاری ہوئی۔ عدالتی جسمانی ریمانڈ ہوا۔فرانزک شواہد بھی اکھٹے کیے گئے۔
زرا سوچئے۔۔۔پولیسں اسٹیشن
چلیں آگے چلتے ہیں ۔۔
لاہور کے ٹاؤن شپ پولیس اسٹیشن میں امینہ اور انمول نامی دو نوجوان خواتین کو مبینہ چوری کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ چند گھنٹوں بعد دونوں کی موت ہو گئی۔ پولیس نے ابتدائی طور پر طبی وجہ، خصوصاً cardiac arrest، کی بات کی۔ جب ریاست کسی شخص کو اپنی حراست میں لیتی ہے تو اس شخص کی حفاظت بھی ریاست کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔
ریاست کے کارناموں پر پھر کبھی بات ہو گی
آگے چلتے ہیں ۔۔ پھر آتا ہے 14 اگست، جشنِ آزادی مبارک
اسی روز ٹیکسلا میں 28 سالہ شمسو بی بی، جو سوشل میڈیا پر عائشہ گلمانہ کے نام سے معروف تھیں، فائرنگ کا نشانہ بن گئیں۔ وہ اپنے بھائی اور 15 سالہ بہن عاصمہ کے ساتھ گاڑی میں سفر کر رہی تھیں جب موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے فائرنگ کی۔ عائشہ جاں بحق ہو گئیں۔ وہی سب مقدمہ درج ہوا، تین افراد کو حراست میں لیا۔ تفتیش ہوئی ۔
زرا سوچئے۔۔۔جشنِ آزادی مبارک
چلیں آگے چلتے ہیں۔۔
راولپنڈی میں حنا جاوید کی موت نے ایک بار پھر گھریلو تشدد کے خوفناک پہلو کو سامنے لا دیا۔ رپورٹس کے مطابق حنا اپنے گھر کے باتھ روم میں مردہ پائی گئیں۔ FIR میں ان کے ہاتھ پیچھے بندھے ہونے اور منہ پر کپڑا ہونے کا ذکر کیا گیا۔ وہی سب مقدمہ درج ہوا، شوہر اور ملازم گرفتار ہوئے،تفتیش ہوئی، DNA اور فرانزک شواہد اکھٹے کیے۔
زرا سوچئے۔۔۔ مجازی خدا
چلیں آگے چلتے ہیں۔۔
ہریپور ہزارہ کی تاریخ کا وہ دلخراش واقعہ جس سے ہر آنکھ اشک بار ہے۔ پانچ سالہ آیت نور کی لاش برآمد ہوتے ہی پورا ہزارہ غم کی سوگوار فضا میں ڈوب گیا۔ ایک ایسی بچی جو چند روز پہلے تک اپنے گھر میں ہنستی، کھیلتی تھی، آج کنویں سے لاش برآمد ہوئی ہے ۔ لیکن اس سانحے کا سب سے زیادہ دل چیر دینے والا پہلو شاید آیت کے والد کے وہ الفاظ ہیں جو اس سانحے کے دوران سامنے آئے۔ وہ ملزمان کے بارے میں یہ کہتے رہے کہ انہیں ان سے کوئی گلہ شکوہ نہیں، وہ ان کے بھائی ہیں، وہ صرف اپنی بیٹی واپس چاہتے ہیں۔
زرا سوچئے…
ایک باپ جس کی بیٹی کئی دن سے لاپتا ہے، وہ غصے اور انتقام کی بات نہیں کرتا، وہ یہ نہیں کہتا کہ مجھے بدلہ چاہیے۔ وہ صرف کہتا ہے۔۔میری بیٹی واپس کر دو۔
ایزل، آیت نور، امینہ،انمول،عائشہ گلمانہ، حنا جاوید اور وہ تمام بچیاں اور عورتیں جن کے نام اخبارات کی سرخیوں تک بھی نہیں پہنچتے۔ یہ صرف نام نہیں۔ یہ گھر ہیں، یہ خاندان ہیں، یہ مائیں ہیں، بیٹیاں ہیں، یہ بہنیں ہیں۔ یہ کسی کے خواب ہیں۔ اور جب ان میں سے کوئی ایک دنیا سے چلی جاتی ہے تو صرف ایک انسان نہیں مرتا، ایک پورا خاندان دفن ہو جاتا ہے۔
ہم نے جشنِ آزادی منانے کے لیے چراغ تو جلا لیے، مگر اپنے گھروں، گلیوں اور اداروں میں جلتے ہوئے انسانیت کے چراغ بجھتے دیکھتے رہے۔ شاید ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ظلم ہو رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ظلم کے بعد ہم چند دن افسوس کرتے ہیں، چند دن شور مچاتے ہیں، اور پھر اگلی خبر کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔ زرا سوچئے۔۔۔ ماہ اگست کے پانچ دن باقی ہیں ۔