معصومیت کا قتلِ عام، ڈیجیٹل وحشت اور ہماری اجتماعی ذمہ داری

ایک دن قبل ہری پور کی چار سالہ بچی آیت نور کو جب ایک گہرے کنویں سے نکالتے دیکھا، تو روح تک کانپ گئی۔ جسے مبینہ طور پر جنسی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد بوری میں بند کر کے کنویں میں پھینک دیا گیا اور اوپر لکڑیاں ڈال دی گئیں۔ اس دردناک منظر سے پہلے اسی بچی کے والد کی وہ ویڈیو نظر سے گزری تھی جس میں وہ ہاتھ جوڑ کر، بلک بلک کر فریاد کر رہا تھا کہ "میری بچی کو باعزت اور بحفاظت مجھ تک پہنچا دو، گیارہ بارہ دن سے نیند نہیں آئی”۔ پھر اسی باپ کو اپنی ننھی بیٹی کے جنازے پر اس قدر شکستہ اور نڈھال دیکھا کہ جیسے دل پھٹ کر رہ گیا۔

​ابھی چند روز پہلے ہی ڈیڑھ سالہ ایزل کے بارے میں پڑھا تھا، جسے مبینہ طور پر اپنے ہی سترہ سالہ رشتہ دار نے جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا۔ پھر اس کی ماں کو بچی کی قبر پر فیڈر لیے بلکتے دیکھا۔ ایسے مناظر صرف ذہن یا حافظے میں محفوظ نہیں رہتے، یہ دل میں خنجر کی طرح پیوست ہو جاتے ہیں اور ان کے لگائے ہوئے زخم مدتوں رستے رہتے ہیں۔ یہ واقعات صرف دو بچوں کی کہانی نہیں ہیں، بلکہ یہ ہمارے معاشرے کی اس عمیق تاریکی کا بگل ہیں جو روز بروز ہماری معصوم نسلوں کو نگل رہی ہے۔

خاموشی بھی بے حسی کی ایک صورت ہے

​میں ایک عرصے سے ایسے المناک واقعات پر لکھنے سے گریز کرتی رہی کہ آئے روز کسی بچے کے اغوا، جنسی تشدد، قتل یا بوری بند لاش کی خبر ذہن و دل کو فلج اور مضمحل کر دیتی ہے۔ مگر اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ اپنے ذہنی سکون کی خاطر اس مسلسل بربریت سے نظریں چرا لینا بھی بے حسی کی ہی ایک خطرناک صورت ہے۔ سو اگر رونا آتا ہے تو رو لیجیے، نیند اڑتی ہے تو اڑنے دیجیے، دل بوجھل ہوتا ہے تو ہونے دیجیے، مگر بات کیجیے۔ اور محض بات نہیں، اس بربریت کی روک تھام کے لیے معلومات پھیلائیے، قانون سمجھیے، دوسروں کو بتائیے اور یہ سب ہنگامی بنیادوں پر کیجیے۔ اسی امید کے ساتھ یہ تحریر لکھ رہی ہوں کہ شاید کسی ایک بچے تک پہنچنے سے پہلے کسی درندے کا ہاتھ روکا جا سکے۔

​بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کو محض چند درندہ صفت افراد کی انفرادی بربریت سمجھنا ہی وہ بنیادی غلطی ہے جس کی وجہ سے ہم اصل اسباب تک نہیں پہنچ پاتے۔ ہماری توجہ عموماً جرم کے بعد دی جانے والی سخت سزاؤں پر مرکوز رہتی ہے، جو بلاشبہ ضروری ہیں، مگر جرم کے وقوع سے پہلے اس کی روک تھام، اس کے پسِ پردہ سماجی رویوں اور اس ماحول پر بہت کم گفتگو ہوتی ہے جو ایسے جرائم کو پنپنے کی گنجائش دیتا ہے۔ اتنی کثرت سے رونما ہونے والی وحشت کبھی خلا میں پیدا نہیں ہوتی؛ اس کے پس منظر میں ایک خاموش قبولیت، ناقص تعلیمی و اخلاقی تربیت اور ایک وسیع ڈیجیٹل دنیا کارفرما ہے جو جرم کی قباحت کو آہستہ آہستہ ماند کر دیتی ہے۔

​ڈیجیٹل دلدل اور تلخ حقیقت

​پاکستان میں بچوں کے جنسی استحصال پر مشتمل مواد، جسے درست اصطلاح میں Child Sexual Abuse Material (CSAM) کہا جاتا ہے، مختلف واٹس ایپ گروپس، ٹیلی گرام چینلز اور پرائیویٹ چیٹس میں باقاعدہ مانگا، جمع اور منتقل کیا جاتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ ہولناک بات یہ ہے کہ اسے محض "porn” کہہ دیا جاتا ہے، گویا یہ کوئی عام جنسی مواد ہو! حالانکہ یہ کسی معصوم بچے پر گزرنے والے حقیقی ظلم، خوف، چیخوں اور بے حرمتی کا محفوظ شدہ ثبوت ہے۔

​جب کسی بچے کی بےبسی ایک کلپ یا فائل بن کر ایک موبائل سے دوسرے موبائل میں گردش کرنے لگے، لوگ اسے مانگیں اور محفوظ کریں، تو معاملہ صرف ایک مجرم تک محدود نہیں رہتا۔ اس سے ایک ایسی متوازی دنیا بنتی ہے جہاں بچوں کا استحصال قابلِ دید اور قابلِ تبادلہ شے بن جاتا ہے۔ جو شخص CSAM دیکھتا، مانگتا یا آگے بھیجتا ہے، وہ محض ایک تماشائی نہیں بلکہ اس پوری مجرمانہ زنجیر کا حصہ ہے جو حقیقی بچوں پر ہونے والے مظالم کی طلب اور قبولیت کو بڑھاتا ہے۔ جب ہم اس مواد کو عام فحاشی کا نام دے کر ہلکا لیتے ہیں، تو ہم جانے ان جانے میں مجرموں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں اور ان معصوموں کی چیخوں پر خاموشی کا پردہ ڈال دیتے ہیں۔

​سماجی رویے اور بیداری کی اشد ضرورت

​ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم بچوں پر ہونے والے مظالم پر اس وقت تک خاموش رہتے ہیں جب تک وہ ہمارے اپنے گھر کی دہلیز تک نہ پہنچ جائیں۔ شرم، جھجک اور "لوگ کیا کہیں گے” کا خوف اکثر والدین کو پولیس یا اداروں کے پاس جانے سے روکتا ہے۔ یہی خاموشی درندوں کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ ہمیں اس سوچ کو یکسر بدلنا ہوگا۔ اگر کوئی بچہ کسی نامناسب رویے کی شکایت کرے تو اس کی بات کو نظر انداز کرنے یا اسے خاموش کرانے کے بجائے فوری کارروائی کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے محلے، اسکولوں اور آن لائن اسپیسز پر نظر رکھنی ہوگی تاکہ مجرموں کے لیے کہیں بھی چھپنے کی جگہ باقی نہ رہے۔

​قانون کیا کہتا ہے؟ (PECA Sections)

​یہ تمام افعال پاکستان کے Prevention of Electronic Crimes Act 2016 (PECA) کے تحت سنگین اور ناقابلِ ضمانت جرم ہیں:

​سیکشن 22: 18 سال سے کم عمر بچے کا sexually explicit material بنانا، پیش کرنا، منتقل کرنا یا اپنے پاس رکھنا جرم ہے۔ 2023 کی ترمیم کے بعد اس کی سزا 14 سے 20 سال قید اور کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانہ ہے۔

​سیکشن 22A (Online Grooming & Solicitation): کسی بچے کو آن لائن اعتماد میں لے کر جنسی گفتگو، تصاویر یا استحصالی مواد کی طرف مائل کرنا قابلِ سزا فعل ہے۔ اس کی سزا 5 سے 10 سال قید اور 5 لاکھ سے 1 کروڑ روپے جرمانہ ہے۔

​سیکشن 22C: آن لائن رابطے کے ذریعے بچے کو اغوا يا ٹریفک کر کے جنسی استحصال تک پہنچانے کی سزا 14 سے 20 سال قید اور کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانہ ہے۔

​قانون کے مطابق صرف متاثرہ خاندان ہی نہیں، بلکہ کوئی بھی باشعور شہری جس کے پاس معقول معلومات ہوں، وہ شکایت درج کروا سکتا ہے۔ اگر آپ کو کسی بھی واٹس ایپ گروپ یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایسا مواد نظر آئے تو اسے فوراً نوٹ کریں اور National Cyber Crime Investigation Agency (NCCIA) کی ہیلپ لائن 1799 یا ان کے پورٹل پر رپورٹ کریں۔

​عملی تدابیر اور ہماری خاندانی ذمہ داری

​قانون اور سزاؤں کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے گھر اور گلی محلے کے ماحول پر بھی کڑی نظر رکھنی ہوگی:

​نگرانی اور حفاظتی تدابیر:

گھروں کے باہر اور گلیوں میں CCTV کیمرے لازمی لگوائیں۔ گھر میں کام کرنے والے ملازمین کو نجی کمروں اور لیونگ رومز تک بلا ضرورت رسائی نہ دیں۔

​بچوں کی تربیت و دوستی:

بچوں کو ابتدائی عمر سے ہی ‘اچھے اور برے لمس’ (Good and Bad Touch) کا فرق سکھائیں۔ ان سے دوستانہ تعلق قائم رکھیں تاکہ وہ اپنے روزمرہ کے مسائل، اسکول وین کے ماحول اور دوستوں کی باتیں بغیر کسی خوف کے آپ سے شیئر کر سکیں۔

​ڈیجیٹل آلات کی حکمت سے چیکنگ:

بچوں کے موبائل، ٹیبلٹ اور گیجٹس کو وقفے وقفے سے چیک کرتے رہیں۔ لیکن یاد رہے کہ آج کا بچہ انتہائی حساس ہے؛ اگر اسے لگے کہ اس پر سخت پہرہ ہے تو وہ بغاوت یا چھپنے کی کوشش کرتا ہے۔ لہٰذا، نگرانی اس انداز میں کریں کہ اسے قید یا شک کا احساس نہ ہو۔

​عزتِ نفس اور صحت بخش زندگی:

بچپن سے بچے کی عزتِ نفس کا خیال رکھیں۔ اسے فاسٹ فوڈ اور غیر متوازن زندگی کی بجائے گھر کے صحت بخش ماحول اور مثبت سرگرمیوں سے جوڑیں۔

​اجتماعی بیداری اور قانونی آگاہی:

اپنے حلقہ احباب اور محلے میں PECA قوانین اور رپورٹنگ کے طریقوں کے بارے میں آگاہی پھیلائیں۔ سائبر کرائم اداروں اور مقامی پولیس کو بچوں کے تحفظ کے معاملے میں متحرک رکھیں۔

​بچوں کے تحفظ کا تقاضا صرف جرم کے بعد مجرم کے لیے پھانسی یا سخت سزا مانگنا نہیں، بلکہ اس جرم کے گرد پیدا ہونے والی قبولیت، طلب اور ترسیل کے پورے سلسلے کو جڑ سے کاٹنا ہے۔ اس تحریر کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیے، اس امید کے ساتھ کہ کسی ایک بچے تک پہنچنے سے پہلے کسی درندے کا ہاتھ روکا جا سکے!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے