محبت کا لفظ زبان پر آتے ہی ذہن کے افق پر دو دلوں کا ہم آہنگ نغمہ، بے چینی کی پراسرار لہریں اور اظہارِ محبت کی رنگین فسائیں ابھرنے لگتی ہیں۔ مگر محبت کی ایک اور ہیئت بھی ہے خاموش، بے غرض اور بے تکلف۔ یہ وہ محبت ہے جو نہ سینما کے پردے پر جلوہ فگن ہوتی ہے اور نہ شعر و ادب کے پیرایے میں مقید۔ اس میں ملکیت کی بے چینی نہیں ہوتی ہے صرف عطا کرنے کی سرمدی تسکین کارفرما رہتی ہے۔ یہ محبت غیر مشروط ہوتی ہے، جہاں محبوب کی مسرت ہی کائنات کی تمام معنویت بن جاتی ہے۔
محبت کا جوہرِ اعظم نہ ہی یہ کہ ہم کسی کو اپنے قبضۂ اختیار میں لانے کے لیے چالاکی کے حربے آزمائیں، یہ ہے کہ ہم اس کی شادمانی کے سائے میں اپنی روح کی تسکین پائیں، خواہ وہ شادمانی ہماری عدم موجودگی ہی میں کیوں نہ پروان چڑھے۔ یک طرفہ محبت میں جذبات کا برملا اظہار نہیں ہوتا ہے مگر اس کی گہرائی میں ایک ایسی پاکیزہ جلوہ گری مضمر ہوتی ہے جو قلب و نظر کو نورِ معرفت سے منور کر دیتی ہے۔ یہ محبت بے نیازی کے جامے میں ملبوس ہوتی ہے، جس میں صرف بخشش اور ایثار کا جذبہ رواں رہتا ہے۔
خاموش محبت انسان کو خودی کے تنگ دائروں سے نکال کر وسعتِ وجود سے ہم کنار کر دیتی ہے۔ ایسا عاشقِ صادق حوصلے کا پہاڑ، ہمت کا سمندر اور ہمدردی کا آفتاب ہوتا ہے۔ وہ مذہب و ملت کی تفریق، نسل و نسب کی دیواریں اور رنگ و روپ کے تمام امتیازات مٹا دیتا ہے۔ اس کی نگاہ میں دوسروں کی آنکھوں کی چمک ہی اس کے اپنے وجود کی روشنی ہوتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ حقیقی سرور حاصل کرنے میں نہیں ہےعطا کرنے کے لمحات میں پوشیدہ ہے۔
یہ محبت کبھی نہ پوری ہونے والی آرزو کی مانند بھی ہو سکتی ہے، مگر انسان کو نیست و نابود کرنے کے بجائے اس کے وجود کو سنوارتی اور نکھارتی ہے۔ یہ سکھاتی ہے کہ زندگی صرف اپنے لیے نہیں، دوسروں کے لیے بھی جینا ہے۔ خاموش رہنے والی محبت کی یہی خاموشی اس کا سب سے دلکش ترنم ہے۔ یہ مطالبہ نہیں کرتی، صرف عنایت کرتی ہے۔ یہ پکارتی نہیں کہ "مجھے اپنا لو”، بلکہ خاموشی سے سرگوشی کرتی ہے: تمہارا سکھ میری سب سے بڑی تمنا ہے۔
یقین کیجیے، یہی محبت کی حقیقی فتح ہے بے لوث ہونا، بے غرض ہونا اور دوسروں کی مسرت میں اپنی روح کی منزل تلاش کرنا۔ یہی کیفیت انسان کو انسانیت کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز کرتی ہے۔ خاموش محبت قلب کے گوشۂ عافیت میں جاگتی رہتی ہے اور قلب ہی تو وہ حرم ہے جہاں محبت کی شمع ہمیشہ فروزاں رہتی ہے۔ ایسی محبت کبھی فنا نہیں ہوتی، کیونکہ یہ عطا کرنے کا دوسرا نام ہے اور عطا کرنے والا اپنے اثرات میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
لیکن افسوس! آج کا انسان اپنی خودغرضی اور لالچ کے گرداب میں اس قدر غرق ہو چکا ہے کہ اسے اپنے سوا کسی کا وجود دکھائی نہیں دیتا۔ وہ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے ایسی راہوں کا انتخاب کر لیتا ہے جہاں محبت، اخلاق اور انسانیت سب پیچھے رہ جاتے ہیں۔ مال و متاع، عزت و آبرو، حتیٰ کہ جان و ایمان تک داؤ پر لگا دیے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان صرف اپنی ذات کو تباہ نہیں کرتا بلکہ اپنے گھر کی چاردیواری، خاندان کی عزت اور معاشرے کے سکون کو بھی زخم پہنچاتا ہے۔
اسی خودغرضی اور بے قابو خواہشات کے نتیجے میں کوئی ناامیدی کے اندھیروں میں خودکشی کی راہ اختیار کر لیتا ہے، کوئی جرائم کی دلدل میں اتر جاتا ہے، کوئی معصوم جانوں کا خون بہاتا ہے اور کوئی منشیات کے زہر میں اپنی شناخت تک کھو دیتا ہے۔ کتنے گھر اجڑ جاتے ہیں، کتنی مائیں اپنی اولاد کے غم میں عمر بھر تڑپتی رہتی ہیں، کتنی اولادیں والدین کے سائے سے محروم ہو جاتی ہیں اور کتنی زندگیاں چند لمحوں کی بے قابو خواہشات کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔
اے غفلت کے سمندر میں ڈوبتے انسان! ہوش کے ناخن لو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں محبت کی شمع روشن کرنے، ہمدردی کے پھول بانٹنے اور خدمتِ خلق کے لیے پیدا کیا ہے، نہ کہ نفسانی خواہشات کی بھٹی میں جلتے رہنے کے لیے۔ زندگی ایک نایاب تحفہ ہے اگر اسے خلوص، محبت اور ایثار کے ساتھ جیا جائے تو یہی دنیا امن، سکون اور انسانیت کا گلستان بن سکتی ہے۔
سچی محبت، بے لوث خدمت اور دوسروں کی خوشی میں اپنی روح کی تسکین تلاش کرنا ہی وہ حقیقی کامیابی ہے جس کی جستجو ہر انسان کو کرنی چاہیے۔ اپنے دلوں کو تنگ نظری، خودغرضی اور لالچ کے زنگ سے پاک کیجیے اور محبت و ایثار کو زندگی کا شعار بنائیے۔
یہ محبت کے بارے میں میرے احساسات ہیں اور جہاں تک میں نے محبت کو سمجھا ہے، یہی اس کی حقیقی روح ہے۔ کیونکہ جب تک محبت کی شمع روشن ہے، انسانیت زندہ ہے؛ اور جب تک ایثار کا دامن تھامے ہوئے ہیں، زندگی میں رونق باقی ہے۔