خاموش تماشائی

کسی بھی معاشرے کے سب سے خطرناک کردار وہ لوگ ہوتے ہیں جو ظلم کو اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا دیکھتے ہیں، سچ کو پہچانتے ہیں، مگر خاموش رہتے ہیں۔ ظالم اپنے عمل کا ذمہ دار ہوتا ہےلیکن جو لوگ خوف، مصلحت، تعلقات، عہدے یا ذاتی مفاد کی خاطر غلط کو غلط کہنے سے گریز کرتے ہیں وہ بھی اپنی سماجی ذمہ داری سے مکمل طور پر بری نہیں ہو سکتے۔

ظلم کی طاقت صرف ظالم کے ہاتھ میں نہیں ہوتی۔ اسے اصل حوصلہ اُس وقت ملتا ہے جب لوگ اس کے سامنے سوال اٹھانا چھوڑ دیتے ہیں۔ جب معاشرہ یہ سوچ کر پیچھے ہٹ جائے کہ ہمیں کیا تو غلط کام کرنے والے کو مزید بےخوف ہونے کا موقع ملتا ہے۔ ایک فرد کی خاموشی شاید معمولی محسوس ہو مگر جب یہی رویہ اجتماعی شکل اختیار کر لے تو ناانصافی کے خلاف کھڑے ہونے والے کم اور اسے برداشت کرنے والے زیادہ ہو جاتے ہیں۔

کبھی کبھی ظلم کسی شور کے ساتھ نہیں آتا بلکہ خاموشی کے درمیان جگہ بناتا ہے۔ جب سوال کرنے والے خاموش ہو جائیں، سچ بولنے والے تنہا رہ جائیں اور طاقتور کے سامنے کھڑے ہونے سے لوگ گھبرانے لگیں تو غلط رویہ آہستہ آہستہ معمول بن جاتا ہے۔ یہی بےحسی کسی بھی معاشرے کے لیے خطرناک علامت ہے۔

کربلا ہمارے لیے اسی حوالے سے ایک گہرا تاریخی سبق ہے۔ حضرت امام حسینؓ نے ظلم اور باطل کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا اور حق پر ثابت قدم رہے۔ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ فیصلہ کن وقت میں انسان کا اصل کردار سامنے آتا ہے۔ اس وقت انسان کے سامنے خوف اور مصلحت کے کئی راستے ہوتے ہیں لیکن تاریخ آخرکار اس کے انتخاب کو یاد رکھتی ہے۔کربلا کا پیغام صرف حق کو پہچاننے تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ کھڑے ہونے کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ انسان ہر جگہ بڑا کردار ادا نہیں کر سکتا لیکن جب حق اور باطل کے درمیان فرق واضح ہو جائے تو کم از کم اپنے ضمیر کو خاموش نہیں کرنا چاہیے۔

تاریخ صرف ظلم کرنے والوں کے نام محفوظ نہیں کرتی بلکہ اُن لوگوں کو بھی یاد رکھتی ہے جو حالات کے گواہ تھے۔ کون حق کے ساتھ کھڑا ہوا، کس نے اپنی استطاعت کے مطابق کردار ادا کیا اور کون خوف یا مصلحت کی وجہ سے پیچھے ہٹ گیا یہ سب تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔ عہدے، طاقت اور وقتی مفادات بدل جاتے ہیں مگر انسان کا کردار اس کے ساتھ رہتا ہے۔

ہمارے معاشرے کا ایک افسوس ناک رویہ یہ بھی ہے کہ ہم بعض اوقات ظالم کے ظلم سے زیادہ اُس شخص کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جو ناانصافی کے خلاف بات کرتا ہے۔ اُس سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کو بولنے کی کیا ضرورت تھی؟یوں توجہ اصل مسئلے سے ہٹ کر سچ بولنے والے پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ اس رویے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سچ بولنے والا اکیلا رہ جاتا ہے اور دوسرے لوگ بھی مخالفت کے خوف سے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔

آج فلسطین کا المیہ بھی دنیا کے اجتماعی ضمیر کے سامنے ایک بڑا سوال ہے۔ فلسطینی عوام کی تکالیف اور انسانی تباہی دنیا کے سامنے ہے۔ یہ صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی جان، بنیادی حقوق اور انصاف سے متعلق معاملہ ہے۔ کسی دوسرے خطے میں ہونے والی ناانصافی کو صرف اس لیے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ہم سے دور ہے۔ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ ظلم کی آگ ہمیشہ ایک جگہ تک محدود نہیں رہتی۔ اگر کسی ایک جگہ ناانصافی کو مسلسل برداشت کیا جائے تو اس کے اثرات دوسرے معاشروں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

آج اگر کسی دوسرے کے حق کو نظر انداز کیا جا رہا ہے تو ضروری نہیں کہ کل ہمارے حق کے لیے بھی سب لوگ کھڑے ہوں۔فلسطین ہمیں یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ انسانی ہمدردی صرف اپنے لوگوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ مظلوم کے انسانی حق کو تسلیم کرنا، انصاف کا مطالبہ کرنا اور ذمہ داری کے ساتھ سچ کا ساتھ دینا ایک باشعور انسان کی پہچان ہے۔ البتہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ردِعمل جذباتی یا غیر ذمہ دارانہ ہو۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ مگر انسانی جان اور بنیادی حقوق کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہر خاموشی قابلِ مذمت نہیں ہوتی۔ خاموشی کبھی صبر ہوتی ہے، کبھی حکمت، کبھی احتیاط اور کبھی مناسب وقت کا انتظار۔ اسی طرح ہر بلند آواز بھی حق کی آواز نہیں ہوتی۔ اصل مسئلہ اُس خاموشی کا ہے جو کسی غلط کام کو چھپانے، مظلوم کو تنہا کرنے یا ظالم کو مزید طاقت دینے کا سبب بنے۔

ایک باشعور معاشرہ صرف اپنے حق کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے حق کے لیے بھی حساس ہوتا ہے۔ جب انسان دوسروں کے دکھ کو اس لیے نظر انداز کرنے لگے کہ وہ ابھی اس کے اپنے گھر تک نہیں پہنچا تو معاشرے میں بےحسی پیدا ہوتی ہے۔ اگر دوسروں کے حقوق کی حفاظت کا احساس ختم ہو جائے تو آخرکار کسی کے حقوق بھی محفوظ نہیں رہتے۔اس لیے ناانصافی کے خلاف کھڑا ہونا صرف ایک مظلوم کا ساتھ دینا نہیں بلکہ ایک بہتر معاشرے کی بنیاد رکھنا بھی ہے۔

ہر انسان ہر مسئلہ حل نہیں کر سکتالیکن اپنی استطاعت کے مطابق درست بات کہنا، انصاف کی حمایت کرنا اور غلط کو غلط سمجھنا ضرور ممکن ہے۔معاشرے کے حقیقی محسن وہ ہیں جو اپنے مفاد سے بالاتر ہو کر حق اور انصاف کی بات کریں، کمزور کے لیے سہارا بنیں اور مشکل وقت میں اپنے اصولوں کو نہ چھوڑیں۔ کیونکہ وقت بدلتا ہے…. طاقت کے مراکز بدل جاتے ہیں مگر انسان کا کردار باقی رہتا ہے۔

ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم صرف واقعات دیکھنے والے بنیں گے یا ذمہ دار انسان۔ ہر موقع پر بلند آواز ضروری نہیں مگر ہر موقع پر ضمیر کا زندہ رہنا ضروری ہے۔آخرکار سوال یہ نہیں کہ ظلم ہمارے سامنے ہوا یا نہیں سوال یہ ہے کہ جب ہم نے اسے دیکھا تو ہمارا کردار کیا تھا؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے