قومی امن کمیٹی پاکستان کے معزز اراکین و علماء کرام، ان دنوں گلگت بلتستان میں تشریف فرما ہیں اور خطے کی اعلیٰ سیاسی و انتظامی قیادت سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند اور امید افزا پیش رفت ہے۔ توقع ہے کہ قومی امن کمیٹی کے معزز علماء و اراکین گلگت بلتستان کے چاروں مکاتبِ فکر، یعنی اہلِ سنت، اہلِ تشیع، اسماعیلی اور نوربخشی علماء، عمائدین اور متعلقہ اداروں سے بھی ملاقات کریں گے اور خطے میں پائیدار قیامِ امن کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں گے۔
تاہم قومی امن کمیٹی کے معزز اراکین کو گلگت بلتستان کے حوالے سے ایک اہم حقیقت سے ضرور آگاہ ہونا چاہیے کہ یہ خطہ امن کے لیے صرف دعوے نہیں کرتا بلکہ امن کے لیے طویل عرصے سے عملی جدوجہد اور بڑی قربانیاں دیتا آیا ہے۔
گلگت بلتستان میں مختلف مکاتبِ فکر کے علماء، عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات، نوجوانوں اور ریاستی اداروں نے قیامِ امن کے لیے مشکل حالات میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔ 1990ء سے 2026 تک مختلف ادوار میں گلگت بلتستان میں قیامِ امن، مذہبی ہم آہنگی اور باہمی احترام کے لیے متعدد امن معاہدات اور ضوابطِ کار مرتب کیے گئے، جن میں کئی کو سرکاری سرپرستی اور عملی تائید بھی حاصل رہی۔
ان کوششوں میں بالخصوص امن معاہدہ 2005ء اور ضوابطِ اخلاق 2012ء، جسے عمومی طور پر مساجد ایکٹ کے تناظر میں بھی دیکھا جاتا ہے، نہایت اہم پیش رفت ہیں۔ یہ محض کاغذی معاہدے نہیں بلکہ مختلف مکاتبِ فکر کے علماء و عمائدین کی طویل مشاورت، اجتماعی بصیرت اور امن کے لیے دی گئی قربانیوں کا نتیجہ ہیں۔
اس لیے قومی امن کمیٹی کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ موجودہ صورتِ حال کا جائزہ لے، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے امن کے تاریخی سفر، مقامی امن معاہدات، ضوابطِ اخلاق، علماء کے کردار اور ماضی کی اجتماعی کاوشوں کو بھی پوری گہرائی سے سمجھے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی امن کمیٹی کے معزز اراکین کو باقاعدہ اور جامع بریفنگ دی جائے کہ متنوع مسالک، مختلف مذہبی روایات اور جغرافیائی پیچیدگیوں کے باوجود گلگت بلتستان کے عوام، علماء، عمائدین، سیاسی قیادت، سول انتظامیہ اور ریاستی اداروں نے قیامِ امن کے لیے کس قدر مثالی کردار ادا کیا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ قومی سطح پر گلگت بلتستان کو محض چند ناخوشگوار واقعات کے آئینے میں نہ دیکھا جائے۔ کسی بھی معاشرے کی شناخت صرف اس کے بحرانوں سے نہیں ہوتی، اس کی اصل شناخت یہ بھی ہوتی ہے کہ اس نے بحرانوں سے کیسے نمٹا، اختلافات کو کیسے گفت و شنید میں بدلا اور امن کے لیے کتنی اجتماعی قربانیاں دیں۔
گلگت بلتستان میں چاروں مکاتبِ فکر کے علماء و عمائدین نے کئی مواقع پر اپنے ذاتی، مسلکی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر امن کو ترجیح دی ہے۔ کئی حساس مواقع پر علماء نے اپنے پیروکاروں کو صبر، برداشت، تحمل اور قانون کی پاسداری کی تلقین کی، اور یوں بڑے بحرانوں کو مزید پھیلنے سے روکا۔
لہٰذا قومی امن کمیٹی سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے علماء اور عمائدین کو محض امن کے فریق کے طور پر نہیں بلکہ امن کے شراکت دار اور امن سازی کے تجربہ کار کردار کے طور پر دیکھے۔
یہاں کے امن معاہدات، ضوابطِ اخلاق اور بین المسالک روابط کا مطالعہ کیا جائے، ان کے مثبت نتائج کو دستاویزی شکل دی جائے اور جہاں ضرورت ہو وہاں موجودہ حالات کے مطابق ان میں بہتری اور تجدید کی راہ نکالی جائے۔
ہمیں قومی امن کمیٹی سے یہ توقع بھی ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے دورے سے واپس جاتے ہوئے یہاں کے امن کے حقیقی تجربے، علماء کی کاوشوں اور عوام کی اجتماعی بصیرت کو ملک کے دوسرے حصوں تک پہنچائے گی۔
ہم چاہتے ہیں کہ ملک گلگت بلتستان کو صرف تنازعات کی خبروں سے نہ جانے، بلکہ اس خطے کے امن پسند عوام، باہمی احترام، بین المسالک تعاون اور امن کے لیے کی جانے والی غیر معمولی اجتماعی کوششوں سے بھی واقف ہو۔
اگر گلگت بلتستان کے امن کے تجربے کو سنجیدگی سے دستاویزی شکل دی جائے اور اس سے ملک کے دیگر حساس علاقوں میں استفادہ کیا جائے تو یہ خطہ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے امن، مکالمے اور بین المسالک ہم آہنگی کا ایک قابلِ تقلید ماڈل بن سکتا ہے۔ قومی امن کمیٹی کے معزز اراکین سے ہماری گزارش صرف اتنی ہے
ہمیں صرف یہ نہ پوچھیں کہ یہاں مسئلہ کیا ہے، یہ بھی پوچھیں کہ یہاں کے لوگوں نے امن کے لیے کیا کچھ کیا ہے۔ اور جب آپ واپس جائیں تو گلگت بلتستان کی صرف مشکلات نہیں، اس کی امن کے لیے دی گئی قربانیوں، علماء کی کاوشوں اور عوام کی اجتماعی بصیرت کی داستان بھی ملک بھر کو سنائیں۔
یہی گلگت بلتستان کا ایک حقیقی اور مکمل تعارف ہوگا۔ اللہ نے مجھے ان امن معاہدات پر مکمل تھیسز لکھنے کی توفیق دی ہے۔