پاکستان میں خواتین اور بچیوں کے خلاف بڑھتا ہوا تشدد

پاکستان میں خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد ایک سنگین سماجی اور انسانی حقوق کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ریپ جنسی تشدد گھریلو تشدد جسمانی تشدد ذہنی اذیت ہراسانی اغوا غیرت کے نام پر قتل اور بچوں کے جنسی استحصال جیسے واقعات ملک کے مختلف حصوں میں مسلسل رپورٹ ہو رہے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف کسی ایک شہر یا طبقے تک محدود نہیں۔

خواتین اپنے گھروں میں بھی غیر محفوظ ہیں اور کام کی جگہوں تعلیمی اداروں عوامی مقامات سفری ذرائع اور آن لائن پلیٹ فارمز پر بھی مختلف اقسام کے تشدد اور ہراسانی کا سامنا کر رہی ہیں۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ دستیاب اعداد و شمار صرف ان واقعات کو ظاہر کرتے ہیں جو رپورٹ ہوئے۔ بہت سے واقعات سماجی دباؤ خوف بدنامی مالی انحصار اور انصاف کے نظام پر عدم اعتماد کی وجہ سے سامنے ہی نہیں آتے۔

پاکستان میں تشدد کی موجودہ صورتحال

ساحل کی جنوری سے جون 2026 تک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد کے 3,172 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں: 644 قتل ,514 تشدد کے واقعات ,462 اغوا کے واقعات، 363 خودکشی کے واقعات 280 ریپ کے واقعات، 175 زخمی کرنے کے واقعات، 132 غیرت کے نام پر قتل اور 21 دیگر جرائم شامل تھے جن میں ہراسانی گینگ ریپ اور فحش مواد سے متعلق جرائم شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان واقعات میں سے تقریباً 74 فیصد پنجاب میں رپورٹ ہوئے جبکہ 17 فیصد سندھ میں سامنے آئے۔

یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد ایک الگ الگ واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک وسیع اور مسلسل بحران ہے۔ ریپ اور جنسی تشدد ریپ خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کی انتہائی سنگین شکل ہے۔ یہ صرف جسمانی حملہ نہیں بلکہ کسی انسان کی عزت وقار ذہنی سکون اور بنیادی انسانی حقوق پر حملہ ہے۔ 2026 کے پہلے چھ ماہ میں پاکستان میں 280 ریپ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ لیکن یہ تعداد اصل صورتحال کی مکمل تصویر نہیں ہے کیونکہ بہت سی خواتین اور بچیاں ریپ یا جنسی تشدد کے بعد پولیس سے رابطہ نہیں کرتیں۔

اس کی کئی وجوہات ہیں۔ خاندان کا دباؤ، معاشرتی بدنامی کا خوف، متاثرہ خاتون کو ہی ذمہ دار ٹھہرانا، ملزم کی طرف سے دھمکیاں، مالی انحصار، بچوں کو کھو دینے کا خوف اور انصاف کے نظام پر اعتماد کی کمی۔ یہ تمام عوامل خواتین کو خاموش رہنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔

صوبوں میں صورتحال

پاکستان کے مختلف صوبوں میں صنفی بنیاد پر تشدد کی صورتحال مختلف شدت کے ساتھ موجود ہے۔ تازہ ترین دستیاب صوبائی اعداد و شمار میں پنجاب سندھ خیبر پختونخوا بلوچستان اور اسلام آباد میں ریپ اور گھریلو تشدد کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

پنجاب

پنجاب میں خواتین کے خلاف تشدد کے رپورٹ ہونے والے واقعات کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ 2025 کے دستیاب پولیس اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں 4,641 ریپ کے کیسز رپورٹ ہوئے۔ یہ تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنسی تشدد پنجاب میں ایک سنگین مسئلہ ہے۔ 2026 کے پہلے چھ ماہ میں بھی پنجاب میں خواتین کے خلاف ہزاروں جرائم رپورٹ ہوئے۔

سندھ

سندھ میں بھی ریپ گھریلو تشدد اور غیرت کے نام پر تشدد کے واقعات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ 2025 کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں 243 ریپ کے کیسز رپورٹ ہوئے۔ سندھ پولیس کی جانب سے ریپ کیسز کی سزا کی شرح کے لیے الگ اعداد و شمار بھی جاری کیے گئے ہیں جو اس مسئلے کے عدالتی پہلو کو سمجھنے میں اہم ہیں۔

خیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا میں بھی خواتین اور بچیوں کے خلاف جنسی اور گھریلو تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ 2025 کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں 258 ریپ کیسز رپورٹ ہوئے۔ یہ تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنسی تشدد کسی ایک علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان میں موجود ہے۔

بلوچستان

بلوچستان میں بھی ریپ اور گھریلو تشدد کے کیسز رپورٹ ہوئے۔ 2025 کے دستیاب اعداد و شمار میں بلوچستان میں 21 ریپ کیسز رپورٹ ہوئے۔ تاہم کم رپورٹ ہونے والے کیسز کو کم تشدد کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ دور دراز علاقوں میں پولیس تک رسائی کی کمی سماجی دباؤ اور رپورٹنگ کے محدود ذرائع کی وجہ سے بہت سے واقعات ریکارڈ ہی نہیں ہو پاتے۔

اسلام آباد

وفاقی دارالحکومت بھی اس مسئلے سے محفوظ نہیں۔ 2025 کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد میں 176 ریپ کیسز رپورٹ ہوئے۔ یہ حقیقت اس تصور کو چیلنج کرتی ہے کہ خواتین کے خلاف جنسی تشدد صرف دیہی یا پسماندہ علاقوں کا مسئلہ ہے۔

گھریلو تشدد

خواتین کے لیے گھر ہمیشہ محفوظ جگہ نہیں رہا۔ بہت سی خواتین کو اپنے ہی گھروں میں جسمانی تشدد جنسی تشدد ذہنی اذیت دھمکیوں توہین اور معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گھریلو تشدد میں صرف مارپیٹ شامل نہیں ہوتی۔ کسی خاتون کو مسلسل ذلیل کرنا، اسے دھمکانا، اس کی نقل و حرکت محدود کرنا، اس کے پیسے پر مکمل کنٹرول رکھنا، زبردستی جنسی تعلق قائم کرنا، اسے خاندان یا بچوں سے الگ کرنا اور مسلسل خوف میں رکھنا بھی تشدد کی مختلف شکلیں ہیں۔

پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے کے مطابق 34 فیصد شادی شدہ خواتین نے شوہر کی طرف سے جسمانی جنسی یا جذباتی تشدد کا سامنا کرنے کی اطلاع دی تھی۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا کرنے والی 56 فیصد خواتین نے کسی سے مدد نہیں مانگی اور نہ ہی اپنے تجربے کے بارے میں کسی کو بتایا۔

بچیوں کے خلاف جنسی تشدد

پاکستان میں بچیاں بھی جنسی تشدد سے محفوظ نہیں ہیں۔ بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات گھر محلے تعلیمی اداروں اور دیگر مقامات پر رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ 2023 کے پہلے چھ ماہ میں ساحل کے مطابق پاکستان میں 2,227 بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ ان میں 6 سے 15 سال کی عمر کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے گروپ میں شامل تھے۔

بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے اثرات صرف اس وقت تک محدود نہیں رہتے جب واقعہ پیش آتا ہے۔ اس کے اثرات ان کی تعلیم ذہنی صحت اعتماد شخصیت اور مستقبل کے تعلقات تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسی لیے بچوں کے تحفظ کو صرف پولیس اور عدالتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔

خواتین کی ذہنی صحت پر اثرات

خواتین کے خلاف تشدد صرف جسمانی زخم نہیں دیتا۔ یہ ذہنی صحت کو بھی شدید متاثر کرتا ہے۔ تشدد کا شکار خواتین خوف اضطراب ڈپریشن صدمے کم اعتمادی تنہائی نیند کی خرابی اور مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہو سکتی ہیں۔ خاص طور پر گھریلو تشدد میں جب ایک خاتون مسلسل ایسے ماحول میں رہتی ہے جہاں اسے ہر وقت خوف اور دباؤ کا سامنا ہو تو اس کی ذہنی صحت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جسمانی زخم کو تو تشدد سمجھا جاتا ہے لیکن ذہنی تشدد کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ تبدیل ہونا چاہیے۔

کام کی جگہوں پر خواتین کا تحفظ

خواتین کے لیے کام کرنا ان کا بنیادی حق ہے۔ لیکن بہت سی خواتین کام کی جگہوں پر جنسی ہراسانی نامناسب رویوں دھمکیوں اور طاقت کے غلط استعمال کا سامنا کرتی ہیں۔ کسی خاتون کو صرف اس لیے خاموش نہیں ہونا چاہیے کہ اسے اپنی ملازمت کھونے کا خوف ہے۔ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ خواتین کے لیے محفوظ ماحول فراہم کریں۔ ہر ادارے میں شکایت درج کرنے کا واضح خفیہ اور مؤثر نظام ہونا چاہیے۔ شکایت کرنے والی خاتون کو بدلے یا انتقامی کارروائی سے تحفظ ملنا چاہیے۔

خاموشی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے

پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد کے بہت سے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔ قومی سطح پر نومبر 2025 میں سینیٹ میں بھی اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ صنفی بنیاد پر تشدد کے تقریباً 70 فیصد واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔ اسی بحث میں یہ بھی بتایا گیا کہ رپورٹ ہونے والے کیسز میں قومی سطح پر سزا کی شرح انتہائی کم ہے۔ جب ایک خاتون کو یہ خوف ہو کہ شکایت کرنے کے بعد اسے ہی بدنام کیا جائے گا تو وہ خاموش رہنے کو ترجیح دے سکتی ہے۔ یہ خاموشی مجرم کے لیے تحفظ بن جاتی ہے۔

مسئلہ صرف قانون کا نہیں بلکہ عملدرآمد کا بھی ہے

پاکستان میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے مختلف قوانین موجود ہیں۔ لیکن قانون بنانا کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ قانون پر عمل کتنا ہوتا ہے۔ اگر ایک خاتون شکایت درج کرواتی ہے لیکن اس کی ایف آئی آر درج نہیں ہوتی، اگر تحقیقات میں تاخیر ہوتی ہے، اگر شواہد محفوظ نہیں کیے جاتے، اگر ملزم بااثر ہونے کی وجہ سے آزاد رہتا ہے، اگر متاثرہ خاتون کو بار بار اپنا واقعہ بیان کرنا پڑتا ہے اور اگر مقدمہ برسوں چلتا رہتا ہے تو قانون کی موجودگی کے باوجود انصاف کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔

میری نظر میں

ایک سماجی کارکن اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک خاتون کی حیثیت سے میرے لیے سب سے تشویشناک بات صرف بڑھتے ہوئے کیسز کی تعداد نہیں ہے۔ تشویش اس بات کی ہے کہ خواتین کے لیے محفوظ جگہ مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ ایک بچی گھر میں غیر محفوظ ہو سکتی ہے۔ ایک طالبہ تعلیمی ادارے میں ہراسانی کا سامنا کر سکتی ہے۔ ایک ملازمت پیشہ خاتون کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی کا شکار ہو سکتی ہے۔ ایک بیوی اپنے ہی گھر میں جسمانی اور ذہنی تشدد برداشت کر سکتی ہے۔ اور ایک عورت عوامی جگہ پر بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کر سکتی ہے۔

ہم خواتین کو ہر وقت یہ سکھاتے ہیں کہ کہاں نہ جائیں، کس پر اعتماد نہ کریں، کیا پہنیں، کس وقت گھر سے باہر نہ نکلیں اور کیسے خود کو محفوظ رکھیں۔ لیکن ہمیں یہ سوال بھی پوچھنا ہوگا کہ ہم مردوں اور معاشرے کو یہ کیوں نہیں سکھاتے کہ کسی عورت کو نقصان پہنچانا جرم ہے۔خواتین کو محدود کرنا حل نہیں ہے۔ مجرموں کو جواب دہ بنانا حل ہے۔ خواتین کو خاموش کرنا حل نہیں ہے۔ ان کی آواز کو محفوظ بنانا حل ہے۔ معاملات کو چھپانا حل نہیں ہے۔ انصاف فراہم کرنا حل ہے۔

سفارشات : حکومت کے لیے

خواتین اور بچیوں کے تحفظ کے لیے موجود قوانین پر مؤثر عملدرآمد کیا جائے۔ ریپ اور جنسی تشدد کے کیسز کی تحقیقات کے لیے جدید فرانزک سہولیات کو بہتر بنایا جائے۔ صنفی بنیاد پر تشدد کا ایک شفاف قومی ڈیٹا بیس قائم کیا جائے۔ صوبہ وار اعداد و شمار باقاعدگی سے عوام کے سامنے پیش کیے جائیں۔ خواتین کے لیے محفوظ پناہ گاہوں اور بحران مراکز کی تعداد بڑھائی جائے۔ متاثرہ خواتین کو مفت قانونی اور نفسیاتی مدد فراہم کی جائے۔ بچوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنایا جائے۔

پولیس اور عدالتی نظام کے لیے

ریپ اور جنسی تشدد کی شکایات فوری طور پر درج کی جائیں۔ متاثرہ خواتین کے ساتھ احترام اور حساسیت سے پیش آیا جائے۔ تحقیقات میں غیر ضروری تاخیر ختم کی جائے۔ شواہد کو محفوظ کرنے کے لیے جدید فرانزک طریقے استعمال کیے جائیں۔ متاثرہ خواتین اور گواہوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ پولیس افسران پراسیکیوٹرز اور عدالتی عملے کو صنفی بنیاد پر تشدد سے متعلق خصوصی تربیت دی جائے۔

متاثرہ خاتون کو الزام دینا بند کرنا ہوگا۔ اس کے لباس کو جرم کا سبب قرار دینا بند کرنا ہوگا۔ اس کے کردار پر سوال اٹھانے کے بجائے مجرم سے سوال کرنا ہوگا۔ خاندانوں کو متاثرہ خواتین کا ساتھ دینا ہوگا۔ بچیوں کو اپنے جسم اپنی حدود اور محفوظ اور غیر محفوظ رویوں کے بارے میں عمر کے مطابق تعلیم دی جانی چاہیے۔

نتیجہ

پاکستان میں خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد ایک سنگین قومی مسئلہ ہے۔ جنوری سے جون 2026 کے دوران رپورٹ ہونے والے 3,172 صنفی بنیاد پر تشدد کے واقعات اور ان میں شامل 280 ریپ کیسز ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہماری خواتین اور بچیاں آخر کب تک خوف کے سائے میں زندگی گزاریں گی۔

یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ انسانوں کی زندگیاں ہیں۔ یہ کسی کی بیٹی ہے۔ کسی کی بہن ہے۔ کسی کی ماں ہے۔ کسی کی دوست ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ ایک انسان ہے جسے محفوظ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔

ہمیں ایسا پاکستان بنانا ہوگا جہاں عورت کو محفوظ رہنے کے لیے اپنی آزادی قربان نہ کرنی پڑے۔ جہاں بچی کو اپنی حفاظت کے لیے خاموش نہ ہونا پڑے۔ جہاں ریپ کے ملزم کو قانون کا خوف ہو اور متاثرہ خاتون کو معاشرے کا نہیں۔ جہاں گھریلو تشدد کو خاندانی معاملہ کہہ کر نظر انداز نہ کیا جائے۔ جہاں کام کی جگہ پر ہراسانی کو معمول نہ سمجھا جائے۔ اور جہاں انصاف صرف قانون کی کتاب میں موجود نہ ہو بلکہ ہر متاثرہ خاتون کو حقیقت میں حاصل ہو۔

خواتین کا تحفظ کوئی رعایت نہیں۔یہ ان کا بنیادی حق ہے۔عزت سے زندگی گزارنا ان کا حق ہے۔تشدد سے آزاد زندگی گزارنا ان کا حق ہے۔ اور اس حق کے تحفظ کی ذمہ داری صرف خواتین کی نہیں بلکہ پورے معاشرے اور ریاست کی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے