مشہور جرمن فلسفی فریڈرک نطشے کاقول ہے کہ ”ایک بزدل قوم صرف جنگ سے بچنے کی کوشش کرتی ہے، جبکہ ایک غیرت مند قوم اپنی آزادی اور بقا کے لیے موت کو گلے لگانا جانتی ہے۔“ یہ قول کسی بھی زندہ قوم کی غیرت اور اس کے دفاعی عزم کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے نقشے پر صرف وہی قومیں سر اٹھا کر جینے کا حق پاتی ہیں جو اپنی آزادی کا سودا نہیں کرتیں اور جن کے جوان وطن کی مٹی پر جان نچھاور کرنا اپنے لیے سب سے بڑا اعزاز سمجھتے ہیں۔ چھ ستمبر 1965ءکا معرکہِ حق پاکستان کی عسکری اور ملی تاریخ کا وہ درخشاں باب ہے جب ایک مکار اور افرادی و مادی قوت میں کئی گنا بڑے دشمن نے رات کے اندھیرے میں بین الاقوامی سرحدوں کی پامالی کرتے ہوئے شب خون مارا۔ واہگہ اور بی آر بی نہر کے محاذوں سے لے کر چونڈہ کے میدانِ کارزار تک، ارضِ پاک کے جری سپوتوں نے شجاعت کی وہ داستانیں رقم کیں جنہوں نے عالمی عسکری ماہرین کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا۔ تاہم، وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ جنگوں کے طریقے اور دفاع کے تقاضے بھی یکسر تبدیل ہو چکے ہیں۔ آج پاکستان کو جہاں روایتی عسکری خطرات کا سامنا ہے، وہاں غیر روایتی، معاشی اور فکری محاذوں پر بھی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
گزشتہ چھ دہائیوں میں دشمن نے روایتی جنگ میں مسلسل ہزیمت اٹھانے کے بعد اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر لی ہے۔ آج کا پاکستان 1965ءکے مقابلے میں دفاعی طور پر کہیں زیادہ مضبوط، ایٹمی صلاحیت سے لیس اور جدیددفاعی صلاحیتوں کا مالک ہے۔ معرکہِ حق کی یادیں صرف ماضی کے قصے نہیں ہیں، بلکہ حال ہی میں مئی 2025ءکے دوران پیش آنے والے فضائی معرکے ”آپریشن بنیان مرصوص“ نے ثابت کیا کہ پاکستان دشمن کی کسی بھی مہم جوئی کا فوری اور دندان شکن جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جہاں پاک فضائیہ اور بری فوج نے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملایا۔ مگر روایتی دفاع میں اس قدر مضبوطی کے باوجود، موجودہ دور ”ففتھ جنریشن وارفیر“ کا ہے، جہاں براہِ راست حملوں کے بجائے کسی ملک کی نظریاتی اساس، معیشت اور سماجی یکجہتی کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پروپیگنڈا، فیک نیوز، سائبر حملوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوان نسل کے ذہنوں میں مایوسی پھیلانا اور ریاستی اداروں کے خلاف عدمِ اعتماد پیدا کرنا اس نئی جنگ کے بنیادی ہتھیار ہیں۔
موجودہ بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال میں پاکستان نے سفارتی اور دفاعی سطح پر اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ خاص طور پر حالیہ مکہ اسٹریٹجک و دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مابین قائم ہونے والا سہ فریقی اتحاد خطے میں جامع منصوبہ بندی کے لیے ایک سنگِ میل ہے۔ اس تاریخی معاہدے کی روح سے”تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی ہونے والا کوئی بھی مسلح حملہ سب پر حملہ سمجھا جائے گا“ اگست 2026ءمیں استنبول میں ہونے والے اس کے پہلے افتتاح اجلاس نے واضع کر دیا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر تنہا نہیں، بلکہ مسلم امہ کے سب سے مضبوط دفاعی بلاک کا محور بن کر ابھر رہا ہے۔ یہ سفارتی پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا دفاع اب صرف ملکی حدود تک نہیں، بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داریوں کے مضبوط جال سے جڑا ہوا ہے۔
ایک مضبوط دفاع کے لیے مضبوط معیشت پہلی شرط ہے۔ ایک پرانی مثال ہے کہ ”خالی پیٹ اور کمزور معیشت کے ساتھ جنگی میدانوں میں طویل عرصے تک کھڑا نہیں رہا جا سکتا۔“ کوئی بھی ملک معاشی استحکام کے بغیر بیرونی دباو¿ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ آج پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج معاشی خودمختاری کا حصول ہے۔ مہنگائی، تجارتی خسارہ اور غیر ملکی قرضوں کا بوجھ ہمارے اسٹریٹجک فیصلوں کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ لہٰذا، دفاعِ وطن کا تقاضا ہے کہ ہم زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبوں میں خودکفالت ہوں۔ معاشی محاذ پر لڑی جانے والی یہ جنگ سرحدوں کی جنگ جتنی ہی اہم ہے۔ جب تک ملک کا کسان، تاجر، اور نوجوان معاشی طور پر مستحکم نہیں ہوں گے، قومی دفاع کا ہدف ادھورا رہے گا۔
یومِ دفاع و شہداءمحض رسمی تقریبات، پرچم کشائی اور پریڈز تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ دن خود احتسابی کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اس مٹی کی آزادی کے لیے ہمارے غازیوں اور شہداءنے کتنی بڑی قیمت چکائی ہے۔ ہمیں اپنی صفوں میں موجودسیاسی اور لسانی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر یہ سوچنا ہوگا کہ ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ہم وطنِ عزیز کی ترقی میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ فیک نیوز اور اداروں کے خلاف پروپیگنڈے کا حصہ بننے کے بجائے ہمیں قومی یکجہتی کا سفیر بننا ہوگا۔ پاکستان ایک حقیقت ہے اور اس کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔ مسلح افواج سرحدوں کی محافظ ہیں تو عوام ملکی استحکام کی ضامن۔ ہم قائداعظم کے اصولوں ”ایمان،اتحاد اور نظم و ضبط“ پر کاربند رہتے ہوئے پاکستان کو نظریاتی، معاشی اور جغرافیائی طور پر ایک ایسی مقتدر ریاست بنائیں گے جس کی طرف کوئی دشمن میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ کر سکے،پاکستان زندہ باد۔