باجی، کیا میں واقعی جہنم میں جاؤں گی؟

کبھی کبھی زندگی ہمارے سامنے ایسے سوال رکھ دیتی ہے جن کے جواب کتابوں میں نہیں، انسانوں کے رویوں میں تلاش کرنا پڑتے ہیں۔

چند روز پہلے میرے گھر کام کرنے والی ایک خاتون میرے پاس آئی۔ چہرے پر تھکن، آنکھوں میں اداسی اور لہجے میں عجیب سی بے بسی تھی۔

اس نے کہا:

’’باجی! پیاس لگی ہے، ایک گلاس پانی پلا دیں۔‘‘

میں نے اسے پانی دیا اور غور سے دیکھا تو پوچھ بیٹھی، ’’کیا ہوا؟ سب ٹھیک ہے؟‘‘

وہ کچھ دیر خاموش رہی، پھر جیسے دل میں جمع برسوں کی تھکن ایک ساتھ باہر آ گئی۔

کہنے لگی:

’’باجی! میرے چھ بچے ہیں۔ میرا شوہر کوئی کام نہیں کرتا۔ گھر میں ہی رہتا ہے۔ بچوں کا خرچ، گھر کا خرچ، سب کچھ میں لوگوں کے گھروں میں کام کرکے پورا کرتی ہوں۔‘‘

وہ صبح پانچ بجے اٹھتی ہے۔

بچوں کے لیے ناشتہ تیار کرتی ہے، انہیں تیار کرتی ہے، گھر سمیٹتی ہے اور پھر دوسروں کے گھروں میں کام کرنے نکل جاتی ہے۔ دن بھر جھاڑو، پونچھا، صفائی اور گھریلو کام کرتی ہے۔

رات تقریباً دس بجے گھر واپس پہنچتی ہے۔

لیکن اس کے لیے دن وہاں ختم نہیں ہوتا۔…

گھر واپس آکر اپنا گھر بھی سنبھالنا ہوتا ہے۔ بچوں کو دیکھنا، کھانا بنانا، برتن، کپڑے اور نہ جانے کتنے کام۔

وہ بتاتی ہے کہ کبھی کبھار اس کا شوہر کھانا بنا دیتا ہے، مگر اس کے ساتھ بھی اسے کئی باتیں سننی پڑتی ہیں۔

گالی، غصہ، طعنے، رعب اور کبھی کبھی ہاتھ بھی۔

میں نے پوچھا:

’’پھر تم کیا کرتی ہو؟‘‘

وہ بولی:

’’باجی! میں بھی انسان ہوں۔ سارا دن کام کرکے جب گھر آتی ہوں تو جسم میں جان نہیں ہوتی۔ کبھی بہت غصہ آ جاتا ہے تو میں بھی آگے سے ایک دو باتیں سنا دیتی ہوں۔‘‘

پھر وہ اچانک خاموش ہوگئی۔

چند لمحے بعد اس نے میری طرف دیکھا اور ایک ایسا سوال کیا جس نے مجھے اندر تک خاموش کر دیا۔

’’باجی، میرے شوہر کہتے ہیں کہ جو عورت شوہر کے آگے زبان چلاتی ہے، اسے جواب دیتی ہے، ایسی عورت جہنم میں جاتی ہے۔ باجی، اگر میں شوہر کو جواب دیتی ہوں، کبھی غصے میں بدزبانی بھی کر دیتی ہوں تو کیا میں واقعی جہنم میں جاؤں گی؟‘‘

میں اس کے سوال کا فوری جواب نہیں دے سکی۔

کیونکہ میرے سامنے صرف ایک عورت نہیں بیٹھی تھی۔

میرے سامنے ایک ایسی عورت بیٹھی تھی جو صبح پانچ بجے سے رات دس بجے تک مسلسل کام کرتی ہے۔ چھ بچوں کی ذمہ داری اٹھاتی ہے۔ لوگوں کے گھروں کی صفائی کرتی ہے۔ اپنے بچوں کا پیٹ پالتی ہے۔ گھر واپس آکر دوبارہ گھر سنبھالتی ہے۔

اور پھر بھی اسے اپنے چند سخت الفاظ کا حساب یاد دلایا جاتا ہے۔

مگر اس کے حصے میں آنے والی تھکن، گالیاں، ذہنی اذیت اور تشدد کا حساب کون رکھتا ہے؟

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔

کیا عورت کا شوہر کو جواب دینا بدزبانی ہے، لیکن شوہر کا عورت کو گالی دینا کیا ہے؟

اگر عورت غصے میں دو سخت الفاظ بول دے تو فوراً اسے ’’بدزبان‘‘، ’’نافرمان‘‘ اور ’’بدکردار‘‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔

لیکن اگر شوہر بیوی کو گالیاں دے، اسے ذلیل کرے، مسلسل ذہنی اذیت دے یا اس پر ہاتھ اٹھائے تو اسے اکثر ’’گھریلو معاملہ‘‘ کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

آخر کیوں؟

یقیناً بدزبانی درست نہیں۔

نہ مرد کے لیے، نہ عورت کے لیے۔

غصے میں کسی کی تذلیل کرنا، گالی دینا یا دل دکھانا کسی کے لیے قابلِ تعریف رویہ نہیں۔ عورت کو بھی اپنی زبان پر قابو رکھنا چاہیے اور مرد کو بھی۔

لیکن سوال صرف زبان کا نہیں، پورے رویے کا ہے۔

ایک عورت اگر مسلسل جسمانی اور ذہنی تھکن میں زندگی گزار رہی ہو، اسے گھر میں سکون کے بجائے گالی، طعنہ اور تشدد مل رہا ہو تو کیا صرف اس کے ایک جواب کو پکڑ کر پوری کہانی کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے؟

کیا اس کی تھکن کی کوئی قیمت نہیں؟

کیا اس کی محنت کی کوئی قدر نہیں؟

کیا اس کے آنسو نظر نہیں آتے؟

اور سب سے بڑھ کر، کیا دین کو صرف عورت کو خاموش کرانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟

میاں بیوی کا رشتہ طاقت اور کمزوری کا رشتہ نہیں۔

یہ محبت، رحمت، احترام، ذمہ داری اور باہمی تعاون کا رشتہ ہے۔

شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کی کفالت کرے۔ اگر بیوی حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر یا اپنی مرضی سے روزگار کما رہی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ شوہر کی ذمہ داریاں ختم ہوگئیں۔

اور اگر شوہر بے روزگار، بیمار ی یا کسی حقیقی مجبوری کا شکار ہے تو بیوی کا ساتھ دینا یقیناً ایک بڑی قربانی ہے۔

لیکن مجبوری بھی کسی کو ظلم کا حق نہیں دیتی۔

بے روزگاری گالی دینے کا جواز نہیں۔

غصہ تشدد کا جواز نہیں۔

اور شوہر ہونا بیوی کو ذلیل کرنے کا لائسنس نہیں۔

اسی طرح عورت کی تھکن اسے بدزبانی کی مستقل اجازت نہیں دیتی۔

اصل ضرورت یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی کیفیت سمجھیں۔

ذرا تصور کیجیے۔

ایک عورت صبح پانچ بجے اٹھتی ہے۔

چھ بچوں کی ذمہ داری پوری کرتی ہے۔

پھر دوسروں کے گھروں میں گھنٹوں کام کرتی ہے۔

رات دس بجے گھر پہنچتی ہے۔

اور گھر آکر بھی اس کی ڈیوٹی ختم نہیں ہوتی۔

ایسی عورت اگر گھر پہنچے تو اسے سب سے پہلے کیا ملنا چاہیے؟

ایک اور حکم؟

ایک اور طعنہ؟

یا ایک گلاس پانی؟

جس طرح شوہر تھکا ہوا گھر آئے تو بیوی اس کی تھکن محسوس کرتی ہے، کیا شوہر بیوی کی تھکن محسوس نہیں کر سکتا؟

کیا وہ صرف اتنا نہیں کہہ سکتا:

’’تم بہت تھک گئی ہو، آج آرام کرلو، باقی کام میں کر لیتا ہوں۔‘‘

یقین کیجیے، بعض اوقات ایک جملہ انسان کو برسوں کی تھکن سے زیادہ سکون دے دیتا ہے۔

ہم نے گھروں میں عورت کے صبر کو فرض اور مرد کی مدد کو احسان بنا دیا ہے۔

ہم عورت سے کہتے ہیں کہ شوہر کی عزت کرو، خاموش رہو، برداشت کرو۔

لیکن ہمیں مرد سے بھی کہنا ہوگا:

اپنی بیوی کی عزت کرو۔

اس کی محنت دیکھو۔

اس کی تھکن سمجھو۔

اسے گالی نہ دو۔

اس پر ہاتھ نہ اٹھاؤ۔

اور اگر وہ تھک کر کبھی غصے میں دو لفظ کہہ دے تو پہلے یہ دیکھو کہ وہ اتنی تھکی کیوں ہوئی ہے۔

کیونکہ ہر سخت لہجہ بدتمیزی نہیں ہوتا۔

کبھی کبھی سخت لہجے کے پیچھے برسوں کی تھکن ہوتی ہے۔

کبھی محرومی ہوتی ہے۔

کبھی بے بسی ہوتی ہے۔

اور کبھی وہ آنسو ہوتے ہیں جو انسان دوسروں کے سامنے بہا نہیں سکتا۔

اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ عورت کو بدزبانی کا حق مل گیا۔

مطلب صرف یہ ہے کہ فیصلہ کرنے سے پہلے پوری کہانی سننی چاہیے۔

اس خاتون کا سوال آج بھی میرے ذہن میں ہے:

’’باجی، کیا میں واقعی جہنم میں جاؤں گی؟‘‘

شاید ہم میں سے بہت سے لوگوں کو اس سوال کا جواب دینے سے پہلے اپنے رویوں کا جائزہ لینا چاہیے۔

ہم عورت کو دین کا حوالہ دے کر اس کے حقوق تو یاد دلاتے ہیں، لیکن کیا ہم مرد کو بھی وہی دین اس کی ذمہ داریاں یاد دلانے کے لیے پڑھاتے ہیں؟

ہم عورت کو شوہر کی عزت سکھاتے ہیں، مگر شوہر کو بیوی کی عزت کتنی سکھاتے ہیں؟

ہم عورت کو صبر کا درس دیتے ہیں، مگر مرد کو رحم، نرمی اور ذمہ داری کا احساس کتنی بار دلاتے ہیں؟

گھر صرف عورت کے صبر سے نہیں بنتا۔

گھر دونوں کے احترام، تعاون، محبت اور ذمہ داری سے بنتا ہے۔

اور شاید اس خاتون کے سوال کا سب سے اہم پہلو یہی ہے کہ ہمیں کسی عورت کو صرف اس کے ایک لمحے کے غصے سے نہیں پرکھنا چاہیے۔

اس کی پوری زندگی دیکھنی چاہیے۔

ہو سکتا ہے جس عورت کو ہم بدزبان کہہ رہے ہوں، وہ دراصل برسوں سے خاموش رہتے رہتے تھک چکی ہو۔

ہو سکتا ہے اس کے ’’دو سخت الفاظ‘‘ کے پیچھے برسوں کی محنت، محرومی، خوف اور آنسو چھپے ہوں۔

وہ بدزبان نہیں، بس تھکی ہوئی ہے۔..

اور تھکی ہوئی عورت کو سب سے پہلے فتویٰ نہیں،
سہارا چاہیے۔

اسے طعنہ نہیں،
احترام چاہیے۔

اسے خاموش کرانا نہیں،
اس کی بات سننا چاہیے۔

کیونکہ خاموشی کو رضامندی سمجھ لینا بھی ایک ظلم ہے۔…

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے