ہمارے بچپن میں ٹیپ ریکارڈر ہوا کرتا تھا۔اس میں کیسٹ لگانی پڑتی تھی۔اس کے دو سائڈ ہوتے تھے۔ایک طرف پانچ سے چھ گانے ہوتے اور دوسری طرف بھی یہی کوئی چار پانچ گانے سنے جاسکتے تھے۔ جینزیوں کو یہ سب بتانا پڑتا ہے۔ ہم فلمی سونگ سننے کے لیے کیسٹیں خریدتے اور ٹیپ ریکارڈر پر کیسٹ لگا کر گانے سنتے۔
اس کے علاوہ ہمارے بچپن میں کیسٹ پر بچوں کی کہانیاں بھی ملتی تھیں۔ ان کہانیوں کو بہت خوبصورتی سے صداکاروں نے اپنی آواز میں ریکارڈ کیا ہوتا تھا۔ان کہانیوں کے صوتی اثرات یعنی ساؤنڈ ایفیکٹ بھی لاجواب ہوتے تھے۔ کہانیاں سنتے تو بہت مزا آتا ایسا لگتا کہ جیسے ہم کہانی کا حصہ ہوں۔
ایک کہانی مجھے یاد ہے جس کا نام تھا۔ زندگی کی ڈور اس کہانی میں دکھایا گیا تھا کہ ایک بچے کو ایک ایسی ڈور مل جاتی ہے جسے کھینچ کر وہ زندگی کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ جب بھی کوئی مشکل مرحلہ آتا ہے وہ بچہ زندگی کی ڈور کو بڑھا دیتا ہے اور اس کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔ وہ زندگی کی ڈور کو کھینچنے کھینچتے ایک دن بوڑھا ہوجاتا ہے اور زندگی کا آخری وقت آپہنچتا ہے۔
اس طرح کی کہانیاں بچوں کو اس لیے سنائی جاتی ہیں کہ وہ وقت کی قدر کرسکیں۔ جیسے سر سید احمد خان کا مضمون جو ہم نے نویں جماعت میں پڑھا تھا۔ جس کا عنوان تھا گزرا ہوا زمانہ اس مضمون میں بھی نوجوان کو وقت کی قدر کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
ہمارے معاشرے کا سسٹم کچھ ایسا ہے کہ ہمیں کہانیاں تو اچھی سننے کو ملتی ہیں اور ہم ان کو ان سن کر یا پڑھ کر موٹیویٹ بھی ہو جاتے ہیں مگر پھر کچھ ایسا ہوتا ہے کہ یہ کہانیاں اپنی کشش کھو دیتی ہیں اور ہم دوبارہ ناکام لائف سٹائل اپنانے لگتے ہیں اور زندگی کی ڈور کھنچتی چلی جاتی ہے۔
ہم کب بچے سے نوجوان ہوئے اور پھر نوجوان سے سے جوان ہوئے پتا ہی نہیں چلا اور اب تیزی سے آگے کی طرف بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ہمیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہوسکا کہ اتنا سارا وقت کہاں چلا گیا۔ جب ہم بچے تھے تو اپنی عمر سے بڑے لڑکوں کو دیکھ کر حیران ہو جاتے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہم خود بڑے ہوگئے۔
ہم تو ٹھہرے فلمی آدمی۔ بچپن سے فلمیں دیکھتے ہوئے آرہے ہیں۔ ہمارے ملک کی فلمیں تو ایک عرصہ سے زوال پزیر ہیں۔ اسی لیے پڑوسی کی فلمیں ہی دیکھنے کو ملیں۔
آج سے تقریباً پچیس برس پہلے جب آتش نوجوان تھا۔ایک بولڈ فلم آئی جس کے گانوں نے آڈیئنس کو اپنے سحر میں جکڑ لیا یہ فلم وکرم بھٹ کی ہدایت کاری میں بنی تھی اور ہارر فلم تھی ہارر کے ساتھ ساتھ فلم ساز اور ڈائریکٹر نے بولڈ سین کا ایسا تڑکا لگا دیا تھا کہ نوجوان اس فلم کو چھپ چھپ کر دیکھا کرتے تھے۔
اس فلم کی سب سے خاص بات ایک ایسی حسینہ کی تھی جو اس سے پہلے کبھی کسی فلم میں نہیں آئی تھی۔اس خوبصورت اور دلنشیں ادکارہ کا نام مالنی شرما تھا۔ جس کی بے باک اداؤں نے فلم بینوں پر ایسا جادو کیا تھا کہ انہیں سردی میں پسینہ آنے لگا تھا۔
مالنی شرما ایک ماڈل اور اداکارہ تھی اور فلم راز میں وہ ایک آتما یا بھوت پریت کے کردار میں نظر آئی تھی۔ یوں تو اس فلم میں اور بھی اداکار تھے۔ مگر مالنی کی خوبصورتی اور بولڈ کردار نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
اس وقت ہر جگہ ندیم شروان کی موسیقی سمیر کی شاعری اور فلم راز کے گانے سننے کو ملتے
آپ کے پیار میں ہم سنورنے لگے
دیکھ کے آپ کو ہم نکھرنے لگے
اس قدر آپ سے ہم کو محبت ہوئی
ٹوٹ کے بازوؤں میں بکھرنے لگے
الکا کی آواز پر جب مالنی اس گانے پر پرفارم کرتی تو ایسا لگتا کہ
قدرت نے بنایا ہوگا فرصت سے تجھے میرے یار
جوانی دیوانی ہوتی ہے۔ آپ جتنا بھی گوشہ نشین ہوں لوگوں کے سامنے ہر بات کو بیان کرنے سے کتراتے ہوں مگر آپ کیا ہیں یہ آپ خود جانتے ہیں۔ ایک اچھا جملہ ہے کہ
ہمارے ہاں ہر آدمی باہر سے اشفاق احمد اور اندر سے سعادت حسن منٹو ہے۔
ہمارے کچھ دوستوں نے جن کے گھر پر فلم دیکھنے پر پابندی تھی فلم راز کے بارے میں ہم سے استفسار کیا۔ دراصل وہ فلم کی کہانی سننے کے بجائے فلم کی گہرائی میں جانا چاہتے تھے اور ہم نے ان سے صاف کہ دیا کہ فلم دیکھ کیوں نہیں لیتے اس پر وہ شرمندہ ہوکر چلے گئے۔
بعد ازاں مالنی کو کسی فلم میں نہیں دیکھا گیا۔وہ روح کا کردار کرتے ہوئے خود چھلاوے کی طرح انڈسٹری سے غائب ہوگئی۔اس دوران وہ نہ کسی فلم میں نظر آئی اور نہ کسی اشتہار میں دیکھی گئی۔پچھلے دونوں سوشل میڈیا پر ایک بوڑھی عورت کو دیکھا جو بہت خوش مزاج لگ رہی تھی۔ اس کے بال سفید ہوچکے تھے ۔ وہ شہر سے دور پہاڑی علاقے میں اپنے فارم ہاؤس پر قدرتی ماحول سے محظوظ ہورہی تھی اور پیر پودوں کی دیکھ بھال کررہی تھی۔ غور کرنے اور بار بار انسٹاگرام اور فیس بک پر دیکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ وہی مالنی شرما ہے جس کے دیوانے ہمارے دور کے نوجوان تھے۔(آف کورس ہم بھی تھے)
پہلے تو یقین ہی نہیں آیا بلکہ (ابھی بھی نہیں آرہا ہے) مگر یہ حقیقت ہے پچیس سال کا عرصہ بہت ہوتا ہے۔ مالنی جس کے تیور دیکھ کر نوجوان سکتے میں آجاتے تھے۔ اب اس کا بڑھاپا دیکھ کر ہمارے اوسان خطا ہوگئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ واقعی کوئی بھوت یا پریت آتما ہو جسے دیکھ کر ڈرلگنے لگتا ہے۔
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایکدم نہیں ہوتا
قابل کے اس شعر نے چھکے چھڑا دیے ہیں۔وقت واقعی بڑا بے رحم ہے۔ مالنی اب بوڑھی ہوچکی ہے۔اس کی خوبصورتی کو زوال آ چکا ہے۔ اس کی آنکھوں کی چمک اور اس کی جوانی کا غرور خاک میں مل چکا ہے۔ اس کی بدمست چال اور جوبن اب ڈھل چکا ہے۔
مگر کیا آپ نے خود کو کبھی غور سے دیکھا ہے؟ آپ آئینے میں دیکھیےتو معلوم ہوگا کہ پچیس سال پہلے آپ کیا تھے اور اب آپ کیسے نظر آتے ہیں۔ ٹھیک ہے ابھی آپ بوڑھے نہیں ہوئے ہیں۔ آپ کے بال ابھی پوری طرح سفید نہیں ہوئے ہیں مگر مالنی کو دیکھ کر خوفزدہ مت ہوں یہی حقیقت ہے۔
وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ یہ کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ ہم کو بھی بوڑھا ہونا ہے۔کاش ہم وقت کی قدر کرسکیں زندگی بہت قیمتی ہے۔
بچپن میں جو کہانی سنی تھی جس کا نام زندگی کی ڈور تھا وہ ڈور کھنچتی چلی جارہی ہے۔ وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔ مالنی شرما پہلے بھی خوبصورت تھی اور اب بھی خوبصورت ہے وقت کے ساتھ ساتھ نظریات بدل جاتے ہیں۔ دنیا اپنے ارتقائی سفر پر گامزن ہے۔ یاد رکھیے یہی ہماری اصلیت ہے۔
میر صاحب نے درست فرمایا تھا
آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم
اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ