کراچی: (رپورٹ: محمد نعمان خان) مصنوعی ذہانت (AI) کے تیزی سے بڑھتے استعمال کے ساتھ اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کے خدشات بھی بڑھنے لگے ہیں۔ امریکی AI کمپنی Anthropic نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اس کے AI چیٹ بوٹ Claude کو مختلف سائبر حملوں، جاسوسی اور دیگر حساس کارروائیوں میں استعمال کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران مختلف گروہوں نے Claude کی مدد سے سائبر آپریشنز، نگرانی، معلومات اکٹھی کرنے اور پروپیگنڈا سمیت متعدد سرگرمیوں کی کوشش کی۔ بعض معاملات میں AI کو ایسے کاموں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی جو روایتی طور پر ماہر انسانی ٹیموں کو درکار ہوتے تھے۔
Anthropic کے مطابق ایک معاملے میں ایران سے منسلک عناصر نے AI کو امریکی بحری افواج سے متعلق معلومات جمع کرنے اور مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو منظم کرنے کے لیے استعمال کیا۔ ان سرگرمیوں میں تجارتی سیٹلائٹ تصاویر، جہازوں کے سگنلز اور دیگر عوامی طور پر دستیاب معلومات شامل تھیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ AI کو سائبر حملوں میں فشنگ، میل ویئر اور جعلی ویب سائٹس کی تیاری جیسے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں سامنے آئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت جہاں تحقیق، تعلیم، کاروبار اور روزمرہ زندگی میں نئی سہولیات پیدا کر رہی ہے، وہیں اس کے غلط استعمال سے سائبر سکیورٹی اور عالمی سلامتی کے لیے نئے چیلنجز بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
حالیہ پیش رفت کے بعد امریکہ میں AI کمپنیوں کی ذمہ داری اور جدید AI ماڈلز کے حفاظتی معیارات پر بھی بحث تیز ہوگئی ہے۔ امریکی سینیٹ میں بھی ایسے قانون پر بات چیت جاری ہے جس کے تحت جدید AI بنانے والی کمپنیوں کو بڑے خطرات کی روک تھام کے لیے مزید ذمہ داریاں دی جا سکتی ہیں۔