یہ صرف ایک تحریر نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جسے بہت سے لوگ دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں،مگر بیان کرنے سے ڈرتے ہیں۔
آج کل کچھ لوگ دنیا کے سامنے مخلص،ہمدرد، وفادار، دیندار اور حق و انصاف کے علمبردار بنے پھرتے ہیں۔ان کی گفتگو سنیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ان سے زیادہ رحم دل، انصاف پسند اور دین کو سمجھنے والا شاید ہی کوئی ہو۔ لوگ بھی ان کے ظاہر سے متاثر ہو کر انہیں بہت اچھا انسان سمجھ لیتے ہیں،لیکن انسان کا اصل کردار اس وقت سامنے آتا ہے جب اسے اپنے اختیار میں موجود کسی کمزور انسان کے ساتھ انصاف کرنا ہو۔
کچھ لوگوں کے واقعی دو چہرے ہوتے ہیں؛ایک وہ جو دنیا کو دکھاتے ہیں اور دوسرا وہ جو اپنے ہی گھر کے لوگوں کے ساتھ اختیار کرتے ہیں۔
یہ لوگ باہر والوں کو صبر، محبت، برداشت،دین اور انصاف کے درس دیتے ہیں، لیکن جب ان کے اپنے گھر میں کسی کے ساتھ ظلم یا ناانصافی ہو اور وہ شخص اپنے حق کے لیے آواز اٹھائے تو ظالم کو سمجھانے کے بجائے مظلوم ہی کو خاموش کرایا جاتا ہے۔
اسے کہا جاتا ہے:
"اپنی اصلاح کرو۔” "خاموش رہو۔” "دوسروں کی باتوں پر دھیان نہ دو۔” "حسد کرنے والوں کو نظر انداز کرو۔” "انہیں خوش رہنے دو۔” "ساری غلطی تم میں ہی ہے۔”
اور کبھی بات یہاں تک پہنچ جاتی ہے:
"یہاں رہنا ہے تو رہو، ورنہ جہاں سے آئی ہو واپس چلی جاؤ۔” "ہمیں تمہاری ضرورت نہیں۔” "ہمارے پاس ہر سہولت موجود ہے۔”
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کسی انسان کو سہولتیں فراہم کر دینا اسے دوسرے انسان کی عزتِ نفس مجروح کرنے، اسے خاموش کرانے یا اس پر ظلم کرنے کا حق دے دیتا ہے؟
ہرگز نہیں۔
اسلام نے انسان کی عزت کو بہت بلند مقام دیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
"وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ”
یعنی ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی۔
(سورۃ الإسراء، 17:70)
جب اللہ نے انسان کو عزت دی ہے تو کوئی انسان اپنے اختیار، دولت یا رشتے کی بنیاد پر دوسرے کی عزت چھیننے کا حق کیسے حاصل کر سکتا ہے؟
قرآن کا واضح حکم ہے۔
"اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو، اللہ کے لیے گواہی دو،خواہ وہ گواہی تمہارے اپنے خلاف ہو یا والدین اور رشتہ داروں کے خلاف۔”
(سورۃ النساء، 4:135)
اس آیت کے بعد یہ عذر باقی نہیں رہتا کہ "وہ تو اپنا ہے، اس کا ساتھ دینا ضروری ہے۔”
اگر اپنا شخص غلط ہے تو اسے غلط کہنا ہی انصاف ہے۔
رشتہ داری حق سے بڑی نہیں، محبت انصاف سے بڑی نہیں، اور کسی کی خوشی کسی مظلوم کے حق سے بڑی نہیں۔
سب سے زیادہ افسوس اس وقت ہوتا ہے جب گھر کا بڑا خود ان لوگوں کا ساتھ دینے لگے جو ظلم اور ناانصافی کر رہے ہوں۔صرف ساتھ ہی نہیں دیتا بلکہ ان کی باتیں سنتا ہے، ان کی شکایات اور مطالبات پورے کرتا ہے، ان کے اشاروں پر چلتا ہے اور کبھی دانستہ یا نادانستہ ایسا ماحول پیدا کرتا ہے جس سے مظلوم انسان مزید اذیت میں مبتلا ہو۔
کبھی تو معاملہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ مظلوم کو تکلیف پہنچانے یا اسے جلانے کے لیے انہی لوگوں کی باتوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ ان کے لیے وہ کام کیے جاتے ہیں جن سے ایک بے قصور انسان کے دل کو مزید دکھ پہنچے۔ پھر اگر وہ انسان اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر سوال کرے تو اسے ہی بدتمیز، ناشکرا، حسد کرنے والا یا مسئلہ پیدا کرنے والا بنا دیا جاتا ہے۔
یہ صرف ناانصافی نہیں، بلکہ ایک انسان کو اندر سے توڑنے کا عمل ہے۔
اور اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ گھر کا بڑا خود بھی اس مظلوم کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کرتا، صرف اس لیے کہ وہ دوسروں کے اثر میں آ چکا ہوتا ہے یا اسے اذیت میں دیکھنا چاہتا ہے۔
لیکن ایسے لوگ ایک حقیقت بھول جاتے ہیں.
اللہ سب دیکھ رہا ہے۔
قرآن فرماتا ہے:
"اور ظالم لوگ جو کچھ کرتے ہیں، اللہ اسے ہرگز غافل نہیں سمجھو۔”
(سورۃ ابراہیم، 14:42)
اللہ کی پکڑ خاموش ہوتی ہے، مگر جب آتی ہے تو انسان کے تمام سہارے ختم ہو جاتے ہیں۔
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ یہ جملہ اگرچہ حدیث کے الفاظ نہیں، لیکن اس کا مفہوم قرآن کی اس حقیقت سے ہم آہنگ ہے کہ اللہ ظالموں کے اعمال سے غافل نہیں۔
اور مظلوم کی دعا سے ڈرنا چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذؓ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
"مظلوم کی دعا سے بچو، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اس لیے کسی مظلوم کو یہ سمجھنا کہ وہ کمزور ہے، بے سہارا ہے یا اس کی آواز کوئی نہیں سنے گا، بہت بڑی بھول ہے۔
جس کی آواز زمین کے لوگ نہ سنیں،اس کی فریاد آسمانوں کا رب ضرور سنتا ہے۔
اسی لیے ظلم کرتے وقت یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ سامنے والا کیا کر سکتا ہے؛ بلکہ یہ سوچنا چاہیے کہ اللہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا۔
بچے بھی اپنے بڑوں سے یہی رویے سیکھتے ہیں۔ اگر وہ دیکھیں گے کہ گھر کا بڑا ایک شخص کی عزت نہیں کرتا، اسے مسلسل دبایا جاتا ہے، اس کے خلاف باتیں سنی جاتی ہیں اور ظلم کرنے والوں کی حمایت کی جاتی ہے تو بچے بھی یہی سیکھیں گے کہ کمزور کی عزت ضروری نہیں۔
پھر وہی بچے بڑے ہو کر اسی ناانصافی کو آگے منتقل کرتے ہیں۔
اسلام ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ طاقتور کا ساتھ دو؛ اسلام ہمیں عدل کا حکم دیتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
لہٰذا زبان سے اذیت دینا، مسلسل طعنے دینا، تذلیل کرنا، جھوٹے الزامات لگانا اور ذہنی اذیت پہنچانا معمولی بات نہیں۔
صبر کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان ہر ظلم کو ہمیشہ برداشت کرتا رہے۔
خاموشی ہمیشہ رضامندی نہیں ہوتی۔ کبھی خاموشی ایک ایسے انسان کی آخری طاقت ہوتی ہے جسے بار بار بولنے پر بھی انصاف نہیں ملا۔
اصل دینداری یہ نہیں کہ ہم دنیا کے سامنے کتنی خوبصورت دینی باتیں کرتے ہیں۔ اصل دینداری یہ ہے کہ ہمارے اختیار میں جو انسان ہے، وہ ہمارے ہاتھ، زبان اور رویے سے کتنا محفوظ ہے۔
دوسروں کو انصاف کا درس دینا آسان ہے،مگر اپنے فائدے کے خلاف جا کر انصاف کرنا اصل امتحان ہے۔
لوگوں کے سامنے نیک نظر آنا آسان ہے، مگر گھر کی چار دیواری میں بھی نیک، منصف اور رحم دل رہنا اصل کردار ہے۔
اور یاد رکھیں:
ظلم کبھی ختم نہیں ہوتا، اس کا حساب صرف مؤخر ہوتا ہے۔
مظلوم شاید آج خاموش ہو، شاید اس کے پاس کوئی طاقت نہ ہو، شاید وہ سب کچھ برداشت کرکے آنسو بہا کر سو جائے، لیکن اس کی آہ اللہ تک ضرور پہنچتی ہے۔
اس لیے کسی کے صبر کو اپنی کامیابی نہ سمجھیں۔
کسی کی خاموشی کو اپنی طاقت نہ سمجھیں۔
اور کسی مظلوم کی بے بسی کو اس کی کمزوری نہ سمجھیں۔
کیونکہ جس مظلوم کے پاس دنیا میں کوئی نہیں ہوتا، اس کے پاس اللہ ضرور ہوتا ہے۔
اور آخرکار انسان کو اپنے الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے اعمال سے پہچانا جائے گا۔
دنیا کے سامنے بنائی ہوئی نیک نامی شاید کچھ عرصہ قائم رہ جائے، لیکن اللہ کے سامنے حقیقت چھپائی نہیں جا سکتی۔
اس لیے دوسروں کو دین اور اخلاق کا درس دینے سے پہلے اپنے رویے کا جائزہ لینا چاہیے۔
کیونکہ اصل دینداری یہ نہیں کہ لوگ ہمیں کتنا نیک سمجھتے ہیں؛اصل دینداری یہ ہے کہ ہمارے سبب کسی مظلوم کی بددعا آسمان کی طرف نہ اٹھے۔