آپ کی عزت: ڈرامہ یا پختونوں کی کردارکشی؟

پاکستان ایک ايسا ملک ہے، جہاں مختلف قومیتیں، زبانیں، ثقافتیں اور روایات مل کر اس ملک کی شناخت بناتی ہیں۔ ایسے معاشرے میں ٹی وی ڈرامہ محض تفریح نہیں ہوتا، بلکہ لاکھوں ناظرین کے ذہنوں میں مختلف طبقات اور قومیتوں کے بارے میں تصورات بھی تشکیل دیتا ہے۔ اسی لیے جب کسی قومی شناخت کو بار بار منفی کرداروں کے ساتھ جوڑا جائے تو معاملہ صرف ایک ڈرامے یا ایک کردار تک محدود نہیں رہتا۔ ’’آپ کی عزت‘‘ کے حوالے سے پشتون قوم کا اعتراض بھی اسی بنیادی مسئلے پر ہے کہ پشتون شناخت کو ایک ایسے کردار کے ساتھ جوڑا گیا جس کے رویے اور کردار سے پشتون معاشرے کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہوتا ہے۔

’’آپ کی عزت‘‘ معروف مصنفہ عمیرہ احمد نے لکھا، سیفی حسن نے اس کی ہدایت کاری کی، جبکہ نینا کاشف اور مومنہ درید اس کی پروڈیوسرز ہیں۔ ڈرامے میں سبزی فروش کے کردار کو پشتون شناخت کے ساتھ پیش کیے جانے پر اعتراض سامنے آیا، اور یہ معاملہ اب صوبائی اسمبلی تک پہنچ چکا ہے۔ 21 ستمبر 2026 کو خیبر پختونخوا اسمبلی نے اس معاملے پر متفقہ مذمتی قرارداد منظور کی، جس میں پشتون کردار کی منفی اور توہین آمیز عکاسی پر احتجاج کرتے ہوئے پیمرا سے کارروائی کے لیے رجوع کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

لیکن سوال صرف ’’آپ کی عزت‘‘ تک محدود نہیں۔ پشتون حلقوں کا کہنا ہے کہ قومی میڈیا کے بعض ڈراموں میں پشتون کردار کو اکثر چوکیدار، ڈرائیور، مزدور، سبزی فروش یا دوسرے محدود پیشوں کے ساتھ دکھایا جاتا ہے اور بعض مواقع پر انہی کرداروں کو دہشت گرد، اسمگلر، جرائم پیشہ، دھوکے باز یا غیر اخلاقی شخص کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کی قرارداد میں بھی اسی رجحان پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک کروڑوں کی آبادی رکھنے والی قوم کی شناخت کو ٹی وی اسکرین پر چند مخصوص منفی سانچوں میں محدود کرنا انصاف ہے؟

یہاں اعتراض کسی سبزی فروش، چوکیدار یا مزدور کے پیشے پر نہیں۔ ہر محنت کرنے والا شخص عزت کا مستحق ہے۔ اعتراض اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی کردار کے پیشے کے ساتھ اس کی قومی شناخت بھی منفی کردار کا حصہ بنا دی جائے۔ اگر کہانی میں کوئی شخص مجرم ہے تو اسے مجرم دکھایا جاسکتا ہے، مگر اس جرم کو کسی پوری قوم کی شناخت سے جوڑنا ایک الگ معاملہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بحث کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔

پشتون معاشرے کی شناخت صرف ایسے کرداروں سے نہیں بنتی۔ جرگہ، حجرہ، مہمان نوازی، وعدہ نبھانا، بزرگوں کا احترام، اجتماعی مشاورت اور عورت کی عزت پشتون معاشرت کے اہم پہلو ہیں۔ جرگہ صدیوں سے اجتماعی مشاورت اور تنازعات کے حل کی روایت رہا ہے، جبکہ حجرہ مہمان نوازی، میل جول اور سماجی تعلقات کی علامت رہا ہے۔ اگر ٹی وی ڈرامہ کسی قوم کی تصویر پیش کرتا ہے تو اس تصویر میں اس قوم کے مثبت، تاریخی اور ثقافتی پہلو بھی نظر آنے چاہئیں۔

پشتون تاریخ میں خدمت، سیاست، علم، مزاحمت اور قربانی کی ایک طویل روایت موجود ہے۔ خان عبدالغفار خان، باچا خان نے عدم تشدد، تعلیم اور انسانی خدمت کا راستہ اختیار کیا۔ عبدالولی خان نے پارلیمانی سیاست اور وفاقی حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ خان عبدالصمد خان اچکزئی نے سیاسی، جمہوری اور صحافتی میدان میں نمایاں کردار ادا کیا۔ فقیر ایپی برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت کی تاریخ کا معروف نام ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں ڈاکٹر عبد القدیر خان، عبد الرب نشتر اور جنرل وحید کاکڑ جیسے نام بھی پشتونوں کی مختلف شعبوں میں خدمات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ کسی قوم کی اتنی وسیع تاریخ کو چند منفی کرداروں میں سمیٹ دینا اس کی مکمل تصویر نہیں ہوسکتی۔

یہ معاملہ اب صرف سوشل میڈیا کے احتجاج تک بھی محدود نہیں رہا۔ خیبر پختونخوا اسمبلی نے متفقہ قرارداد کے ذریعے اپنا موقف ریکارڈ کرا دیا ہے۔ قرارداد میں وفاقی حکومت اور سے پیمرا سے رجوع کرنے، متنازع مواد کا نوٹس لینے اور قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ اب خیبر پختونخوا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قرارداد کو صرف اسمبلی کی کارروائی کا حصہ نہ بننے دے بلکہ اسے وفاقی حکومت اور پیمرا کے سامنے مؤثر انداز میں اٹھائے۔

پشتون قوم کی طرف سے یہ مطالبہ سامنے آ رہا ہے کہ HUM TV، رائٹر عمیرہ احمد، ڈائریکٹر سیفی حسن اور متعلقہ پروڈیوسرز پشتون قوم سے واضح اور کھلے الفاظ میں معافی مانگیں۔ صرف خاموشی یا رسمی وضاحت کافی نہیں سمجھی جا رہی۔ مطالبہ یہ بھی ہے کہ اگر متنازع کردار اور مواد نشر کیا گیا ہے تو اسے ختم کیا جائے اور اسی HUM TV کی سکرین پر پشتون قوم سے باقاعدہ معافی مانگی جائے تاکہ جس جگہ سے اعتراض اٹھا، اسی جگہ اس کا ازالہ بھی نظر آئے۔

اسی طرح پشتون حلقوں کا مطالبہ ہے کہ پیمرا سخت سے سخت کارروائی کرے، بھاری جرمانے عائد کرے اور متنازع ڈرامے کی نشریات پر پابندی سمیت قانون کے تحت دستیاب سخت اقدامات کرے۔ مقصد، مطالبہ کرنے والوں کے مطابق، صرف ’’آپ کی عزت‘‘ کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ آئندہ کسی بھی قوم، زبان، صوبے یا ثقافت کو منفی دقیانوسی تصورات کے ذریعے پیش کرنے کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

1971 کا سانحہ بھی ہمارے سامنے ایک تاریخی سبق ہے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب پیچیدہ تھے اور ان میں سیاسی، لسانی، معاشی، علاقائی اور باہمی اعتماد کے متعدد عوامل شامل تھے۔ لیکن اس تاریخ سے یہ سبق ضرور ملتا ہے کہ جب مختلف قومیتوں کے درمیان فاصلے، محرومیاں اور بداعتمادی بڑھیں تو وفاقی وحدت متاثر ہوسکتی ہے۔ میڈیا کو ایسے فاصلے کم کرنے کا ذریعہ بننا چاہیے، بڑھانے کا نہیں۔

’’آپ کی عزت‘‘ کے معاملے نے ایک بنیادی سوال اٹھایا ہے: کیا ڈرامائی کہانی کے لیے کسی قوم کی شناخت کو بار بار منفی کرداروں کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے؟ پشتون قوم کا مطالبہ کسی کو کہانی لکھنے سے روکنے کا نہیں، بلکہ اپنی شناخت کے احترام کا ہے۔ تخلیقی آزادی اپنی جگہ، مگر قومی شناخت اور ثقافتی احترام بھی اسی معاشرے کی ذمہ داری ہے۔

اب نگاہیں خیبر پختونخوا حکومت، وفاقی حکومت اور پیمرا پر ہیں۔ اسمبلی کی متفقہ قرارداد کے بعد یہ معاملہ محض سوشل میڈیا کی بحث نہیں رہا۔ پشتون حلقے واضح معافی، متنازع مواد کے خاتمے اور پیمرا کی طرف سے سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پشتون قوم اپنی تاریخ، ثقافت اور شناخت کے احترام کا حق رکھتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے