خوشحال معموروں کی حکایات

گزشتہ اظہاریے میں کچھ ایسے ممالک کا ذکر رہا جنہوں نے رواں صدی کا آغاز غربت، محرومی اور اجتماعی افلاس سے کیا لیکن پھر ہمت کی کمر باندھی اور قدم بقدم منزلیں طے کرتے آج خوشحالی کی بلندیوں پر پہنچ چکے۔ یہ فہرست کسی سیاسی یا فکری زاویے کے بغیر محض معاشی اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کی تھی۔ سوئے اتفاق سے اس میں بنگلہ دیش کا ذکر بھی آ گیا۔ بنگلہ دیش کا تذکرہ بوجوہ ہمارے ملک میں ایک خاص طبقے کیلئے اس دیہاتی چوہدری کی نفسیات سے مناسبت رکھتا ہے جسکی جواں سال بیٹی نصف صدی پہلے کاتک کی ایک سرد رات میں حریف قبیلے کے نوجوان کا ہاتھ پکڑے دھان کے کھیت میںسے ہوتی نظروں سے اوجھل ہو گئی تھی۔ چوہدری نے بہت بین کیے، واویلا کیا، گائوں والوں کے دروازے پیٹے۔ مگر یہ کہ مڑ کر اپنے آنٔگن کے پدر شاہی بندوبست پر نظر نہیں ڈالی جہاں آدھی صدی پہلے کی طرح آج بھی نگہ التفات سے محروم ان گنت بیٹیاں قد نکال رہی ہیں۔ چوہدری کے ایک پارینہ وظیفہ یاب سپاہی سے درویش کی یاد اللہ ہے۔

تا تار ی دیو کے حجرہ تار کے تاریک تہ خانوں میں اسیر یہ بوڑھا سپاہی گاہے گاہے سلاخوں سے سر نکال کر محو پرواز پرندوں کے چہچہاہتے گیتوں پر خوخیاتا ہے۔ اپنے تاریک کاسہ سر میں رکھے زنگ آلود ہتھیار اس طرح لہراتا ہے گویا سلاخیں توڑ کر ماضی کی ہزیمت کا داغ دھوڈالے گا ۔ گزشتہ اظہاریے میں بنگلادیش کی ترقی کا حال پڑھ کر یہ مرد پیر پھر سے بلبلایا ہے کہ بنگلہ دیش کی ترقی کے اعداد و شمار سراسر غلط ہیں ۔ اگر سنار بنگلہ نے یہ ترقی کی ہوتی تو 2023 میں کشکول اٹھا کر آئی ایم ایف کے پاس کیا کرنے گیا تھا۔ ایک سادہ جواب تو یہ ہے کہ سرمایہ دار معیشت میں قرض لینا معاشی بدحالی کی دلیل نہیں۔ لمحہ موجود میں امریکا 40 کھرب ڈالر کا مقروض ہے اور دوسرے یہ کہ اگر بنگلہ دیشی معیشت ایسی ہی خستہ حالت تھی تو اگست 2024ءمیں حسینہ واجد کی معزولی پر پاکستان کے قدامت پرست طفلان گلی کوچہ تہمد اور دیگر زیر جامے اٹھا کر بے ساختہ رقص کناں کیوں ہوئے تھے۔ محترم فرید پراچہ نے تو ترنت درویش کی معروضات کا جواب بھی لکھ دیا ۔ یہ الگ قصہ ہے کہ 350 کے ایوان میں جماعت اسلامی کے گیارہ جماعتی اتحاد کو کل 77نشستیں مل سکیں۔حضرت کو ان کے اپنے عرق انفعال میں غلطاں چھوڑ کر اپنے استدلال کی طرف پلٹتے ہیں۔

معیشت میں پانچ گنا اضافہ کرنے والے بنگلہ دیش کی سنہ 2000 ءمیں فی کس آمدنی 397 ڈالر تھی جو آج 3ہزار ڈالر کو پہنچ چکی ہے۔ بنگلہ دیش نے برآمدات پر مبنی صنعت کاری ، بیرونی ترسیلات زر اور نچلی سطح پر سماجی تبدیلیوں پر معاشی ترقی کی بنیاد رکھی ہے ۔ بنگلہ دیش کی 43فیصد عورتیں منفعت بخش معاشی سرگرمی کا حصہ ہیں۔ سنہ 2000میں بنگلہ دیش کا معاشی حجم صرف 54ارب ڈالر تھا جو رواں برس 510 ارب ڈالر کو پہنچ چکا ہے۔ چھٹی بڑی عالمی معیشت بھارت کا معاشی حجم سنہ 2000ءمیں 470 ارب ڈالر تھا جو اس برس 4.15کھرب ڈالر کو پہنچ چکا ہے۔ سالانہ 6سے 7فیصد کی رفتار سے ترقی کرنے والے بھارت کی فی کس آمدنی سنہ 2000 میں 442 ڈالر تھی ۔ جو آج 2800 ڈالر سے متجاوز ہے۔ 1991ءمیں معیشت کو پنڈت نہر و کے معاشی نمونے سے آزاد کرنیوالے بھارت نے انفراسٹرکچر میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے اور ہنرمند افرادی قوت بڑھائی ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری کو راستہ دیا ہے اور داخلی پیداواری بنیاد بڑھائی ہے۔

آئی ٹی کی دنیا میں رہنما حیثیت رکھنے والا بھارت انفارمیشن ٹیکنالوجی سے سالانہ 280ارب ڈالر کما رہا ہے اور 54لاکھ شہری اس شعبے سے وابستہ ہیں۔ ایک تباہ کن جنگ اور سیاسی عدم استحکام کے باوجود عراق کی معیشت میں حالیہ ربع صدی کے دوران 430فیصد اضافہ ہوا ہے تاہم اس معاشی ترقی کی بنیاد تیل اور گیس کی برآمدات نیز علاقائی صورتحال سے تعلق رکھتی ہے۔جنگ سے قبل عراق کی فی کس آمدنی 1980 ڈالر تھی جو اب 5677 ڈالر کو پہنچ چکی ہے۔ عراق کا معاشی حجم اب بھی 265 ارب ڈالر ہے لیکن مساوی قوت خرید کے پیمانے پر عراقی معیشت 740ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ قزاقستان کی معیشت میں حالیہ ربع صدی میں 425 فیصد اضافہ ہوا ہے۔سنہ 2000میں قزاقستان کی فی کس آمدنی 1229 ڈالر تھی جو اب 17500 ڈالر کو پہنچ چکی ہے ۔ مجموعی داخلی پیداوار 360 ارب ڈالر ہے جو ربع صدی قبل 18ارب ڈالر تھی۔ معیشت میں 425 فیصد کا یہ پھیلائو بنیادی طور پر معدنی ذخائر کی برآمدات سے تعلق رکھتا ہے۔

مشرقی افریقہ کے ساحلی ملک کینیا نے 25برس میں اپنی معیشت کو چار گنا ترقی دی ہے۔ فی کس آمدنی سنہ 2000میں 414ڈالر تھی جو آج 2714 ڈالر کو پہنچ چکی ہے۔ کینیا نے یہ ترقی معاشی خدمات ، زراعت ، مصنوعات ، مواصلات اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری سے حاصل کی ہے۔ جنوبی امریکا کے شمال میں واقع ملک گیانا سریع الرفتار معیشتوں میں واحد ملک ہے جس کا معاشی معجزہ ایک ناقابل پیش گوئی حادثے کا مرہون منت ہے ۔ 2015میں گیانا کے ساحلوں سے کوئی دو سوکلومیٹر دور سمندر میں تیل کے ذخائر دریافت ہوئے جس کے نتیجے میں اس غریب ملک کی معاشی شرح ترقی اچانک 10 فیصد سے بڑھ گئی اور حالیہ چند برس میں تو ترقی کی یہ شرح 48 فیصد سالانہ تک پہنچ گئی ہے۔ ترقی کی اس شرح کا کوئی دوسرا ملک تصور بھی نہیں کر سکتا۔ سنہ 2000 ءمیں گیانا کی فی کس آمدنی 932 ڈالر تھی جو رواں برس 33170ڈالر کو پہنچ گئی ہے۔ جاننا چاہیے کہ تیز رفتار معاشی ترقی کرنے والے ان ممالک نے پائیدار منصوبہ بندی اور اجتماعی ارادے کی مدد سے معاشی ترقی کی منزلیں طے کی ہیں ۔ ان میں سے کسی ملک نے نئے صوبے نہیں بنائے، اپنی صفوں میں کوئی نابغہ روزگار رہنما دریافت نہیں کیا اور نہ اپنے قومی اثاثے بیرونی دنیا کے ہاتھوں رہن رکھے ہیں۔ سعادت سعید کی کچھ سطریں ملاحظہ کریں:

زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے تو پھر

اپنی مجبوری کا الزام کسی اور پر دھرنا کیسا!

ایڑیاں اپنی سلامت ہوں تو پھر

سایہ نخل تمنا بھی ملے

چشمے بھی

ایسے معمورے بھی خوشحال ہے خلقت جن کی !

دوقدم چل کے ذرا دیکھ تو صحرائوں میں سبزے کی نمود

تتلیاں اڑتی ہیں پودوں پہ نصیبوں والی

یعنی جو لوگ ہیں معمار زمانے والے

جبر کے فیل سیہ کار کو بھی

قابو میں لانے والے!

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے