مذہبی طبقات کے لفڑے اور قوم کی ضرورتیں

مذہبی طبقات کے ساتھ کلی طور پر جڑنے والوں کے المیے بعض اوقات بہت خطرناک ہوتے ہیں۔ ہمارے مذہبی اداروں، گروہوں، جماعتوں اور شخصیات نے اپنے قریب آنے والوں کو عجیب و غریب مخمصوں میں ڈال رکھا ہے۔ ان کے لڑنے، بھڑنے اور الجھنے کے موضوعات بھی عجیب ہیں۔ کبھی مقلد اور غیر مقلد کی لڑائی ہوتی ہے، کبھی حنفیت اور غیر حنفیت کا معرکہ برپا ہوتا ہے، کبھی حیاتی و مماتی کا چکر چلتا ہے، کبھی ناصبی و رافضی کے مخمصے سامنے آتے ہیں، کبھی دیوبندی بریلوی جھگڑے رونما ہوتے ہیں، تو کبھی مودودی، فراہی، مدنی، تھانوی، غامدی، تبلیغی و جہادی اور معلوم نہیں کتنے ہی ناموں اور نسبتوں کے گرد نوجوانوں کو الجھا دیا جاتا ہے۔

بدقسمتی سے دینی جامعات و مدارس میں پڑھنے پڑھانے والے لاکھوں نوجوان طلبہ اور اساتذہ بھی انہی لفڑوں سے نہ صرف متاثر ہوتے ہیں بلکہ رفتہ رفتہ کسی نہ کسی گروہ کے صفِ اول کے کھلاڑی بن جاتے ہیں۔ بالآخر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو ذہین نوجوان قرآن، حدیث، فقہ، سیرت، دعوت، تحقیق، تعلیم، معاشرت اور اصلاح امت میں اپنا کردار ادا کرسکتے تھے، ان کی صلاحیتیں ایک دوسرے کو زیر کرنے، غلط ثابت کرنے اور اپنے گروہ کی برتری ثابت کرنے میں صرف ہوجاتی ہیں۔ یوں ذہانت خیر کے بڑے کاموں سے دور ہوکر ہمیشہ کے لیے ان لفڑوں کی نذر ہوجاتی ہے۔ کاش ہم ان لفڑوں سے نکل سکیں۔

میں خدا کی ذات کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ قوم کو ان لفڑوں سے کوئی غرض نہیں۔ قوم کو اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ آپ نے کس مسلک و منہج کے آدمی کو آج شکست دی اور کس عالم کی عبارت سے کون سا جملہ نکال کر اسے لاجواب کردیا، کس بزرگ کی طرف اپنی نسبت ثابت کردی اور کس مخالف شخص کے بارے میں یہ ثابت کردیا کہ وہ آپ کے معیار کے مطابق درست عقیدہ نہیں رکھتا۔

پہلے یہ لفڑے محدود عوامی جلسوں، مناظروں اور مخصوص حلقوں تک رہتے تھے۔ اپنے اپنے اختلافات کی تشہیر کے لیے مخصوص منبر، مخصوص رسائل اور مخصوص مجالس ہوا کرتی تھیں۔ اب سوشل میڈیا، ویب سائٹس، یوٹیوب اور ڈیجیٹل میڈیا نے ان مباحث کو پوری دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے۔ ایک معمولی اختلاف چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے اور ایک چھوٹا سا مناظرانہ یا مضحکانہ جملہ نوجوانوں کی ذہنی دنیا میں طوفان برپا کردیتا ہے۔

نفیس علمی شخصیات سے لے کر عام مسلمان اور نوجوان تک، ایک بڑی تعداد ان مسلسل جھگڑوں سے بیزار ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ نوجوان جب ان مباحث کی زد میں آتا ہے تو پہلے تماشائی بنتا ہے، پھر فریق بنتا ہے، پھر وکیل بنتا ہے اور بالآخر اپنے گروہ کا سپاہی بن جاتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ اسے دین کے بڑے مقاصد سے زیادہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ فلاں بزرگ نے فلاں کے بارے میں کیا کہا تھا اور فلاں نے فلاں کے بارے میں کیا فتویٰ دیا تھا، اس کو ٹوٹل کام یہی بن کر رہ جاتا ہے۔

یہ صورت حال اس لیے زیادہ افسوس ناک ہے کہ آج کا نوجوان سوالات سے بھری ہوئی دنیا میں زندگی گزار رہا ہے۔
اس کے ناک کے بلکل نیچے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل دنیا، سوشل میڈیا، سائبر کلچر، فیک نیوز، معلومات کا سیلاب، الحاد، تشکیک، مادیت، صارفیت، تنہائی،ڈپریشن ، ایگزائٹی،ذہنی دباؤ، ذاتی دشمنیاں ،خاندانی چپقلشیں، جنسی اخلاق کے بدلتے تصورات، صنفی مباحث، انسانی حقوق، آزادی اظہار، جدید ریاست، جمہوریت، آئین و دستور، شہری ذمہ داریاں، معاشی عدم مساوات، بینکاری، ڈیجیٹل کرنسی، آن لائن تجارت، ماحولیاتی بحران، موسمیاتی تبدیلی، بائیوٹیکنالوجی، جینیاتی تحقیق، پرائیویسی اور ڈیٹا سکیورٹی جیسے بے شمار سوالات کھڑے ہیں۔ وہ ان سوالات کے سامنے بلکل بے بس ہے، صرف نوجوان کیا ان کے والدین، سرپرست اور اساتذہ بھی اس کیفیت سے دوچار ہیں۔

اسے یہ بھی سمجھنا ہے کہ ٹیکنالوجی نعمت کب ہے اور عذاب کب؟ مصنوعی ذہانت انسان کی مدد کہاں تک کرسکتی ہے اور انسان کی اخلاقی ذمہ داری کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ سوشل میڈیا کو دعوت، تعلیم اور خیر کے لیے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس کی لت، نمائش اور جھوٹی معلومات سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ علم کے اس بے پناہ ذخیرے میں صحیح اور غلط معلومات میں فرق کیسے کیا جائے گا؟ اور اس کے لیے کونسی صلاحیتیں درکار ہیں؟ وہ بحیثیت مسلم ان تمام چیزوں کے بارے متفکر ہیں، کھبی ان کیساتھ بیٹھیں تو اندازہ ہوجائے گا۔

لیکن کف افسوس ملتے ہوئے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے پاس اس نوجوان کے لیے اکثر جواب کے بجائے ایک نیا مناظرہ ہوتا ہے اور کسی کے نشیمن کو جلاکر راکھ کرنے کا اگلا منصوبہ تیار رہتا ہے۔ یعنی ہم ان مشکلات و ضروریات کو مخاطب کرنے کے بجائے اس نوجوان اور اس کے بڑوں کو ایک نئے مناظراتی لفڑے میں دھکیل کر مزید بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔

آج کے جدید تعلیم یافتہ والدین کو قرآن و حدیث اور فقہ و اجتہاد کی ضرورت ہے۔ انہیں سیرت سننے اور سمجھنے کی چاہت ہے۔ انہیں اپنے گھروں میں اولاد کی تربیت کے لیے نبوی منہج چاہیے۔ انہیں یہ معلوم کرنا ہے کہ موبائل، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے دور میں بچوں کی تربیت کیسے کی جائے۔ انہیں یہ جاننا ہے کہ نوجوانوں کے سوالات، شکوک، ذہنی الجھنوں اور اخلاقی چیلنجز سے قرآن و سنت کی روشنی میں کیسے مکالمہ کیا جائے۔ آپ ہی سچ سچ بتاؤ کہ کیا ایسا نہیں ہے؟

مگر افسوس کہ ہمارے مذہبی طبقات اور مدارس کے فضلاء کا بڑا حصہ نہ قرآن کو جدید انسان کی زبان اور اس کے سوالات کے تناظر میں سمجھانے کی مناسب کوشش کررہا ہے، نہ حدیث کو عصری زندگی سے جوڑنے کی، نہ فقہ کو جدید مسائل کے ساتھ مربوط کرنے کی، اور نہ سیرتِ نبوی ﷺ کو محض واقعات کے بجائے ایک مکمل فکری، اخلاقی، معاشرتی، سیاسی اور تربیتی منہج کے طور پر پیش کرنے کی۔کیا بڑے اداروں اور شخصیات کو اس حوالے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں؟

اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ ہر فرقہ، ہر گروپ اور ہر متشدد مزاج شخص قرآن و حدیث اور فقہ و سیرت کو اپنے لیے اس انداز میں پیش کررہا ہے جیسے خدا نے ان کی منشا پر قرآن اتارا ہو۔ اپنی بات نہ ماننے والے یا ان کے مقابل دلیل پیش کرنے والے کو کبھی بدعتی، کبھی گمراہ اور کبھی دائرۂ اسلام سے باہر نکال کر ہی دم لیا جاتا ہے۔کیا رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی ایسے گزری ہے؟ یا اہل بیت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایسا کچھ کیا ہے؟

حالانکہ غور کریں تو قرآن ہمیں اختلاف کے آداب سکھاتا ہے، علم ہمیں تواضع سکھاتا ہے اور سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں انسانوں کو جوڑنے کا طریقہ بتاتی ہے۔ اور تعامل صحابہ بھی یہی ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان کو صرف یہ نہ بتایا جائے کہ تمہارا مخالف غلط ہے، بلکہ یہ بھی بتایا جائے کہ تم صحیح کیسے ہو، تمہاری دلیل کیا ہے، اختلاف کے آداب کیا ہیں اور دین کا اصل مقصد کیا ہے۔ اور دین ہم سے کیا تقاضہ کرتا ہے؟

آج نوجوان کو قرآن کی آیات صرف تلاوت کی حد تک نہیں بلکہ زندگی کے سوالات کے جواب کے طور پر سمجھانے کی ضرورت ہے۔ اسے بتایا جائے کہ قرآن انسان، خاندان، معاشرہ، ریاست و سیادت، معیشت، عدل و انصاف ، امانت و دیانت ، علم و آگاہی ، اخلاق و کردار ، آزادی و پابندی، ذمہ داری اور انسانی کرامت کے بارے میں کیا تصور دیتا ہے۔

اسے سیرتِ نبوی ﷺ سے یہ سکھایا جائے کہ ایک جدید ریاست میں حکمرانی، قانون، عدل، شہری ذمہ داری، اقلیتوں کے حقوق، مشاورت، احتساب اور اجتماعی نظم کے اصول کیسے سمجھے جاسکتے ہیں۔ رسول اللہ نے ان سب کے لیے کیا کیا تھا؟ نوجوان کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ جدید ریاست کے تقاضوں کو دین کی روشنی میں کیسے دیکھا جائے، اور دین کو ریاستی نعروں سے نکال کر عدل، امانت، شوریٰ، ذمہ داری اور انسانی فلاح کے عملی اصولوں میں کیسے تبدیل کیا جائے۔ کیا ہم ایسا کررہے ہیں؟

آج کے نوجوان کو بتانے کی ضرورت ہے کہ تعلیم محض ڈگری کا نام نہیں، نہ بڑے اور مہنگے تعلیمی اداروں میں جوتے گھسانے کا نام ہے بلکہ نبوی منہج میں تعلیم انسان بنانے کا عمل ہے۔ موجودہ تعلیمی انقلاب کو محض ٹیکنالوجی کے انقلاب کے طور پر نہیں بلکہ علم، کردار، تحقیق، تخلیق، خدمت اور اخلاق کے انقلاب میں تبدیل کرنا ہے اور یہ کام لامحالہ وارثین انبیاء نے کرنا ہے۔ یا پھر کسی اور نے کرنا ہے؟

آج کا نوجوان متقاضی ہے کہ اسے جدید معاشی نظام سمجھایا جائے، انویسٹمنٹ، محنت، ملکیت، منافع، قرض، تجارت، بینکاری، زکوٰۃ، وقف، دولت کی گردش اور معاشی انصاف کو قرآن و سنت کی روشنی میں سماج کو مخاطب کرنا ہے۔ اسے ڈیجیٹل معیشت، ای کامرس، مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی نئی معاشی صورتوں اور مستقبل کے روزگار کے سوالات سے بھی دین کے بنیادی اصولوں کے ساتھ جوڑنا ہے۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتایا جائے کہ یہ کام کون کرے گا، اگر ہم غیر ضروری لفڑوں میں وقت اور توانائیاں صرف کریں گے تو؟ خدارا! ان لفڑوں سے خود کو بھی نکالیں اور نئی نسل کو، اس آگ سے نکلنے کا خدائی حکم ہمارے پاس موجود ہے۔ قرآن میں اس حکم کو دھونڈنا ہے۔

نوجوان کو یہ بھی بتانا ہے کہ اسلام صفائی، پانی کے تحفظ، درختوں، جانوروں، زمین اور قدرتی وسائل کے بارے میں کیا اخلاقی ذمہ داری عائد کرتا ہے یعنی ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی جیسے جدید سوالات بھی دینی اخلاقیات سے باہر نہیں۔ کیا ان کے بارے دینی تعلیم ہمیں رہنمائی نہیں دیتی؟

آج کا نوجوان ہو یا بوڑھا، اس کو صرف مسجد کا راستہ نہیں، زندگی کا راستہ بھی دکھانا ہے۔ اور زندگی نے قلیل وقت میں اتنے رخ بدلے ہیں جو ہماری سوچ سے باہر ہیں۔
اسے نماز بھی سکھانی ہے اور وقت کی قدر بھی، قرآن بھی پڑھانا ہے اور تحقیق کا ذوق بھی دینا ہے، حیا بھی سکھانی ہے اور علم و ہنر بھی، آخرت کی فکر بھی دینی ہے اور دنیا میں ذمہ دار شہری بننے کا شعور بھی۔ کیا ہم ایسا کررہے ہیں؟ سچ یہی ہے کہ جب ہمیں ان غیر مفید بلکہ مضر لفڑوں سے فرصت ملے گی تو یہ کام کریں گے نا۔

آج کے جدید علوم اور مشینوں سے واقف انسان ہم سے متقاضی ہے کہ مسلمان ہونا دنیا سے کٹ جانا نہیں، نہ ہی غاروں میں چھپنا ہے، بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے اللہ کے سامنے جواب دہ انسان بننا ہے۔ اسے زندگی کا یہ ہنر کون سکھائے گا؟ کیا وہ لوگ سکھائیں گے جو سوشل اور ڈیجٹل میڈیا پر اپنوں کے کپڑے نوچتے ہیں دن رات؟ اور بےکار اور لایعنی موضوعات میں پڑ کر اپنا دامن بھی چاک کرتے اور اپنے بڑوں کی بھی قمیص بھی پھاڑتے ہیں؟

دل کی بات یہی ہے اور سماج کا بھی ہم سے یہی تقاضہ ہے کہ آج ہمیں ایسے علماء، اساتذہ اور دانش وروں کی ضرورت ہے جو مناظروں کے فاتح نہیں، انسانوں کے مربی ہوں، فرقہ وارانہ مباحث کے کھلاڑی نہیں، قرآن و سنت کے حکیمانہ ترجمان ہوں، اور ماضی کے اختلافات کے محافظ ہی نہیں، مستقبل کے سوالات کے جواب تلاش کرنے والے محقق بھی ہوں۔ سچ بتاؤ کہ کیا آج کا مسلمان اس چیز کا متقاضی نہیں؟

میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ قوم بالخصوص نوجوان کو آپ کے باہمی لفڑوں سے غرض نہیں۔
قوم کو علم و ہنر چاہیے، اخلاق و کردار چاہیے، عدل و انصاف چاہیے، امن و آشتی چاہیے، اچھی تعلیم و تربیت چاہیے، مضبوط خاندان چاہیے، باکردار شہری چاہیے، دیانت دار قیادت چاہیے، معاشی انصاف چاہیے اور ایسا دین چاہیے جو اس کی زندگی کو سنوارے۔

اگر ہماری دینی مجالس اداروں اور شخصیات کی صحبت سے نکلنے والا نوجوان ہر مخالف کو گمراہ ثابت کرنے کا ہنر تو سیکھ جائے لیکن اپنے گھر کو سنوارنے، معاشرے کی خدمت کرنے، تحقیق و تدقيق کرنے، سوال و اشکال کا جواب دینے، اختلاف و تنقید برداشت کرنے اور انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور ھمدردی کرنے کا ہنر نہ سیکھے تو ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنا چاہیے کہ کہیں ہم نے دین اسلام کے بڑے مقصد کو اپنے چھوٹے چھوٹے لفڑوں کے نیچے تو نہیں دبا دیا؟ یا ہماری ترجیحات یہی صرف یہی لفڑے تو نہیں؟

اللہ کا دین بہت بڑا ہے اور رسول اللہ کی سیرت بھی، ہمارے گروہ اور ہمارے لفڑے بہت چھوٹے ہیں۔ سچ یہی ہے کہ قرآن حکیم بہت وسیع ہے، ہماری تعبیرات محدود ہیں۔
سیرتِ نبوی ﷺ بہت گہری ہے، ہمارے مناظرے بہت سطحی۔
اور قوم کے مسائل اور دینی ضروریات ہمارے باہمی لفڑوں سے کہیں بڑے ہیں۔

کیا اب بھی وقت نہیں آیا ہے کہ ہم نوجوانوں کو ماضی کے جھگڑوں میں قید کرنے کے بجائے قرآن و سنت کی روشنی میں مستقبل کی طرف دیکھنا سکھائیں۔؟

دل ہر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ قوم کو ہمارے لفڑوں سے نہیں، ہمارے علم، کردار، بصیرت اور عمل سے غرض ہے۔ وہ ہمیں امام دیکھنا چاہتی اور ہم نکلے گلی کے لفڑا باز۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے