یہ ایک ایسی خبر ہے جس نے پاکستان اور ایران میں تشویش پھیلا دی ہے اور ان دونوں ممالک کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔ 18اکتوبر کے اخبارات میں یہ پریشان کن خبر شائع ہوئی ہے کہ پاکستان نے گبد ریمدان بارڈر کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ گبد پاکستانی بلوچستان کا علاقہ ہے اور ریمدان ایرانی بلوچستان کا علاقہ ہے۔ یہ راہداری پاکستان کے گوادر پورٹ سے صرف 87 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ کچھ ماہ قبل جب ایران اور امریکا میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے تجارت متاثر ہوئی تو اچانک گوادر پورٹ پر ٹریفک بڑھ گئی۔ گوادر کی اہمیت میں اضافے کیساتھ ہی گبد اور ریمدان کے راستے پاکستان اور ایران میں بھی تجارت شروع ہو گئی۔ ایرانی کمپنیوں اور تاجروں نے اپنا مال گوادر منگوانا شروع کیا اور وہاں سے انکا مال دو گھنٹے میں ایران پہنچ جاتا تھا۔ گبد ریمدان راہداری پر آمدورفت میں اضافے کی ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ یہ راہداری تفتان زاہدان بارڈرکی نسبت زیادہ محفوظ تھی لیکن اب حکومت بلوچستان کے ترجمان نے بتایا ہے کہ گبد ریمدان راہداری کو بند کرنیکی وجہ امن و امان کی خراب صورتحال اور اسمگلنگ ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی گبد ریمدان راہداری کی بندش کے بارے میں محتاط بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ تکنیکی وجوہات کے باعث یہ بارڈر عارضی طور پر بند کیا گیا ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ تفتان زاہدان بارڈر پر بھی یہی صورتحال ہے اور دونوں راہداریوں پر ہزاروں کنٹینرز پھنس گئے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے تجارتی راستے پہلے سے بند ہیں اب پاکستان اور ایران کے درمیان دو تجارتی راستے بھی بند ہوگئے ہیں جسکا سب سے زیادہ منفی اثر گوادر پورٹ پر پڑیگا۔ اس بندش سے پاکستان میں مائع گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ان دنوں یہ مائع گیس ایران سے آ رہی تھی۔ گوادر آبنائے ہرمز سے چار سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور اس راستے سے دنیا کے 20فیصد تیل کی تجارت ہوتی ہے۔ آبنائے ہرمز پر کشیدگی نے وقتی طور پر گوادر کی اہمیت میں اضافہ کیا لیکن افسوس کہ پاکستان کی حکومت اس اہمیت کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار نظر آتی ہے۔ گوادر پورٹ کی صرف ایران کو نہیں بلکہ جنوبی ایشیا، وسط ایشیا اور مغربی ایشیا کے کئی ممالک کو بھی ضرورت ہے۔
2019ء میں سعودی عرب کی آرامکو کمپنی نے یہاں دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے ایک آئل ریفائنری قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ سعودی کمپنی کی کوشش تھی کہ چین بھی اس منصوبے میں پارٹنرشپ کرے لیکن چین کیساتھ بات چیت آگے نہ بڑھ سکی۔ ایران اور امریکا کی جنگ کے بعد یہ منصوبہ جمود کا شکار ہے اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے بعد اس منصوبے کے آگے بڑھنے کے امکانات مزید کم ہو گئے ہیں۔جب سے چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) منصوبے کے تحت گوادر پورٹ کی ڈویلپمنٹ پر کام شروع ہوا ہے بلوچستان میں دہشت گردی بڑھ گئی ہے۔ اس دہشت گردی کے پیچھے کوئی ایک دشمن ملک ملوث نہیں بلکہ اس میںکچھ دوست ممالک کا بھی ہاتھ ہے۔ پاکستان نے ان سازشوں کو ختم کرنے کیلئے کچھ عرصہ قبل امریکا کو پسنی پورٹ ڈویلپ کرنے کی آفر کی تھی۔ پسنی پورٹ گوادر سے ایک سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ بلوچستان کے ساحل مکران پر صرف گوادر اور پسنی نہیں بلکہ جیوانی، ارماڑہ اور سنمیانی پورٹ بھی واقع ہیں۔
بلوچستان کے پاس ساحل بھی ہیں اور وسائل بھی، لیکن بری گورننس کے باعث بلوچستان کے حالات میں بہتری نظر نہیں آتی۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب ڈاکٹر شیریں مزاری انسٹی ٹیوٹ آف اسٹرٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد کی سربراہ تھیں تو اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے ہمیں وہاں بتایا تھا کہ وہ گوادر کے نیلے پانی چین کے حوالے کر رہے ہیں اب چین جانے اور بھارت جانے۔ مشرف کی یہ بات سنکر سابق وزیر خارجہ آغا شاہی بالکل خوش نہ ہوئے اور انہوں نے زور زور سے پائپ کے کش لگاتے ہوئے مجھے کہا تھا کہ چین ہمارا دوست ضرور ہے لیکن بغیر کسی مؤثر حکمت عملی کے گوادر پورٹ کو چین کے حوالے کیا گیا تو بلوچستان عالمی سازشوں کا مرکز بن جائیگا۔ پاکستان کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو پاکستان کے صوبوں اور اسکے اہم علاقوں کی تاریخ سے بالکل واقفیت نہیں ہے۔ تاریخ کا جغرافیے سے بہت گہرا تعلق ہوتا ہے۔ تاریخ سے سبق نہ سیکھا جائے تو جغرافیہ بدل جایا کرتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو گوادر اور ساحل مکران کی تاریخ ضرور پڑھنی چاہئے۔ لسبیلہ یونیورسٹی اوتھل بلوچستان کے ایک استاد پروفیسر ڈاکٹر حمید بلوچ کی کتاب ’’ساحل مکران‘‘ پاکستان کے ہر پالیسی ساز اور تاریخ کے طالب علم کو پڑھنی چاہئے۔
دو جلدوں پر مشتمل یہ تحقیقی کتاب صرف علم کا نہیں بلکہ تاریخی دستاویزات کا بھی خزانہ ہے۔ بہت سال پہلے جب میں پہلی دفعہ گوادر گیا تو وہاں کے بزرگوں نے مجھے اپنے پرانے پاسپورٹ دکھائے جو سلطنت عمان نے جاری کئے تھے۔ گوادر 1958ء تک عمان کا حصہ تھا لیکن چھ ستمبر 1958ء کو ملک فیروز خان نون کی ایک کمزور سی سیاسی حکومت نے 30 لاکھ برطانوی پاؤنڈ ادا کر کے گوادر کو پاکستان میں شامل کیا۔ خان آف قلات نصیر خان اول نے 1783ء میں گوادر کو مسقط کے ایک باغی شہزادےکے حوالے کیا تھا۔ بعد میں خان آف قلات نے گوادر کو واپس لینے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے ۔عمان کی حکومت گوادر پورٹ پر لگائے جانے والے ٹیکسوں سے بہت منافع کماتی تھی۔ خان آف قلات نے پسنی اور جیوانی پورٹ پر ٹیکس کم کر کے گوادر پورٹ کی اہمیت کم کر دی جسکے بعد برطانوی سرکار نے گوادر کو قلات کے حوالے کرنے پر غور کرنا شروع کر دیا۔ اس سلسلے میں کچھ برطانوی آئل کمپنیوں کا کردار بھی اہم تھا جوعمان کے حکمرانوں سے خوش نہ تھیں۔ ڈاکٹر حمید بلوچ نے اپنی کتاب میں یہ بھی بتایا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ایک دن آل انڈیا ریڈیو نے یہ جھوٹی خبر نشر کر دی کہ خان آف قلات نے اپنی ریاست کو بھارت میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
خان آف قلات احمد یار خان نے فوری طور پر لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو ٹیلی گرام بھیجا کہ اس خبر کی تردید کی جائے۔ اس جھوٹی خبر کے ردعمل میں خان آف قلات نے فوری طور پرپاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔ ریاست قلات کی پاکستان میں شمولیت سے ساحل مکران پر واقع لسبیلہ اور جیوانی پورٹ بھی پاکستان کے کنٹرول میں آ گئے۔ 1954ء میں یو ایس جیالوجیکل سروے نے بھی گوادر کو مستقبل کی ایک عظیم بندرگاہ قرار دیا۔ حکومت عمان گوادر کو بھارت کے حوالے کرنا چاہتی تھی۔ اس زمانے میں بھارت کو گوادر سے زیادہ گوا میں دلچسپی تھی۔ بھارت نے گوا پر ملٹری ایکشن کے ذریعے قبضہ کیا لیکن پاکستان نے گوادر کو عمان سے مذاکرات کے ذریعے حاصل کیا۔ گوادر کو پاکستان میں شامل کرنیوالی ایک سیاسی حکومت کو اکتوبر 1958ء میں مارشل لا کے ذریعے فارغ کر دیا گیا۔ گوادر کو پاکستان میں شامل تو کر لیا گیا لیکن ابھی تک گوادر اور بلوچستان کی قسمت نہیں بدل سکی۔ گبد ریمدان راہداری بند کرنے کے اچانک فیصلے نے گوادر میں جو ہیجان اور کہرام برپا کیاہے وہ گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں کے ذریعے مجھ تک تو پہنچ گیا ہے لیکن شاید اسلام آباد کےحکمرانوں تک نہیں پہنچا۔ یاد رکھیں! جب تک ساحل مکران پر استحکام نہیں ہوگا بلوچستان بھی مستحکم نہیں ہوگا۔ بلوچستان میں استحکام نہیں آئے گا تو پاکستان بھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔
بشکریہ جنگ