اندھیر نگری میں امید کی کرن

یہ دھرتی، جسے ہمارے بزرگوں نے بے پناہ قربانیوں، خون کے نذرانے اور اُمیدوں کے روشن چراغوں سے سینچا تھا، آج ایک ایسے تاریک گرداب میں پھنس چکی ہے جہاں ہر طرف آہیں، سسکیاں اور بے بسی کا راج ہے۔ ستتر سال کا یہ طویل سفر اس تلخ حقیقت کا غماز ہے کہ اس ملک میں جمہوریت کے نام پر ہمیشہ ایک ایسا "کنٹرولڈ نظام” مسلط رہا ہے جس نے عام آدمی کی سانسیں تک چھین لی ہیں۔ کبھی وردی کی ہیبت میں اور کبھی سویلین چہروں کے پیچھے چھپے ہوئے آمروں نے اس قوم کو صرف اور صرف مایوسی، دھوکے اور بربادی کے سوا کچھ نہیں دیا۔

آج مہنگائی کا جن اور بے روزگاری کا بھیانک طوفان ہر گھر کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ غربت کی تو اب بات ہی کرنا عبث ہے، کیونکہ وہ طبقہ جو معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی کہلاتا تھا یعنی درمیانی طبقہ وہ بھی اب دو وقت کی روٹی کے لیے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ آئے روز رزق کی تلاش سے عاجز والدین، بے روزگار نوجوان اور کچلے ہوئے غریب اپنی زندگیوں کے دیے خود بجھا رہے ہیں۔ خودکشیاں اور شدید نفسیاتی امراض اب اس معاشرے کا معمول بن چکے ہیں۔

عوام اب روایتی نعروں، سبز باغ دکھانے والے دعووں اور جھوٹے وعدوں سے تنگ آ چکے ہیں، اب مزید دھوکہ کھانے کے لیے اس قوم کے پاس کچھ نہیں بچا۔

بہت سے لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں اور دل میں سوچتے ہیں کہ آخر تحریک انصاف جیسی بڑی عوامی لہر کیوں ٹک نہیں پائی اور اپنے انجام کو پہنچی؟ اس کی بنیادی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ اس کا "تنظیم” کی بجائے محض ایک "ہجوم” ہونا تھا۔ ان میں موجود پیادے اور موقع پرست عناصر تھے جو اقتدار کے لیے سودے بازی کرتے رہے اور اپوزیشن میں آنے کے بعد بھی اپنے ذاتی مفادات کی سیاست سے باز نہ آئے۔ جب بنیادیں ہی مفاد پرستی پر رکھی جائیں، تو محلات اور تحریکیں ریت کے گھروندے کی طرح ڈھ جاتی ہیں۔

ایسے کٹھن اور تاریک ترین دور میں، جب ہر طرف مایوسی کے بادل چھائے ہیں، اگر کوئی شخصیت اپنے سیاسی قد کاٹھ، تجربے اور اصولی مؤقف کی بنیاد پر اس حمام سے باہر آ سکتی ہے، تو وہ مولانا فضل الرحمن کی ذات ہے۔

مولانا صاحب کے پاس وہ سیاسی بصیرت اور اخلاقی جرات اور افرادی قوت موجود ہے جو وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ قوم اب چاہتی ہے کہ وہ ذاتی اور پارٹی مفادات سے بالاتر ہو کر عوامی مسائل کو لے کر سڑکوں پر نکلیں اور ایسے ٹھوس، آئینی اور عملی مطالبات سامنے رکھیں جن کے منظور ہونے سے پہلے واپس نہ لوٹیں۔

آج کی سب سے بڑی ضرورت ایک ایسا بے باک لیڈر ہے جو نہ تو اقتدار کی میز پر کوئی سودا بازی کرے اور نہ ہی اپنی ذات یا جان کی پروا کرتے ہوئے پسے ہوئے طبقات کے حقوق کا سودا کرے۔

اگر آج مولانا فضل الرحمن سچ مچ اس مظلوم اور کچلی ہوئی قوم کی فلاح چاہتے ہیں، تو انہیں مصلحتوں کے خول توڑ کر کھل کر میدانِ عمل میں آنا ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی خلوص نیت کے ساتھ عوام کی فلاح کے لیے نکلتا ہے، یہ بے بس لیکن باشعور قوم اپنے ہر غم کو بھلا کر اس کے شانہ بشانہ آہنی دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ اب فیصلہ وقت کا ہے، اور تاریخ معاف نہیں کرے گی۔

جب ریاست کے ستون کمزور پڑ جائیں، قانون اشرافیہ کا کھلونا بن جائے اور عام آدمی کی زندگی محض ایک عذابِ مسلسل بن کر رہ جائے، تو معاشرے میں خوف کا ایک ایسا سناٹا چھا جاتا ہے جو موت سے بھی زیادہ بھیانک ہوتا ہے۔ آج ہمارا وطن اسی سناٹے کی لپیٹ میں ہے۔

دنگ کر دینے والی مہنگائی، بجلی اور گیس کے ظالمانہ بلوں نے غریب کا چولہا تک بجھا دیا ہے۔ ماں باپ اپنی اولاد کو بھوک سے بلکتا دیکھنے پر مجبور ہیں، اور جو نوجوان کبھی اس ملک کا مستقبل تھے، وہ یا تو اندرونِ ملک مایوسی کے اندھیروں میں گھٹ گھٹ کر مر رہے ہیں یا پھر روزگار کی تلاش میں سمندروں کی بے رحم موجوں کی نذر ہو رہے ہیں۔ یہ نظام اب اصلاح کے مرحلے سے گزر چکا ہے، اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے۔

اس گھمبیر صورتحال میں خاموشی سب سے بڑا گناہ ہے۔ جب سیاسی جماعتیں اقتدار کی ہوس میں آپس میں الجھی ہوں اور آزمائی ہوئی ہیں۔مفادات کی سیاست نے عوام کی آواز کو دبا دیا ہو، تو ایسی شخصیات جن کے پاس عوامی طاقت اور سیاسی اثر و رسوخ موجود ہے، ان پر تاریخ کا یہ کڑا قرض عائد ہوتا ہے کہ وہ مصلحتوں کے خول توڑ کر باہر آئیں۔ عوام اب روایتی سیاست دانوں کے بیانات اور اخباری بیانات سے بیزار ہو چکے ہیں۔

انہیں اب نعرے نہیں، عملی اقدام چاہیے،انہیں ایسے قائدین کی تلاش ہے جو کٹھ پتلی بننے کی بجائے براہِ راست عوام کی عدالت میں آئیں، ان کے شانہ بشانہ سڑکوں پر بیٹھیں اور اس ظالمانہ اور استحصال پر مبنی نظام کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیں۔ تاریخ یاد رکھتی ہے کہ کڑے وقت میں کون فریقِ مظلوم بنا اور کون مصلحت کا شکار ہو کر تماشائی بن گیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے