اتوار : 26 جنوری 2020 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]چین میں نئے کورونا وائرس سے انسانی ہلاکتیں اب پچاس سے زائد[/pullquote]

چینی حکام نے تصدیق کر دی ہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم کے پھیلنے سے ہونے والی ہلاکتیں اب چھپن ہو گئی ہیں۔ چینی صدر شی جن پنگ نے اس وائرس کے پھیلاؤ کے بعد کی صورت حال کو انتہائی پریشان کن قرار دیا ہے۔ بیجنگ حکومت نے متاثرہ شہروں کی جانب سفر پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اضافی طبی عملے کی تعیناتی سمیت ادویات کی بھاری کھیپ بھی وائرس کی لپیٹ میں آئے ہوئے ووہان اور دیگر شہروں کی جانب روانہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ حکام نے ووہان سے دیگر شہروں کی طرف سفر کرنے والوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس شہر سے کسی بھی دوسرے مقام کی جانب روانہ ہونے سے قبل کمیونٹی ہیلتھ اسٹیشن میں اپنا اندراج کروائیں اور انہیں کم از کم چودہ دنوں تک قرنطینہ میں طبی نگہداشت میں رکھا جائے گا۔

[pullquote]مالی میں پندرہ فوجیوں کی دہشت گردانہ حملے میں ہلاکت[/pullquote]

افریقی ملک مالی کے وسطی حصے میں نامعلوم مسلح افراد کے ایک حملے میں کم ازکم پندرہ فوجی مارے گئے ہیں۔ ملکی فوج کے ذرائع نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے اس حملے کو ایک دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ مبینہ حملہ آوروں نے سوکولو نامی ایک فوجی کیمپ کو نشانہ بنایا۔ فوجی حکام نے حملہ آوروں کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی۔ ایک بیان میں بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والے فوجی اپنے کیمپ سے ملحقہ مقامی بستیوں میں سکیورٹی فرائض کی انجام دہی کے لیے وہاں تعینات تھے۔

[pullquote]لیبیا کو ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی، مگر خلاف ورزیاں جاری، اقوام متحدہ[/pullquote]

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ لیبیا کو ہتھیاروں کی فراہمی پر عائد پابندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ عالمی ادارے نے اپنے ایک بیان میں کسی ملک کا نام نہیں لیا، جس نے لیبیا میں متحارب فریقوں کو ہتھیار مہیا کیے ہوں۔ تاہم بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ دس دنوں کے دوران متعدد کارگو پروازوں کے ذریعے یہ ہتھیار مشرقی اور مغربی لیبیا میں مختلف مقامات پر پہنچائے گئے۔ مختلف ممالک نے قریب دو ہفتے قبل برلن منعقدہ ایک کانفرنس میں لیبیا کو ہتھیاروں کی فراہمی پر عائد پابندی کا احترام کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

[pullquote]افریقی علاقے ساحل کا تنازعہ، فرانسیسی وزیر دفاع امریکی دورے پر[/pullquote]

فرانسیسی وزیر خارجہ فلورنس پارلی امریکا روانہ ہو گئی ہیں۔ اُن کے اس دورے کا مقصد امریکی فوجی حکام کو قائل کرنا ہے کہ وہ افریقہ میں انتشار کے شکار ساحل کے علاقے سے اپنے فوجی دستوں کو واپس نہ بلائیں۔ فرانس ساحل کے علاقے میں مسلم انتہا پسندوں کی پرتشدد کارروائیوں پر قابو پانے کے لیے بارخان آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ پیرس حکومت کے ساڑھے چار ہزار فرانسیسی فوجی اس خطے میں تعینات ہیں۔ امریکا اس فوجی آپریشن میں فرانس کا حلیف ہے اور وہ خفیہ معلومات کے تبادلے اور نگرانی کا آپریشن بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

[pullquote]امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا میں شوٹنگ، دو افراد ہلاک اور سات زخمی[/pullquote]

امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا کی ڈارلنگٹن کاؤنٹی کے علاقے ہارٹس ول میں پیش آنے والے فائرنگ کے ایک واقعے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور سات دیگر زخمی ہو گئے۔ پولیس نے آج اتوار کو علی الصبح ہونے والی اس شوٹنگ کی تاحال کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ جس جگہ فائرنگ کی گئی، وہاں موسیقی کی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ابتدائی تفتیش ابھی جاری ہے۔

[pullquote]عراق میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ ابھی تک جاری[/pullquote]

عراقی سکیورٹی فورسز نے اتوار چھبیس جنوری کو دارالحکومت بغداد میں مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے ساتھ ساتھ براہ راست فائرنگ بھی کی۔ کم از کم چودہ مظاہرین کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ اس کے علاوہ ناصریہ شہر میں بھی سکیورٹی دستوں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں سترہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں سے چار مظاہرین گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے۔ اسی طرح کربلا، نجف، دیوانیہ اوربصرہ میں بھی حکومت مخالف مظاہروں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ انتہا پسند شیعہ عالم مقتدیٰ الصدر نے بھی آج اتوار کے روز بغداد اور دیگر شہروں میں امریکا مخالف مظاہروں کا اعلان کر رکھا ہے۔

[pullquote]ووہان سے امریکی قونصل خانے کے عملے کا انخلا[/pullquote]

امریکی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم کے پھیلنے کے تناظر میں چینی شہر ووہان میں امریکی قونصل خانے کے عملے کے انخلا کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی پرواز اٹھائیس جنوری کو ووہان کے ہوائی اڈے سے امریکی شہر سان فرانسسکو کے لیے روانہ ہو گی۔ اس پرواز میں ووہان میں مقیم امریکی شہریوں کے لیے محدود نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس خصوصی پرواز میں نشست کے لیے بیجنگ میں امریکی سفارت خانے سے رابطہ کریں۔ چینی شہر ووہان میں ایک کروڑ سے زائد نفوس بستے ہیں اور نئے وائرس کے پھیلاؤ کا مرکز یہی شہر ہے۔

[pullquote]مذاکرات کے لیے پابندیاں ختم نہیں کی جائیں گی، ٹرمپ[/pullquote]

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ رات اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ واشنگٹن حکومت کا تہران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے اس کے خلاف عائد پابندیاں اٹھانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ امریکی صدر نے یہ بات ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے اُس بیان کے تناظر میں کہی، جس میں انہوں نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے سے قبل پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ظریف نے یہ بات جرمن میگزین ڈئر اشپیگل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی تھی۔ ٹرمپ نے اس کے جواب میں کہا، ’’نہیں، شکریہ۔‘‘ ایرانی وزیر خارجہ نے آج اتوار کے روز یہ بھی کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اچھا مشورہ یہ ہے کہ وہ اپنے خارجہ پالیسی سے متعلق تبصروں اور فیصلوں کی بنیاد حقائق کو بنائیں، نہ کہ فوکس نیوز کی سرخیوں یا پھر اپنے فارسی مترجمین کی باتوں کو۔

[pullquote]ترکی میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد اب پینتیس[/pullquote]

ترک امدادی ٹیموں نے اتوار کو زلزلے سے منہدم ہونے والی عمارتوں کے ملبے سے مزید نعشیں نکالی ہیں۔ اس طرح ہلاک شدگان کی تعداد پینتیس ہو گئی ہے۔ حکام نے زخمیوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے زائد بتائی ہے۔ دارالحکومت انقرہ سے قريب ساڑھے پانچ سو کلوميٹر مشرق کی جانب واقع الازیغ صوبے کے کئی علاقے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب 6.8 شدت کے زلزلے سے متاثر ہوئے تھے۔ زلزلے کے باعث متاثرہ علاقوں میں کئی عمارتیں زمیں بوس ہو گئی تھیں۔ زلزلے کے بعد کئی گھنٹوں تک آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری رہا تھا۔ کچھ ضمنی جھٹکوں کی شدت 5.4 تک ریکارڈ کی گئی تھی۔ یہ جھٹکے شام، ايران اور لبنان ميں بھی محسوس کيےگئے تھے تاہم وہاں کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہيں۔

[pullquote]بھارتی یوم جمہوریہ کی فوجی تقریب، برازیل کے صدر خصوصی مہمان[/pullquote]

بھارت میں آج چھبیس جنوری کو یوم جمہوریہ کے موقع پر خصوصی سالانہ فوجی پریڈ کا اہتمام کیا گیا۔ ہزاروں فوجیوں نے ملکی صدر رام ناتھ کووند کو سلامی دی۔ نئی دہلی میں ہونے والی اس فوجی پریڈ کے مہمان خصوصی برازیل کے صدر جیئر بولسونارو تھے۔ پریڈ دیکھنے کے لیے ڈائس پر وزیر اعظم نریندر مودی بھی موجود تھے۔ سالانہ پریڈ کے موقع پر علاقائی رقص بھی پیش کیے گئے۔ ان میں مختلف علاقوں کے سینکڑوں مرد، عورتیں اور بچے شامل ہوئے۔ برازیلین صدر سالانہ پریڈ دیکھنے کے بعد بھارتی حکومت کے ساتھ دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے معاہدوں کی ایک تقریب میں بھی شریک ہو رہے ہیں۔ بھارت میں یوم جمہوریہ منانے کا سلسلہ سن 1950 میں آزادی کے بعد نئے دستور کے نفاذ کے موقع پر شروع کیا گیا تھا۔

[pullquote]اٹلی کے دو علاقوں میں انتخابات موجودہ روم حکومت کے لیے بہت اہم[/pullquote]

اٹلی کے علاقوں ایمیلیا روماگنا اور کالابریا میں نئی صوبائی حکومتوں کے لیے انتخابات آج اتوار کو ہو رہے ہیں۔ ان انتخابات میں اپوزیشن لیڈر ماتیو سالوینی کی کامیابی روم حکومت کے زوال کے سبب بن سکتی ہے۔ اس وقت ان دونوں صوبوں میں بائیں بازو کی حکومت ہے لیکن انتخابی جائزوں کے مطابق کالابریا میں دائیں بازو کے سیاسی حلقے مقبولیت حاصل کیے ہوئے ہیں اور ان کی کامیابی کا امکان ہے۔ دوسرے علاقے ایمیلیا روماگنا میں کسی بھی سیاسی جماعت کی مقبولیت کے بارے میں کوئی انتخابی جائزے سامنے نہیں آئے۔ یہ خطہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے بائیں بازو کے کنٹرول میں رہا ہے۔ اپوزیشن لیڈر ماتیو سالوینی کی لیگ نامی سیاسی جماعت کی ایک حلیف پارٹی نے اپنی کامیابی کے امکان کا دعویٰ کیا ہے۔

[pullquote]امریکی دباؤ کے تحت بولیویا نے سفارتی تعلقات معطل کیے، کیوبا[/pullquote]

کیوبا نے بولیویا کی عبوری حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اُس نے ہوانا کے ساتھ سفارتی تعلقات امریکی دباؤ کے تحت معطل کیے ہیں۔ کیوبا کی وزارت خارجہ کے مطابق ان تعلقات میں بگاڑ کے لیے بولیویا کو مسلسل امریکی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس بیان پر ابھی کوئی امریکی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ بولیویا کے سابق صدر ایوو مورالیس کمیونسٹ ملک کیوبا کے حلیف تھے۔ وہ گزشتہ برس نومبر میں انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے تناظر میں شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد صدارت سے مستعفی ہو چکے ہیں۔ مورالیس کے مستعفی ہونے کے بعد دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی جینین آنیز عبوری صدر ہیں اور انہوں نے کیوبا سے دوری کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے