مرحوم سید جعفرشاہ ایک عہد ساز شخصیت

پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر سید جعفرشاہ تقریباً 68سال کی عمر میں کرونا وائرس جیسے وباء کا شکار ہوگئے اور خالق حقیقی سے جا ملے۔ سید جعفرشاہ کی زندگی کے 68بہاروں میں سے کم و بیش 37سال گلگت بلتستان کے غم میں گزرگئے۔ 1983 میں پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست کا آغاز کردیا۔ اس دور میں جن علاقوں میں سید جعفرشاہ پیپلزپارٹی کا علم تھامے کھڑے ہوتے تھے سامنے مضبوط مذہبی قدآور شخصیات ہوتی تھیں جن سے ٹکرانا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ سید جعفرشاہ نے عملی سیاست کا آغاز کرتے ہوئے ہی ناردرن ایریاز کونسل کی نشست محفوظ کرلی اور 1994تک مسلسل دو مرتبہ علاقے کی نمائندگی کرنے کا شرف حاصل کرلیا۔ 1994میں جعفرشاہ اسلامی تحریک پاکستان (تحریک جعفریہ) سے بازی لگاتے ہوئے 350کے قریب ووٹوں سے شکست کھا گئے تاہم میدان نہیں چھوڑا۔ 1999میں ایک مرتبہ پھر حلقے سے جیتنے میں کامیاب ہوگئے۔

جعفرشاہ کے سیاست کا بتدائی دورانیہ انتخابی حلقے کی سیاست کی۔ پرویز مشرف کے دور میں انہوں نے حلقے سے انتخابات لڑنے کی بجائے اپنی پارٹی کی انتخابی مہم چلانے کا فیصلہ کرلیا تاکہ پارٹی کو درکار توجہ پوری ہوجائے۔ مذکورہ فیصلے کے نتیجے میں پیپلزپارٹی مشرف دور میں بھی اپنے حصے کی نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوگئی جبکہ مسلم لیگ ق کو جی بی میں حکومت بنانے کے لئے عمران خان فارمولہ اپنانا پڑگیا۔ سید جعفرشاہ نے 2009کے صدارتی آرڈر ”امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر2009“ کی تیاری میں بھی اپنا نمایاں کردار ادا کیا۔

اسی سال سید جعفرشاہ سیاسی میدان سے بالکل ہٹ گئے اور سپریم اپیلیٹ کورٹ میں جسٹس مقرر کئے گئے۔ 2012تک منصف کے عہدے پر فائز رہے اور پیپلزپارٹی دور حکومت میں کسی قسم کی سرگرمی کا حصہ نہیں بنے تاہم 2015کے انتخابات میں دوبارہ پیپلزپارٹی میں متحرک ہوگئے۔ 2015کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کے لئے ماحول سازگار نہیں تھا تاہم جسٹس(ر) جعفرشاہ نے میدان میں اترکر مزید شیرازہ بکھرنے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ پیپلزپارٹی کا وقار بچانے اور عوام میں دوبارہ بطور تنظیم چلانے میں مرحوم نے آخری کوشش 2015میں کی اور بڑی حد تک کامیاب بھی ہوگئے تاہم پیپلزپارٹی کو گلگت اور دیامر ریجن سے کوئی بھی نشست نہیں مل سکی جبکہ کافی حلقوں میں پیپلزپارٹی کے امیدواروں نے زبردست مقابلہ کیا۔

سیدجعفرشاہ کے سیاسی زندگی کا سب سے بڑا موڑ 2016میں سامنے آگیا جب پیپلزپارٹی نے تنظیم نو کا آغاز کیا اور امجد حسین ایڈوکیٹ کو پیپلزپارٹی بھاگ ڈور حوالے کردی۔ سید جعفرشاہ کو مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کا رکن بنایا تاہم وہ اس فیصلے سے خوش نہیں تھے جس کی وجہ سے پیپلزپارٹی کے ساتھ 33سالہ طویل رفاقت کو خیرباد کہہ دیا اور پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوگئے۔ تحریک انصاف اس موقع پر ایک بکھری ہوئی پارٹی تھی جس کی کوئی سمت نہیں۔ ہر کارکن خود کو ہر عہدے کے لئے موزوں سمجھتا تھا تاہم تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کا سب سے اہم فیصلہ سید جعفرشاہ کو صوبائی صدر بنانا ثابت ہوگیا۔

سید جعفرشاہ نے اگرچہ دوران قیادت زیادہ سرگرمیاں نہیں کی لیکن قیادت سنبھالنے کے بعد سے وہ جی بی کی سیاست کے محور میں آگئے۔ صوبائی صدارت کے دوران سید جعفرشاہ مرحوم کا زیادہ عرصہ تنظیمی اختلافات پر گزر گیا۔ جعفرشاہ صاحب متعدد فیصلوں پر نالاں تھے جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی سرگرمیاں محدود کرلی۔ حالیہ ٹکٹوں کے لئے ہونے والے انٹرویوز سے قبل ایک مرتبہ پھر وہ متحرک ہوگئے اور دیگر پارٹیوں کے اہم کھلاڑیوں کے وکٹوں کو گرانے کا سلسلہ شروع کردیا۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد میں ٹکٹ کے لئے انٹرویوز کے لئے سید جعفرشاہ صاحب بھی اسلام آباد چلے گئے جہاں سے وہ واپس نہیں لوٹے۔ سید جعفرشاہ صاحب 2008سے گلے کے کینسر کے موزی مرض میں مبتلا تھے تاہم علاج معالجہ ساتھ ساتھ ہونے کی وجہ سے اس مرض پر قابو پالیا تھا مگر کرونا وائرس کی وباء نے سابقہ جراثیموں کو بھی ہوادیدی جس سے جانبر نہیں ہوسکے۔

سید جعفرشاہ مرحوم کی دونوں سیاسی پارٹیوں،پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے لئے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ جعفرشاہ کے ویژن سے اختلاف ممکن ہے مگر اس کی جدوجہد سے انکار ممکن نہیں ہے۔ ڈٹ کے بولنے کا فن جعفرشاہ صاحب سے بہتر کسی کے پاس نہیں رہا ہے۔ کھری باتوں کے عادی تھے۔ گلگت بلتستان کے حقوق کے لئے ہر فورم پر آواز اٹھائی۔ جعفرشاہ مرحوم اب ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ان کا کردار باقی ہے۔ سیاسی رہنماؤں کے لئے نہ جھکنے کا ایک سبق دیکر گئے ہیں، ان کی رحلت سے پیدا ہونے والا خلاء برسوں بعد بھی پُر ہونا ممکن نہیں ہے۔ اللہ مرحوم کو غریق رحمت کرے۔ ان کے بیٹے سہیل عباس شاہ اور اہلخانہ سے تعزیت کااظہار کرتے ہوئے صبر کی اپیل کرتے ہیں۔

دوسری جانب سید جعفرشاہ کے مدمقابلہ امیدوار ڈاکٹر محمد اقبال نے دوسرے روز ہی تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرکے ابن الوقتی کی انوکھی مثال قائم کی ہے۔ ڈاکٹر محمد اقبال 1994میں اسلامی تحریک کے امیدوار تھے اور سید جعفرشاہ کے مدمقابل انتخابات لڑے۔ 1999میں وہ مسلم لیگ ن میں آگئے بعد ازاں 2015میں دوبارہ مسلم لیگ ن میں آگئے اور انتخابات جیت گئے۔ حکومت کے دوران حفیظ الرحمن کے سب سے قریبی ساتھی شمار کئے جاتے تھے۔

حکومت ختم ہوتے ہی انہوں نے عملاً مسلم لیگ ن سے استعفیٰ دیدیا اور آزاد حیثیت میں جعفرشاہ کے مقابلے میں انتخابات لڑنے کا اعلان کردیا۔ سید جعفرشاہ مرحوم کی جسد خاکی آخری آرام گاہ میں اتارتے ہی وہ تحریک انصاف کا مفلر پہننے اسلام آباد پہنچ گئے۔ یہ تحریک انصاف اور ڈاکٹر محمد اقبال دونوں کے لئے شرم کا مقام ہے۔ نہ اخلاقیات کو سامنے رکھا گیا اور نہ ہی علاقائی روایات کو ملحوظ خاطر رکھا گیا۔ تحریک انصاف نے زبانی طور پر اپنے صوبائی قائد کی رحلت پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا مگر عملی طور پر اپنی ’مہم‘ جاری رکھی۔ سیاست شاید کبھی اتنی بے توقیر ہوئی ہوگی جتنی اب کی بار ہوگئی ہے۔ مرحوم مولانا ابوالکلام آزاد نے فرمایا تھا کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ہے اور آج اس کا عملی ثبوت دیدیا گیا۔

یہ امر بھی قابل زکر ہے کہ گلگت بلتستان کے اہم ترین سیاسی رہنماء سال رواں میں لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ سابق گورنر جی بی سید پیر کرم علی شاہ، سابق سپیکر ملک محمد مسکین، سابق صوبائی وزیر حاجی جانباز خان، نامور سیاستدان سلطان مدد، سید جعفرشاہ سمیت دیگر اپنا وقت مکمل کرگئے ہیں، جن میں اکثریت کرونا وائرس کا شکار ہوگئی ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ کرونا وائرس سے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل پیرا ہوں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے