یہ کہانی اکتوبر کے پہلے ہفتے میں شروع ہوئی۔ ہوا یہ کہ ایک شام باہر سے کھانا کھانے کے بعد واپس آ رہا تھا تو مجھے بدن ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا۔ جسم کے انگ انگ میں دھیمے سے درد کی لہر دوڑنے لگی۔ راستے میں چائے کے ڈھابے پر بیٹھا، پھر کچھ دیر بعد گھر پہنچ کر بستر پر دراز ہو گیا۔ درد بڑھتا گیا اور اب ساتھ بخار بھی تھا۔ فوری طور پر پینا ڈول لی اور سونے کوشش کرنے لگا لیکن دردایسا تھا کہ پوری رات کروٹیں بدلتے ہوئے آنکھوں میں ہی گزار دی۔
اگلے دن پھر آفس جا پہنچا، احتیاطاً ماسک پہن لیا اور ہینڈ سینی ٹائزر بھی ساتھ رکھ لیا۔ مجھے ماسک پہنے دیکھ سجاد بلوچ نے ایک فقرہ بھی اچھالا کیونکہ وہ کورونا لاک ڈاؤن کے دوران میرے لاابالی پن سے خوب واقف تھے۔
آفس میں وہ کافی تھکا دینے والادِن تھا۔ شام کو بخار کی حالت میں واپس لوٹا۔ کچھ شک ہوا کہ کہیں کورونا ہی نہ ہو گیا ہو۔ اسی بارے میں سوچ رہا تھا کہ صحافی دوست امجد بخاری کا خیال آیا جو کچھ عرصہ قبل سروسز ہسپتال میں کورونا کے سلسلے میں 14دن گزار کر آئے تھے۔ فون گھمایا اور پوچھا کہ جب آپ ہسپتال گئے تو کیا محسوس کر رہے تھے۔ بخاری نے بتایا کہ ’جسم میں درد اور سانس میں گھٹن‘، میں نے گھٹن کی وضاحت چاہی تو بخاری نے بتایا کہ ’یوں لگتا تھا جیسے گلے میں نوالہ اٹکا ہوا ہے۔‘ فون بند کیا تو مجھے بھی کچھ کچھ ویسا ہی محسوس ہونے لگا۔یہ اوور تھنکنگ کا نتیجہ تھا۔
پھر باس کو فون کیا جو چند دن قبل کورونا پازیٹو ہوئے تھے اور اپنے گھر میں محدود تھے، ان سے لیبارٹری کی معلومات لیں اور جناح ہسپتال کے قریب واقع لیبارٹری میں سامپل دینے پہنچا۔ عجیب سا لگتا ہے جب وہ ناک میں پلاسٹک کی سوئی سی ڈالتے ہیں۔ میرا تو ویسے بھی انجیکشن والی سرنج دیکھ کر ’تراہ‘ نکل جاتا ہے۔ پہلے تو میں نے لیبارٹری والے جوان کو روک دیا،جب اس نے مجھے یقین دلایا کہ کچھ نہیں ہو گا تو میں سامپل دینے کے لیے تیار ہوا۔
اگلے دن شام کو آن لائن رپورٹ کا لنک ملا۔ رپورٹ حسبِ توقع پازیٹو تھی اور اسے ماننے کے سوا میرے پاس کوئی آپشن بھی نہ تھی۔ جو آپشن تھی وہ کافی مہنگی پڑتی۔ سو اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اب کچھ دن ’مختیارے‘ کو گھر رہنا پڑے گا۔ پینا ڈول وغیرہ سے علاج شروع کیا، بخار اور جسم کا درد جاتا رہا۔معمول سے ہٹ کر کھانے میں پھل وغیرہ بھی شامل کیے اور مکمل آرام کرتا رہا۔
پھر عامرخاکوانی صاحب سے علاج سے متعلق مشاورت جاری رہی۔ انہوں نے حسبِ معمول مفصل و مفید مشورے دیے اور دوائیوں سے متعلق اپنے ڈاکٹر دوستوں کی ہدایات مجھے واٹس ایپ پر بھجوا دیں۔ میں نے ان میں سے کچھ چیزیں مثلاً ملٹی وٹامنز،کیلسی اور کچھ ٹیبلٹس منگوا لیں۔ شروع میں یخنی بھی پی، فریش جوس وغیرہ بھی خوراک میں شامل رکھے اور اس طرح کام چلتا رہا۔
شروع کے تین چار دن کے بعد مجھے جسم میں درد یا بخار نہیں ہوا۔ بس ایک چیز تھی اور وہ یہ کہ منہ کا ذائقہ بالکل غائب ہو گیا تھا اور قوت شامہ (سونگھنے کی حس) بھی معطل تھی۔ میں نے کھانے پینے میں کوئی زیادہ احتیاط نہیں برتی، ہر وہ چیز منگوا کر کھائی جس کا من چاہا، لیکن کسی بھی چیز کا ذائقہ مجھے محسوس نہیں ہوتا تھا۔
حالت یہ تھی کہ اپنے برانڈ کی سگریٹ بھی بے بُو اور بے ذائقہ محسوس ہوتی تھی،ایک دو عزیز ترین دوستوں نے کچھ اور ’مرغوبات‘ کے مشورے بھی دیے لیکن بہ وُجوہ میں باز رہا۔ ان کا موقف تھا کہ’بھلے ذائقہ نہ آئے،ہم یقین سے کہتے ہیں کہ مسئلہ آپ کا حل ہو جائے گا‘ یہ یار لوگ بھی کیسے کیسے مشورے دیتے ہیں۔
میرے ساتھ چھوٹا بھائی تھا جو پنجاب یونیورسٹی کا طالب علم ہے۔ میں نے اسے احتیاط برتنے کو کہا لیکن آج کل کے لڑکے بالے(جیسا کہ میں ’بقلم خود‘ بھی) کتنی احتیاط کرتے ہیں، یہ سبھی کو معلوم ہے۔ ایک شب تو حد ہی ہو گئی۔ میں نے پلاؤ کھایا، کچھ بچ گیا تو اسے ٹھکانے لگانے باہر صحن میں نکلا تو حارث خان نے پوچھا یہ ِگرا رہے ہو؟ میں نے کہا: ہاں بچ جو گئے ہیں، وہ فون کال پر مصروف تھا۔ اس نے پلیٹ مجھ سے لے لی، کچھ دیر بعد پتا چلا اس نے نہ صرف یہ کہ وہ چاول تناول فرما لیے ہیں بلکہ بے توجہی میں اسی چمچ سے کھائے ہیں جو میں نے استعمال کی تھی۔ اس بے احتیاطی کے بعد قومی امکان تھا کہ وہ اب بستر سے لگ جائے گا لیکن خوش قسمتی سے ایسا ہوا نہیں۔ وہ تو اب بھی شہر میں دوڑتا پھر رہا ہے۔
منہ کا ذائقہ گُم ہو جانا کافی اذیت ناک تھا لیکن آٹھ نو دن بعد آہستہ آہستہ وہ بحال ہونا شروع ہو گیا اور اب تقریباً برابر ہو چکا ہے۔ شروع کے تین چار دن کے علاوہ کمزوری محسوس نہیں ہوئی اور جسم میں کسی قسم کا درد بھی نہیں تھا۔میں نے اچھا ہو جانے کے بعد احتیاطاً دو تین دن مزید آرام کیا اور پھر آج آفس گیا ہوں، ہاں میں یہ بتانا بھول ہی گیا کہ محدودیت کے ان ایام میں آفس کا کام میں گھر ہی سے کرتا رہا اور رفقائے کار کے ساتھ انٹرنیٹ اور فون پر بات چیت بھی ہوتی رہی۔
فیس بک، ٹویٹر پر سیاسی و سماجی موضوعات پر ’ہلکی پھلکی موسیقی‘ بھی بہ دستور جاری رہی۔ اسی دوران اسلام آباد سے صحافی سید فیصل علی اور کراچی سے اقبال خورشید کے ساتھ لائیو ویڈیو سیشنز میں بھی بطور مبصر شامل رہا۔
میرے جیسے مجلسی آدمی کے لیے دو ہفتے تک محدود رہنا بہت مشکل تھا۔ گھر میں بند رہنا اس لیے نہیں کہوں گا کہ میں اس دوران کبھی کبھار قریبی بازار کا چکر لگا لیتا تھا۔
افسوس ناک بات یہ ہے کہ ان دِنوں میرے کم ازکم تین ایسے دوستوں کی شادیاں ہوئیں جن میں میری شرکت ضروری تھی۔ دوستوں کی نَیـا کو اپنی آنکھوں کے سامنے بھنور کے حوالے کرنا اب ’اچھا‘ لگتا ہے۔ مظفرآباد میں خواجہ اویس کی شادی میں شرکت کا تو کافی پہلے سے پلان تھا،پیپلز پارٹی والے مراد چوہدری کی شادی میں بھی شرکت کا ارادہ تھا، اِدھر ملتان میں انہی دنوں صہیب نے شادی برپا کردی، وہاں بھی سبھی قریبی دوست گئے لیکن میں نہیں جا سکا۔اس کا بڑا افسوس ہے۔
اس دوران کراچی سے صحافی دوست سید کاشف رضا اور راولپنڈی سے شیراز حسن کی لاہور آمد ہوئی۔ ان سے ملاقات نہ ہونے کا بھی قلق ہے۔
میں نے ان دنوں دو تین کتابیں پڑھیں۔ وِل ڈیورانٹ اور ان کی اہلیہ ایرئیل ڈیورانٹ کی مشترکہ کتاب Lessons of History میں شامل مضامین خاصے کی چیز ہیں۔ اردو ترجمہ یاسر جواد کا ہے۔۔۔ بہتر ہے۔ ایک بہت پرانی انگریزی کتاب بھی پی ڈی ایف فارمیٹ میں پڑھی جس کا شمار پارسا لوگوں کے ادب میں نہیں ہوتا، سو اس کا نام پھر کبھی لیں گے۔ ”فوج کا سیاسی کردار“ ذوالفقار علی بھٹو کی مختلف تقاریر اور گفتگوؤں میں سے ایک خاص موضوع پر مشتمل اقتباسات کا مجموعہ ہے، وہ پڑھی۔ سیاست دانوں کے خاکوں پر مشتمل رفیق ڈوگر کی کتاب ”چہرے مہرے“ کے کچھ حصے بھی نظر نواز ہوئے۔ کچھ عرصہ قبل ’کامیابی کے مغالطے والے‘ عزیز دوست عاطف حسین نے ایک کتاب دی تھی، اس کا نام تھا ”عالمی ادب کے بہترین تراجم“۔ وہ ڈھونڈتا رہا لیکن ابھی تک ملی نہیں، وہ بھی پڑھنی ہے۔
اب میں اچھا محسوس کر رہا ہوں۔ صحت معمول پر ہے۔ ارادہ ہے کہ پہلے کی نسبت ذرا زیادہ احتیاط کروں گا۔ دوستوں کو بھی مشورہ ہے کہ تھوڑی احتیاط کر لیا کریں۔ یہ تو مجھے اندازہ ہے کہ آپ جلدی مرنے والے نہیں لیکن کورونا کے نام پر دو ہفتے مسلسل گھر پڑے رہنا کافی مشکل ہوتا ہے اور زبان اور ناک کا یوں بے فیض ہو جانا تو زیادہ اذیت ناک ہے۔
لاہور
15 اکتوبر 2020