پاکستان اور امریکی حکومت کے تعاون سے خواتین کومعاشی طور پر بااختیار بنانے کے منصوبہ کا آغاز

اسلام آباد : امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی نے آج ویمنز اکنامک ایمپاورمینٹ ایکٹوٹی (ڈبلیو ای ای اے) منصوبہ کا آغاز کیا۔ اِس پانچ سالہ منصوبہ کا مقصد خواتین کی آمدنی کے مواقع، معلومات، وسائل اور خدمات تک محفوظ اور معتبر رسائی ممکن بنا کر اُن کو معاشرتی اور معاشی طور بااختیار بنانے کے لیے حکومتِ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں میں مدد فراہم کرنا ہے۔اس موقع پر یو ایس ایڈ کی مشن ڈائریکٹر جُولی کوئنین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یو ایس ایڈ کو پُرامن معاشرہ کے قیام، معاشی نمو کو بڑھاوا دینے اور بین الاقوامی تحفظ صحت استعدادکار کی مضبوطی کے اقدامات کے فروغ میں حکومت پاکستان کے ساتھ شراکت پر فخر ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو معاشی طور پر با اختیار بنانے کی سرگرمی عورتوں کی قیادت میں فعال تجارت کو متحرک بنانے کے ہمارے عزم کی تکمیل ہے، جو پاکستان کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

اس موقع پر خیبر پختونخوا کے وزیر برائے مقامی حکومت، انتخابی اُمور اور دیہی ترقی اکبر ایاب خان نے کہا کہ کوئی بھی قوم اُس وقت تک خوشحال اور ترقی کی راہ پرگامزن نہیں ہو سکتی جب تک تمام شہریوں کو برابر اختیارات حاصل نہ ہوں ، اس لیے خواتین کو بااختیار بنانا ہمارے نصب العین کی اہم ترین ترجیح اور حکمرانی کا کلیدی جُزو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اُن کا نصب العین 2025 تک خواتین کی افرادی قوت میں شرکت 45 فیصد تک بڑھانا ہے۔ڈبلیو ای ای اے پروگرام کا مقصد پاکستان کی قومی حکمت عملی کے مطابق معاشی تفریق ختم کر کے برادری اور ادارہ جاتی سطح پر صنفی برابری کویقینی بنانا بھی ہے۔ منصوبہ کے تحت خیبر پختونخوا ، سندھ اور پنجاب کے 49 ضلعوں میں پندرہ لاکھ خواتین کو قومی شناختی کارڈ کے حصول میں مدد فراہم کی جائے گی۔ یہ قدم الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے مرد اور خواتین ووٹروں کی تعداد میں تفریق کو کم کرنے کی کوششوں سے ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد خواتین کی حوصلہ افزائی کرنا ہے کہ وہ شناختی کارڈ حاصل کر کہ انتخابی عمل میں شرکت کریں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے