الجھنیں بڑھتی جائیں گی ۔

دنیا میں مستقل دوست کوئی نہیں ہوتا ، صرف اقتصادی مفادات مستقل ہوتے ہیں ۔ ہماری ایک اعلیٰ شخصیت نے ترک وزیراعظم سے پوچھا کہ آپ تو ہمیشہ مسلمانوں کی بات کرتے ہیں ، کشمیر اور فلسطینیوں کی آزادی کے بارے میں بولتے ہیں لیکن آپ نے اسرائیل کو ایک ملک کی حیثیت سے تسلیم کیا ہے بلکہ انکے ساتھ اقتصادی تعلقات بھی ہیں تو اسکی وجہ کیا ہے ؟ اور یہ تضاد کیوں ہے ، تو اس کے جواب میں ترک وزیراعظم نے کہا کہ ہم مشرق وسطیٰ میں تنہا ہورہے تھے اور ہم اس تنہائی کو برداشت نہیں کرسکتے تھے اسلئے ہم نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا۔

اسکے علاوہ چین جو کہ ہمارا بہت قریبی دوست ملک ہے انہوں نے بھی اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے تو کیا چین کی فلسطینیوں کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ہے؟ ہمدردی تو ہے لیکن وہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے پسندیدہ ترین ملک کے ساتھ تعلقات کو اپنی اقتصادی فائدے کے طور پر دیکھتے ہیں اور اسی لئے چین نے وہاں گزشتہ پانچ سالوں میں تقریباً اٹھارہ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کی ہے جبکہ ترکی کا اسرائیل کے ساتھ تجارتی حجم تقریباً آٹھ ارب ڈالر ہے۔

مقصد یہ ہے کہ جب تک اقتصادی خودمختاری نہیں ہوتی تب تک سیاسی خودمختاری قائم نہیں ہوسکتی۔ بار بار کہا جاتا ہے کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے تو قلعے کو پہلے خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونا پڑیگا ، پہلے اپنے لوگوں کے بارے میں سوچنا پڑیے گا، تعلیم کو عام کرنا ہوگا، فی کس آمدنی بڑھانی ہوگی قرضوں سے نجات پانا ہوگا۔ دنیا میں طاقتور ممالک کی بات سنی جاتی ہے اور طاقتور سے مراد وہ ممالک نہیں ہیں جو ایٹمی قوت ہیں بلکہ وہ ہیں جنکے عوام خوشحال ہیں، جو اقتصادی طورپرمضبوط ہیں جن کا انحصار قرضوں پر نہیں ہوتا۔

دنیا کے تقریباً تمام ممالک اپنی حیثیت اور فائدے کے مطابق پالیسیاں مرتب کرتےہیں کسی کی محبت یا درد میں نہیں، بہت سارے ایسے ممالک ہیں جنکے مختلف ممالک کے ساتھ نظریاتی وابستگی نہ ہے نہ ہوسکتی ہے لیکن انکے آپس میں اقتصادی تعلقات ہیں کیوں کہ یہی انکی معشیت اور فلاح کا تقاضہ ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے ہماری پالیسیاں مختلف ممالک کے حوالے سے کبھی بھی واضح اور یکسو نہیں رہی ہیں ، مثال کے طور پر اگر دیکھا جائے تو افغانستان کے ساتھ ہم نے کیا کیا؟ ہماری اشرافیہ چاہے وہ سویلین ہو یا ملٹری ، دونوں نے ہمیشہ افغانستان کو کمتر سمجھا، ہماری خارجہ پالیسی افغانستان کے بارے میں وہ نہیں رہی جو ہونی چاہیے تھی، 9/11 کی تیاری افغانستان میں ہوئی تھی لیکن خمیازہ اور بدنامی ہماری حصے میں آئی جسکے اثرات شاید کافی عرصے تک ہمارے معاشرے کو اپنی گرفت میں رکھیں۔

ہم ایک عجیب معاشرے میں رہتے ہیں ، ایک طرف ہم مغرب کی ترقی کے گن گاتے ہیں اور دوسری طرف اگر کوئی بندہ مغربی فیشن کا لباس زیب تن کرلیتا ہے ہم اس کے طعنے دینے لگ پڑتے ہیں ۔ ہماری ایک نو سال کی بچی اپنے آواز اور گانے سے مغرب تک لوگوں کو خوشگوار حیرت میں ڈال دیا لیکن ہمارے لوگ اس کے خلاف کھڑے ہو گئے کہ اتنی اچھی اآواز ہے تو نعتیں کیوں نہیں پڑھتی ۔ اسی طرح چھوٹے بچوں کا ایک گروہ خالی ٹین کے ڈبوں سے موسیقی کا ایک عجب سماں باندھ دیتے ہیں اور شہزاد رائے جیسا گلوکار متاثر ہوکر انکے لئے موسیقی کے آلات خریدنے کا اعلان کرتے ہیں توہم شہزاد رائے کو کوسنے لگ جاتے ہیں کہ یہ تو اسلام کے خلاف ہے اور اسلام خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ بھائی یہ اسلام اتنا کمزور ہے کہ ماڈرن کپڑے پہننے سے یا بچوں کے گانا گانے سے خطرے میں پڑ جائیگا؟؟

پاکستان کی اعلیٰ ترین قیادت جب تک اس قسم کی الجھنوں کا شکار رہے گی ، یہ الجھنیں عوام میں بھی منتقل ہوتی رہیں گی ، ہم ہر دنیاوی کام کو مذہب کے عینک سے دیکھتے رہیں گے چاہے وہ لباس ہو، موسیقی ہو، کسی مغربی ممالک سے تعلق ہو یا وہ ممالک جن کے اسرائیل کے ساتھ قربت یا تعلقات ہیں ۔

ہمارے تقریباً تمام مکتبہ ہائے فکر کے لوگ، چاہے وہ سیاسی ہوں ، جج یا جرنیل ہو ں یا کوئی عام آدمی، سب مغربی ممالک میں رہنا پسند کرتے ہیں، لیکن پھر بھی معلوم نہیں کیوں یہاں پر مذہب کارڈ کھیلا جاتا ہے ۔ اب اگر امریکہ سے تعاون کی بات ہوتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ اڈے دیے جارہے ہیں یا اسمیں فوج کا اپنا کوئی مفاد ہوگا، پھر جب کھل کر بات ہوتی ہے کہ ہم ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تو کہا جاتا ہے کہ کیوں آپ پاکستان کو مغرب سے کاٹنا چاہتے ہیں۔

اس ساری صورتحال کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات بڑی واضح ہے کہ اگر پاکستان اپنے تیئں امریکہ سے تعاون نہ کرنے کا فیصلہ کرلے اور امریکی بی باون طیارے جو افغانستان پر بمباری کرتے ہیں کو منع کردے تو سوال اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان کے پاس بی باون طیاروں کو روکنے کی یا مارگرانے کی صلا حیت ہے اور اگر صلاحیت ہے توپاکستان کیا ان طیاروں کو منع یا مارگرانے کے اس نتیجے سے آگاہ ہے جسمیں مختلف عالمی اداروں جیسے سلامتی کونسل، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک یا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس وعیرہ کے ذریعے ہمارے گرد مذید گھیرا تنگ کیا جائیگا جسکا خمیازہ بحرحال ہماری معیشت اور ہم ہی بھگتتے رہینگے۔

یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ہم کب تک مذہب اور جذبات کا سہارا لیکر اس قوم کو ایک نہ ختم ہونے والے اندھیرے میں دھکیلتے رہیں گے، چین آخر کب تک ہماری سویلین اور ملٹری اشرافیہ کی کی گئی غلطیوں کے باوجود ہمارے ساتھ کھڑا رہیگا، روس کی حمایت بھی انکے اپنے فائدے کے ساتھ مشروط ہے جسکو اگر طویل المعیاد نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو پتہ چلے گا کہ روس کی حمایت انکے ضروریات کے تحت ہے جوکہ ذیادہ عرصہ شاید نہ چلے، کیوں کہ یہ کوئی بلینک چیک نہیں ہے بلکہ ایک ہاتھ دو اور ایک ہاتھ لو کی تحت چلنی والی روایت کا حصہ ہے۔

پاکستان پر جو لعن طعن ہورہی ہے اس میں ماضی کے جرنیل اور سیاسی اشرافیہ کے غلط فیصلوں کا بڑا ہاتھ ہے لیکن اس وقت ایسا لگتا ہے کہ انکھوں میں انکھیں ڈال کر بات کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مغرب کی دوغلی پالیسی اب مذید برداشت نہیں کی جاسکتی جسکی وجہ سے پاکستان کو ماضی میں افغان جنگوں (سوویت یونین کے خلاف جنگ اور بعد میں دہشتگردی کے خلاف جنگ) میں جھونکا گیا ، جسکے خوفناک نتائج کا سامنا پاکستان اب بھی کررہا ہے۔ پاکستانی عوام کو چاہیے کہ ان تمام معاملات کو اقتصادی نقطہ نظر سے دیکھے، کیونکہ اگر دیکھا جائے تو انڈیا جو کہ ہمارا ہمسایہ ملک ہے اسکی نمائندگی پوری دنیا میں ہر سطح پر ہے ، چاہے وہ میڈیا میں ہو، حکومتوں میں ہو یا بین الاقوامی اداروں میں ہو، اس بڑے پیمانے پر نمائندگی کا براہ راست اثر حکومتوں کے پالیسی سازی میں ہوتا ہے جسکی وجہ بھارت کو فائدہ ہوتا ہے اور اسکا بیانیہ سنا جاتا ہے۔ پاکستان کے حوالے سے جو فیصلے ہوتے ہیں ،انڈیا کو یہی نمائندگی ان فیصلوں میں براہ راست دخل اندازی کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس وقت سلامتی کونسل کی صدارت بھارت کے پاس ہے اور پچھلے دنوں افغانستان کے حوالے سے جو اجلاس تھا اس میں پاکستان کو مدعو ہی نہیں کیا گیا تھا۔اس لیے پاکستان کو چاہیے کہ مذہب اور جزبات کی عینک اتار کر دنیا کو دنیا کی حیثیت سے دیکھے اور پہلے خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہوجائے ، تب کہیں جاکرصحیح معنوں میں مسلمانوں کی مدد ہوسکتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے