دیامربھاشاڈیم پراجیکٹ،، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے درمیان باؤنڈری تنازع

پاکستان کی موجودہ حکومت نے ملک کو درپیش توانائی بحران کے حل کیلئے ترقیاتی حکمت عملی میں عشرہ ڈیمز ویژن کے تحت دس سالوں میں دس بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کیلئے حکمت عملی وضع کی ہے۔پاکستان واپڈا جنرل (ر) مزمل حسین کی قیادت میں حکومتی پالیسی کو عملی جامہ پہنانے اور ملک کو توانائی کے شعبے میں خودکفیل بنانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رہی اور لمحہ موجود میں یکسوئی اور تن دہی کیساتھ دیامر بھاشا ڈیم سمیت داسو ڈیم اور مہمند ڈیم کی عملی تعمیر کیلئے مصروف عمل ہے۔ان آبی زخائر کی 2028ء تک تکمیل سے واپڈا کی پیداواری صلاحیت 9ہزار 406میگاواٹ سے بڑھ کر20ہزار591میگا واٹ ہوگی اورعوام کو ماحول دوست اور سستی بجلی کی فراہمی کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو سکے گا۔

ان تمام آبی منصوبوں میں دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیرپاکستان کی معاشی ترقی اور روشن مستقبل کیلئے سنگ میل کا درجہ رکھتا ہے اور اس کثیر المقاصد ڈیم کی تعمیر سے نہ صرف آبی، غذائی اورتوانائی سے جڑے مسائل سے نجات ملے گی بلکہ تربیلا،غازی بروتھا سمیت دیگرپن چکی بجلی کے منصوبوں کی سالانہ پیدواری استعداد میں بھی قابل ذکر اضافہ ہوگا۔ دیامربھاشا ڈیم کی تعمیر سے گلگت بلتستان میں بھی ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا اورخطے میں سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کے علاوہ ہزاروں ملازمتوں اورسرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہونے سے لوگوں کی معیار زندگی بلند ہوگی۔

دیامربھاشا ڈیم کی تعمیر کیلئے 1980کی دہائی سے سوچ بچار جاری تھی لیکن اندرونی مسائل،بیرونی رکاوٹوں، فنڈز کی کمی سمیت ماضی کی حکومتوں کی توانائی کے بحران کے حل کیلئے غلط ترجیحات کی بنیاد پر یہ تاریخی اہمیت کا منصوبہ تعطل کا شکار رہا۔وزیر اعظم عمران خان نے 2018ء میں عنان حکومت سنبھالنے کے بعدتوانائی کے شعبے میں اصلاحات کیلئے آبی ذخائر کی تعمیر اور پن بجلی کے منصوبے شروع کرنے کا عندیہ ظاہر کیا اور 15جولائی 2020ء کو دیامر بھاشا ڈیم کے تعمیراتی کام کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔دیامر بھاشا ڈیم پر مجموعی لاگت کا تخمینہ 1406.5 ارب لگایا گیا ہے جبکہ منصوبے کی تکمیل کے بعد4500میگا واٹ بجلی کے حصول کے علاوہ 8.1ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا جس سے ہر سال سیلاب سے ہونیوالے نقصانات میں کمی آئیگی اور 3 ملین زرعی اراضی بھی سیراب ہوگی۔

دیامر بھاشا ڈیم کی عملی تعمیر یقینا واپڈاحکام کی شبانہ روزمحنت کا شاخسانہ ہے، جنہوں نے جدید مالیاتی حکمت عملی کے ذریعے نہ صرف فنڈز کی دستیابی، حصول اراضی اور لوگوں کی آباد کاری کو یقینی بنایا بلکہ ڈیم کی تعمیر میں حائل تمام رکاوٹوں اور تصفیہ طلب مسائل کے حل کیلئے بھی مربوط اور جامع نظام ترتیب دیا۔تزویراتی اہمیت کے حامل دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیرکیلئے جہاں دیگر مالیاتی اورتیکنیکی چیلنجز درپیش تھے، وہاں ڈیم کی حدود میں واقع گندولہ نالا کی ملکیتی حییثت پر ضلع دیامر کے نواحی علاقہ تھور اور خبیر پختونخوا کے ضلع اپر کوہستان کے سرحدی علاقہ ہربن کے قبائل طویل عرصہ باہم دست و گرییاں رہے اور خونی تصادم میں دونوں اطراف سے پانچ افراد جاں بحق اور چھ زخمی ہوئے تھے۔وفاقی حکومت کی جانب سے تنازعہ کے حل کیلئے ایک رکنی کمیشن بھی تشکیل دیا گیا تھا مگرکمیشن کی رپورٹ منظر عام پر نہیں آسکی ہے۔ واپڈا نے اس دیرینہ مسئلہ کے پر امن حل کیلئے اپنی کاوشیں جاری رکھی اور اس سلسلے میں اپر کوہستان ا و رضلع دیامرکی ضلعی انتظامیہ کی مشاورت سے علاقے کے جید علماء اورسماجی رہنماؤں پر مشتمل 24رکنی گرینڈ جرگہ تشکیل دیا تاکہ تمام تصفیہ طلب معاملات قبائلی روایات کے تحت افہام و تفہیم سے حل کئے جا سکیں۔

دیامر کوہستان امن جرگہ کو واپڈا سمیت کوہستان اور دیامر کی انتظامیہ نے مکمل اختیار دیا تھا کہ ان کی سفارشات پر عملدر آمد کیلئے حکومت پس و پیش کا مظاہرہ نہیں کریگی کیونکہ حکومت مقامی لوگوں کی دیامر بھاشا ڈیم کیلئے قربانیوں کا ادراک رکھتی ہے اور اس تنازع کے پر امن حل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لانے کی خواہاں تھی۔دیامر کوہستان امن جرگہ پر دونوں متحارب فریقین نے بھی اعتماد کا اظہار کیا ہے اور ان کے فیصلے پرقائم رہنے کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔

واپڈا نے دیامربھاشاڈیم کمپنی کے ذریعے اس ایشو کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے واپڈآفس اسلام آباد میں اپرکوہستان اور دیامر کی ضلعی انتظامیہ سمیت گرینڈ امن جرگہ کا اجلاس 3ستمبر2021کو منعقد کیا، جہاں ا س تنازع کے حل کیلئے ہونیوالی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں واپڈا کی نمائندگی جنرل منیجر (ایل اے اینڈ آر، ایچ آر ڈی) بریگیڈئیر شعیب تقی،جنرل منیجر دیامر بھاشا ڈیم راؤ محمد یوسف، ڈپٹی کمشنر دیامرلیفٹننٹ (ر) سعد بن اسد،ڈپٹی کمشنر اپر کوہستان عارف یوسف زئی سمیت گرینڈ امن جرگہ کے اراکین اور واپڈا کے اعلی حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں واپڈا کی جانب سے جنرل منیجر (ایل اے اینڈ آر، ایچ آر ڈی) بریگیڈئیر شعیب تقی نے یقین دہانی کروائی کہ تھور ہربن متنازع حدود کے تصفیے کیلئے دیامر کوہستان جرگہ کے فیصلے کے مطابق زمین اور دیگر نقصانات کی ادائیگیوں پر عملدر آمدکیا جائیگا اور ادائیگیوں کے معاملات کو شفاف انداز میں منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے واپڈا اور ضلعی حکام پر مشتمل سٹئیرنگ کمیٹی تشکیل دی جائیگی۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ واپڈا، ضلعی حکام اور جرگہ اراکین کی مزید مشاورت کے بعدسفارشات پر عملدرآمد کیلئے ہربن تھور کے مقام پر تقریب کا انعقاد کیا جائیگا۔ اس موقع پر دیامر کوہستان امن جرگہ کے اراکین نے چئیرمین واپڈا جنرل (ر) مزمل حسین،جنرل منیجر (ایل اے اینڈ آر، ایچ آر ڈی) بریگیڈئیر شعیب تقی،جنرل منیجر دیامر بھاشا ڈیم راؤ محمد یوسف اور ضلعی انتظامیہ کے آفیسران کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے جرگہ اراکین کی سفارشات کو من و عن تسلیم کرنے کا عندیہ دیکر اس دیرینہ تنازع کے پر امن حل کی راہ ہموار کر دی ہے۔واپڈا اور گرینڈ جرگے کی کوششوں سے خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے درمیان زمین پر تنازع حل ہونے جارہاہے جو کہ علاقائی ترقی اور مقامی آبادی کی فلاح وبہبود کےلیے انتہائی ضروری ہے۔ اس اقدام کو دونوں صوبائی حکومتوں اور وفاق کی جانب سے بھی سراہا گیا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے