راولپنڈی سے خالد مرزا،یاسر قریشی کا کنٹونمنٹ کا الیکشن جیتناخدمت کی سیاست کی جیت ہے۔اس کے پیچھے جہاں دونوں امیدواروں اور ٹیم کی محنت اور جدوجہد ہے وہاں ایک مرجع خلائق کارکن ہے۔جس کہ شب و روز کی کوششوں سے ایک سے دو سیٹیں ہوئیں۔اس مرجع خلائق کا نام ہارون الرشید ہے۔
اگر جیتنا ہے تو اس کے لیے شوق،ذوق اور ولولہ چاہیے۔
ڈاکٹر نذیر شہید نے جنوبی پنجاب کی سیاست کے ستونوں میں سے ایک ستون اور ڈیرہ غازی خان کے بڑے سردار کو ہرایا تو اس کی وجہ کیا تھی،کسی نے لکھا کہ میں ڈاکٹر نذیر شہید کے جنازے میں شرکت کے لیے گیا،بس سے اتر کر رکشے میں بیٹھا اور پتہ بتایا،کرایہ پوچھا تو رکشے والا چیخ اٹھا کہ ہمارا باپ مر گیا اور ہم اس کے جنازے میں جانے والے سے کرایہ لیں گے۔یہ وجہ تھی ان کے جیتنے کی۔
سراج الحق صاحب جب تک لاہور نہیں گئے تھے،تب تک ایسے نہ تھے،کئی سال ادھر ہوتے ہیں،مری روڈ بارانی یونیورسٹی کے آگے سے گزر رہے تھے۔سراج الحق صاحب نے کہا کہ الیکشن شوق لگن اور ولولے کا نام ہے،جب تک یہ چیزیں نہ ہوں،الیکشن نہیں لڑا جا سکتا۔
ترکی میں ایک اسلامی جماعت اقتدار میں ہے۔پاکستان میں کتنے لوگ ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ ان کا جھنڈا اور نشان کیا ہے۔بس یہ جانتے ہیں کہ وہ جیت گئے ہیں۔
در اصل ہم اپنی ناکامیوں اور کوتاہیوں کو جھنڈے اور نشان کی طرف لے جاتے ہیں کبھی اتحادیوں کو مورد الزام ٹھہرا دیتے ہیں۔2018 کے الیکشن میں ناکامی کا ذمہ دار مولانا فضل الرحمن کو ٹھہرا دیا۔بھئی خود مولانا نے تو 12 قومی اسمبلی کی سیٹیں لے لیں،آپ کیوں ہار گئے۔
لوگ آپ سے ہی کیوں پوچھتے ہیں کہ آپ لوگ کبھی کس سے اتحاد کرتے ہیں اور کبھی کس سے لہذا ہم آپ کو ووٹ نہیں دیتے۔عمر ایوب سے تو کبھی لوگوں نے نہیں پوچھا کہ بھئی تم تو تھالی کے بینگن ہو صبح کسی کے ساتھ ہوتے ہو اور شام کو کسی اور کے ساتھ،بلکہ اس کے برعکس ہر دفعہ پہلے سے زیادہ ووٹ دیتے ہیں۔2002 میں موصوف ق لیگ کے ٹکٹ پر 81496 ووٹ لے کر ایم این اے بنے،2013 میں 114000 ووٹ لیے اور ہار گئے۔2018 میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر پھر ایم این اے بنے ،اور اس دفعہ 172609 ووٹ لیے ۔
لیکن میں اس عوام پر قربان جاؤں جو آپ سے ضرور پوچھتے ہیں کہ آپ کدھر جا رہے ہیں۔کیا آپ کے پاس جواب نہیں ہوتا،عبدالستار افغانی کو لوگ نہیں جانتے،نعمت اللہ خان کا کردار دنیا نے تسلیم نہیں کیا، نعمت اللہ خان ق لیگ کے اتحاد سے ناظم کراچی بنے،لیکن آج دنیا صرف نعمت اللہ خان کے کام کو جانتی ہے۔سراج الحق صاحب دو دفعہ صوبہ خیبر کے وزیر خزانہ بنے،ان کی دیانت داری اور کام کی مثال دنیا نے دی،میرے کزن چوہدری محمد یسین ان کے زمانے میں اور بعد میں بھی خیبر بنک کے سینیئر نائب صدر رہے۔وہ اب بھی ہر محفل میں گواہی دیتے ہیں کہ سراج الحق صاحب نے کبھی کوئی چٹ نہیں بھیجی۔
دور جانے کی کیا ضرورت ہے۔آج کل سینیٹ میں جماعت اسلامی کا ایک ہی ممبر ہے ،سینیٹر مشتاق احمد خان، لیکن مجال ہے کہ وہ دوران سیشن کوئی ایک جملہ بھی گزرنے دے جو اسلام اور پاکستان کے نظریاتی جغرافیہ کے خلاف ہو،تمام جماعتوں کے سینیٹرز مشتاق احمد خان سے حسد بھی کرتے ہیں اور رشک بھی کرتے ہیں۔کوئی واقعہ ہو تو سب سے پہلے ردعمل مشتاق احمد خان کا ہوتا ہے۔کوئی اسلام مخالف بل آ جائے تو اس کے خلاف ایک ہی آواز ہوتی ہے، مشتاق احمد خان،الیکشن قواعد و ضوابط ہوں یا اسلام آباد وقف بل،ترامیم صرف ایک بندہ جمع کراتا ہے اور وہ ہے مشتاق احمد خان،
تو کیا اتنا کردار بیان کرنے کے لیے کافی نہیں۔
مسئلہ لوگوں کا نہیں آپ کا ہے۔سیدی منور حسن صاحب مرحوم و مغفور سے جب اجتماعات میں لوگ سوال کرتے تھے کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ نے ایسا کیوں کیا،تب منور صاحب پوچھتے تھے کہ لوگ کہتے ہیں یا آپ کہتے ہیں ۔پہلے یہ تسلیم کریں کہ یہ آپ کا سوال ہے۔کیوں کہ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ امریکہ کے ایجنٹ ہیں لیکن آپ نے یہ سوال کبھی نہیں پوچھا کیوں کہ آپ جانتے ہیں کہ ایسا نہیں۔لیکن جو سوال آپ نے پوچھا اس پر آپ خود بھی یکسو نہیں ہیں،پھر پیار سے کہتے کہ بیٹھیں ،میں بتاتا ہوں ۔
جانے انجانے میں دراصل ہم خود ہی اپنے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے ہیں۔امیر جماعت اسلامی کا ہماری مرضی کے خلاف اگر کوئی بیان آ جائے تو سب پہلے ہم خود ننگی تلوار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔حرام ہے کہ عوام کو اگر اس کا پتہ بھی ہو،ہم خود اس کو موضوع بحث بناتے ہیں،مجالس میں لے کر جاتے ہیں۔شوراوں میں امیر کی ناک میں دم کرتے ہیں۔کئی کئی گھنٹے ایسے موضوعات پر بحث کرتے ہیں جس کا عوام الناس سے اور معاشرے سے دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔بابا احتساب کرو،ضرور کرو،لیکن وہ کرو جو آپ اپنے لیے بھی پسند کرو،اسلام حق دیتا ہے احتساب کا،عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو دربار میں سوال ہوا،سوال کرنے والا آپ کی طرح چالیس کتابیں نہیں پڑھا ہوا تھا، عرب کا بدو تھا،کیا شریعت میں یہی مثال ہے،اطاعت اور فرماں برداری اور اطاعت کی مثالیں نہیں، کہ کس طرح امیر المومنین کے حکم پر سب کچھ حاضر ہو جاتا تھا۔آپ نے برہنہ احتساب کا ٹھیکا کیوں لیا ہوا ہے۔کیا جمعیت علمائے اسلام کے سکہ بند علماء کو مولانا فضل الرحمن سے اس طرح سوال کرتے دیکھا ہے۔
امیر اور شوری پالیسی میکر ہوتے ہیں ۔ان کو آزادانہ پالیسی بنانے دیں۔بھی اگر آپ نے پالیسی بنانی تھی تو آپ امیر کیوں نہیں بنے،اب جو امیر ہے اس کی مانو اور پیچھے چلو۔
میں عرض کر رہا تھا کہ سراج الحق صاحب نے کہا کہ صوبہ خیبر پختون خواہ میں ہم تصور نہیں کر سکتے کہ امیرضلع کبھی کبھار دفتر آئے،ہمارے ذمہ دار لوگوں کی چارپائیوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔بیماروں کو سہارا دیتے ہیں۔تھانہ کچہری میں ان کے ساتھ جاتے ہیں۔ان کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں۔لیکن پنجاب میں ایسا نہیں ہے۔
پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں اسی لیے فرق ہے۔بدترین وقت میں بھی اگر کوئی سیٹ ملی تو وہ صوبہ خیبر سے ملی یا کراچی سے،اگر چہ ٹرینڈ کا بھی فرق ہے۔مرحوم ڈاکٹر مراد علی شاہ صاحب کے ساتھ بیٹھے تھے جب وہ سینیٹر ہوا کرتے تھے۔انھوں نے کہا اور ٹھیک کہا کہ پنجاب میں لوگ گلیوں اور نالیوں پر ووٹ دیتے ہیں لیکن صوبہ خیبر میں لوگ دین اور آخرت کو ترجیح دیتے ہیں۔
راولپنڈی کنٹونمنٹ کی دو سیٹیں اس بنیاد پر نہیں ہیں، جس کا آپ کریڈٹ لے رہے ہیں۔اگرچہ ایک طویل عرصہ کے بعد راولپنڈی کو مولانا سید عارف شیرازی کی صورت میں ایک فعال امیر ملا ہے۔جو گاوں گاوں اور قریہ قریہ جا رہا ہے،امیر صوبہ ڈاکٹر طارق شیرازی بھی جنوں کی طرح ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں،میٹھا میٹھا احتساب بھی کرتے ہیں۔ٹیم کو ساتھ لے کر اپنی سی جدوجہد کر رہے ہیں۔
راولپنڈی کا الیکشن خدمت کی بنیاد پر جیتا گیا ہے نہ کہ جھنڈے اور نشان کی وجہ سے، اس کی بڑی وجہ خالد مرزا، یاسر قریشی اور ان کی پوری ٹیم کے ساتھ ساتھ ایک مرجع خلائق کارکن ہے جس کا نام ہارون الرشید ہے۔
ہارون الرشید مین سرسید چوک میں الیکٹرانکس کا کاروبار کرتے ہیں۔لیکن ان کی دکان کاروبار کے ساتھ ساتھ پورے علاقے کا عوامی مرکز ہے۔کسی کے پاس بل جمع کرانے کے پیسے نہیں ہیں،کسی کی والدہ بیمار ہے،کسی کے بچے کی فیس جمع نہیں ہو رہی،کسی مریض کو کینسر ہے،لاکھوں روپے کے اخراجات آ رہے ہیں ،کسی کی بچی کی شادی ہے،ہارون الرشید کی ڈائری میں نہ نہیں ہے۔ہر ایک کو ایک ہی جواب ہے کہ ہو جائے گا اور پتہ نہیں کس طرح ہو جاتا ہے۔آپ کے پاس تو کوئی لاچار آ جائے اول تو آپ کے پاس نہ کے علاوہ کچھ نہیں کیوں کہ الخدمت صرف راشن دیتی ہے ،اور باقی کسی مد میں کچھ نہیں ،اگر خدانخواستہ دے بھی دیا تو اس سے زیادہ اس غریب کا کرایہ لگ جائے گا۔کسی کو شک ہے تو میں دس مثالیں دے سکتا ہوں عوام کی نہیں،ان لوگوں کی جنہوں نے اپنی عمریں گزار دیں۔ایک بہت بڑے بزرگ جو پوری عمر جماعت کی خدمت میں رہے،آخری عمر میں بیماری ہے اور وسائل بھی نہیں ،کہنے لگے کہ میں مجبوری میں مقامی صدر الخدمت کے پاس گیا کہ علاج پر کافی خرچ ہے۔اگر کوئی تعاون ہو سکے تو رنجیدہ ہو کر کہنے لگے کہ صدر صاحب نے جواب بھی نہیں دیا۔
تو جناب ہارون الرشید صاحب نے خدمت خلق کو اپنا شعار بنایا، خالد مرزا دراصل ہارون الرشید کا دوسرا نام ہے۔
ہماری ایک اور کمزوری ہے۔جب کوئی جیت جاتا ہے تو ہم خود اس کی اپوزیشن بن جاتے ہیں۔
ہارون الرشید نے اس کے برعکس خالد مرزا کے جیتنے کے بعد مزید زور و شور سے اس کا ساتھ دیا، عوامی مسائل ،ترقیاتی کام لوگوں کی امداد کا بیڑہ اٹھایا اور اس کے نتیجہ میں ایک سے دو سیٹیں ہو گئیں۔
کراچی میں بھی اگر کامیابی ملی ہے تو اس کی وجہ حافظ نعیم الرحمن اور ان کی ٹیم کی ان تھک جدوجہد ہے۔ان کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہے۔ان کے دل لوگوں کے دلوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔کے الیکٹرک کا معاملہ ہو یا بحریہ ٹاؤن کے متاثرین کا،ہر جگہ حافظ نعیم الرحمن موجود ہے۔وفاق اور صوبے کی کشمکش میں کراچی کے حقوق واقعی متاثر ہو رہے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن پورے کراچی کی آواز بنے۔ذکر اللہ مجاہد صاحب ‘کیا لاہور کا کوئی مسئلہ نہیں ہے جس پر آپ ہر وقت سٹی 42 پر موجود ہوں۔عارف شیرازی صاحب۔۔کیا راولپنڈی کا بھی کوئی مسئلہ نہیں؟
جب تک عوام کی آواز نہیں بنیں گے ۔مسئلہ حل نہیں ہو گا۔
ایک اور بات ہمارے ہاں ترجیحات کا بھی مسئلہ ہے۔عارف شیرازی صاحب ناراض ہوں گے۔لیکن فوری مثالیں میرے پاس پنڈی کی ہیں۔امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق صاحب نے پوری ٹیم کے ساتھ راولپنڈی کا دورہ کیا۔بہت اچھا دورہ رہا۔تین دنوں میں ڈیڑھ سو سے زائد پروگرام ہوئے۔جتنا بجٹ اس پر لگا اتنا کینٹ بورڈ کے الیکشن پر بھی لگ جاتا تو کچھ ووٹ اور مل جاتے۔۔میٹنگز میں ہم جتنا زور ہم الیکشن کے لیے دیتے ہیں۔اگر عملی طور پر بھی ایسا کریں تو بڑا فرق پڑے گا۔ہر جگہ الیکشن لڑنا کوئی فرض نہیں۔کہ جہاں سے دو سو ووٹ ملیں وہاں پر بھی پورے انسانی وسائل جھونک دیں۔
ٹینچ بھاٹہ میں ناظم بٹ نے تین ہزار کے قریب ووٹ لیے اور اس کی وجہ بھی خدمت اور شوق ہے۔ناظم بٹ کرونا میں بھرپور متحرک رہے ۔ہر جگہ عوام کے ساتھ کھڑے رہے لوگوں نے ووٹ دیا۔
باقی جہاں پر بھی ایسے بھائی ہیں۔اور امیدوار ہیں جن کا منشور بقول راجہ محمد ظہیر خان مرحوم یہ ہے کہ اگر لوگوں نے ووٹ دیا تو وہ کامیاب ہیں۔اگر نہ دیا تو تو آخرت میں وہ مجرم ہوں گے۔اس کا رزلٹ سامنے ہے۔
ہمارے پاس ایسے ایسے مردان کار ہیں جو کسی کے پاس نہیں لیاقت بلوچ جیسا منتظم اور لیڈر کسی کے پاس نہیں،اتحادوں میں بڑی بڑی جماعتوں کو ایسے چلایا ،کہ شاید ہی کوئی ایسا کر سکے۔ڈاکٹر فرید پراچہ، دینی اور دنیاوی امور پر بھرپور گرفت ،عربی کے اشعار پڑھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ کوئی عرب ہے۔
محترم سراج الحق صاحب ،آپ وہ نہیں رہے جو لاہور گئے تھے،کچھ فرق آ گیا ہے۔لوگوں نے آپ کو امیر منتخب کیا ہے۔ پالیسی آپ کی ہونی چاہیے۔مشورہ لازم ہے ۔لیکن فیصلہ آپ کا ہونا چاہیے۔آپ نے فرمایا کہ جب مجھے صوبائی اسمبلی کا امیدوار بنایا گیا تو میں علاقے کی ہر مسجد میں گیا اور جمعہ کے اجتماعات کے بعد لوگوں کو بٹھایا اور کہا کہ مجھے جماعت نے کہا ہے کہ الیکشن لڑیں اور میں آپ سے مشورہ کرنے آیا ہوں۔آپ مجھے بتائیں کہ میں الیکشن لڑوں کہ نہیں،اور پھر ایک جگہ ایک بندہ تھا جس نے کہا کہ میں تیس سال سے اے این پی میں ہوں لیکن آج تک مجھ سے پارٹی کے کسی بندے نے مشورہ نہیں کیا ۔آج آپ آئے ہیں مشورے کرنے،میں آج سے آپ کے ساتھ ہوں۔
محترم سراج الحق صاحب کو بھی توجہ دلانا چاہوں گا کہ ایک دفعہ ذرا رک کر جائزہ لیں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کچھ مخصوص افراد کے دائرے میں گھر گئے ہوں جو آپ کو زمینی حقائق سے آگاہ کرنے کے بجائے تصوراتی اور خیالی دنیا کے حسین مناظر دکھارہے ہوں۔ جو اجتماعات میں بڑھ چڑھ کر آپ کے نعرے لگانے اور آپ کی پالیسیوں کی تعریفوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملارہے ہوں۔خدارا ایسے خوشامدی ٹولے سے بچیں۔ خوشامدی ٹولہ اس دیمک کی مانند ہے جو بلند و بالا عمارتوں کی بنیادوں میں بھی لگ جائے تو انھیں زمین بوس کرکے چھوڑتی ہے۔
آپ امیر ہیں،مامور نہیں،محنت کریں،محنت کروائیں ،لیکن پالیسی اپنی لے کر آئیں ۔سیاست کرنی ہے تو خدمت ،ذوق شوق اور ولولے والے لوگوں کو سامنے لائیں۔