نیوزی لینڈ کا دورہ پاکستان منسوخ، کرکٹ کا سیاہ دن

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین ہونے والے میچیز منسوخ ہونے پر شایقین کرکٹ کو بڑا دھچکا لگا ، سب سے بڑا دھچکا اس لیئے تھا کیوں کہ پہلا میچ شروع ہونے سے تیس منٹ پہلے یہ اعلان کیا گیا کہ میچ نہیں ہوگا،پاکستان کرکٹ کا یہ سیاہ دن تھا جس نے پوری دنیا میں پاکستان کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھا دئیے،پورا دن راولپنڈی کرکٹ سٹڈیم کے باہر ڈیوتی دی اور شایقین کرکٹ کو دیکھا جس طرح وہ پور جوش تھے نیوزی لینڈ ٹیم کو خوش آمد کرنے کے لیئے ،جب نیوزی لینڈ کا دورہ پاکستان کا اعلان کیا گیا تو پاکستان میں شایقین کرکٹ خوش ہوگے تھے کہ بڑے عرصے بعد کوئی انٹرنیشنل ایونٹ پاکستان میں ہونے جا رہا تھا، چونکہ کویڈ کی وجہ سے کوئی ایسا ایونٹ ہوا نہیں تھا اس لئیے یہ پاکستان کے لوگوں کے لئیے بڑا اہم تھا، لیکن نیوزی لینڈ کی ٹیم نے یک طرفہ فیصلہ کر کے دورہ منسوخ کر دیا جس کی جتنی مزمت کی جائے کم ہے۔

پاکستان پر یہ الزام لگایا کہ سیکورٹی کے مسائل ہیں لیکن جو سیکورٹی ان کو دی گئی تھی شاید موجودہ وزیراعظم عمران خان بھی نہیں لیتے، پاکستان کے سیکورٹی اداروں نے بلکہ وزیراعظم عمران خان نے خود سیکورٹی کے حوالے سے حکم دیا تھا کہ کوئی کمی نہیں چھوڑنی وزیراعظم نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن سے ٹلیفونک بات کی اور سیکورٹی کے حوالے سے یقین دہانی کرائی ، نیوزی لینڈ کی ٹیم نے گزشتہ روز ایک پریکٹس میچ بھی راولپنڈی کرکٹ سٹڈیم میں کھیلا کیا اس وقت سیکورٹی خراب نہیں تھی،جو گزستہ روز سیکورٹی ان کو فراہم کی گئی میچ والے دن اس سے بھی زیادہ سیکورٹی دی گئی تھی، آج سٹڈیم کی طرف کسی بھی غیر متعلقہ افراد کو نہیں جانے دیا گیا، سیکورٹی جتنی ان کو دی گئی اتنی پہلے کبھی نہیں دیکھی۔

شائقین کرکٹ جو سٹڈیم کے باہر انتظار کر رہے تھے کہ ہمیں اندر جانے کی اجازت دی جائے اور میچ دیکھیں، لیکن میچ کے شروع ہونے سے تھوڑی دیر پہلے کویڈ کا کہ کر شائقین کرکٹ کو گھر جانے کا حکم دے دیا، ملک کے مختلف شہروں سے لوگوں نے ٹکٹ خریدے اور میچ دیکھنے آئے لیکن نیوزی لینڈ کو پاکستان کی مہمان نوازی نصیب نہیں تھی ، میچ منسوخ ہونے کے بعد پوری دنیا میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پر ایک نشان چھوڑ دیا ہے کہ پاکستان سیکیورٹی کے حوالے سے بلکل ناکام ہے، لیکن جو سیکورٹی انتظامات اپنی آنکھوں سے دیکھے یہ پاکستان پر بے بنیاد الزام لگایا گیا ہے۔

بدقسمتی سے پاک نیوزی لینڈ سیریز منسوخ ہو گئی جس سے شائقین کرکٹ کو مایوسی ہوئی ملک کے امیج کو نقصان پہنچا سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہوں گے,انٹرنیشنل طاقتوں نے اپنی کوشش کی پاکستان کو بدنام کرنے کی جس میں کسی ہد تک کامیاب ہوگئے لیکن یہ ایک یکطرفہ فیصلہ تھا جس پر تحقیقات ہونی چاہیئے اور نیوزی لینڈ سے یہ سوال پوچھنا چاہیئے کہ کیا سیکورٹی تھرٹ تھی۔

آج جو ہوا اس نے پوری دنیا میں پاکستان کے امیج کو خراب کیا جو دکھ کی بات ہے،لیکن یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، پاکستان کی پوری قوم کو انٹیلیجنس ایجنسیز پر اعتدام ہے اور رہے گا۔
پاکستان زندہ باد

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے