غائبانہ دوست؟

میرےفیس بک فرینڈز بڑے رنگ برنگے لوگ ہیں تاہم ان سب کا تعلق بنیادی طور پر ادب و ثقافت سے ہے ،فارغ اوقات میں مطالعہ کے علاوہ میری سب سے زیادہ دلچسپی ان دوستوں کی بھیجی ہوئی آڈیو، ویڈیو کلپس اور پوسٹس سننے دیکھنے پڑھنے اور اس کے بعد باذوق دوستوں کو فارورڈ کرنا ہوتی ہے ۔میرے ان دوستوں میں کالم نگار، یو ٹیوبرز اور بہت کٹر مذہبی لوگ بھی شامل ہیں۔ یہ میرے غائبانہ دوست ہیں کہ ان میں سے اکثر کو میں نے دیکھا بھی نہیں ہوتا ۔

بہرحال سارے اخبارات پڑھنے اور ٹی وی کے پروگرام دیکھنے کے بعد کالم پڑھنے کی ضرورت تو نہیں رہتی پھر بھی ان کا نقطہ نظر جاننے کیلئے ان کالموں کو بھی ایک نظر دیکھتا ہوں۔البتہ بیشتر یوٹیوبرز کی صرف تہلکہ خیز سرخیاں پڑھتا ہوں کہ ان میں سے اکثر کے ہاں پڑھنے کی چیز صرف سرخیاں ہی ہوتی ہیں ۔یہ دوست بھی بنیادی طور پر ادب و ثقافت ہی سے وابستہ ہیں، خالص سیاسی یوٹیوبرز مجھے اپنے خیالات سے بہرہ ور ہونے کا موقع ہی نہیں دیتے وہ مجھے اپنے زریں خیالات فارورڈ ہی نہیں کرتے اور یوں میں ان کے افکار عالیہ سے محروم رہ جاتا ہوں ۔

مجھے سب سے زیادہ فنی پوسٹس پسند ہیں ،جنہیں دیکھ کر چہرے پر مسکراہٹ آ جائے یا بھرپور قہقہہ لگانے کو جی چاہے اس طرح کی پوسٹس سیاسی اور غیر سیاسی دونوں طرح کی ہوتی ہیں ،مجھے علم ہے میرے کون سے دوست ہنسنے مسکرانے والے ہیں اور کون سے سڑیل ہیں چنانچہ اس درجہ بندی کو ملحوظ رکھتے ہوئے زندہ دلوں کو زندہ دلی والی پوسٹس اور جو سمجھتے ہیں کہ آخر ایک دن مر جانا ،سو یہ دنیا ہنسنے کی نہیں عبرت کی جاہے انہیں صرف عبرتناک قسم کی پوسٹس ارسال کرتا ہوں جس کے جواب میں وہ دل بنا کر بھیجتے ہیں ۔کچھ دوست روزانہ اپنی ایک غزل بغرض مطالعہ ارسال کرتے ہیں شروع شروع میں پوری غزل پڑھ کر انہیں پھول یا خوشی والا ایموجی سینڈ کر دیتا ہوں جب یہ غزلیں مسلسل آنا شروع ہوتی ہیں تو میں ان کی غزل اور اس کے پیرائے کے خدوخال سے پوری طرح واقف ہو چکا ہوتا ہوں چنانچہ پوری غزل پڑھے بغیر بھی واہ واہ کر دیتا ہوں۔

ان دنوں پاکستان کا شاید ہی کوئی شہری ایسا ہو جسے سیاست سے دلچسپی نہ ہو چنانچہ میرے دوستوں میں کچھ پی ٹی آئی کے حامی اور کچھ اس کے مخالف بھی ہیں ان میں سے کچھ تو کھل کر اپنا مافی الضمیر بیان کرتے ہیں اور کچھ ،جن میں سے اکثر پی ٹی آئی کے حامی ہیں 9مئی کے سانحہ کے بعد سے بہت ’’گھنے‘‘ ہو گئے ہیں یعنی صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں۔ چونکہ میرے یہ دوست بھی ادب ہی سے وابستہ ہیں چنانچہ اپنا یہ دو رُخا کردار بخوبی نبھاتے ہیں ،تاہم چند سوالوں کے بعد بالآخر ان کا ذہن پڑھنا آسان ہو جاتا ہے!

اور ہاںبہت سے دوست ایسے بھی ہیں جو آپ کو اپنی پوسٹ کی ’’رسید‘‘ نہیںدیتے جس سے ان کی عدم دلچسپی کا اندازہ ہو جاتا ہے، کچھ ایسے بھی ہیں جو ہر ویڈیو یاپوسٹ پر ضرور کمنٹ کرتے ہیں۔ ایک اور قسم کے لوگ بھی ہیں ان کا تعلق بیوروکریسی سے ہے یا ویسے ہی پیدائشی صاحب واقع ہوئے ہیں، یہ کبھی کبھار کوئی انتہائی بور قسم کی چیزبھیجتے ہیں جس پر نہ ہنسنا نہ رونا آتا ہے۔ ان کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ آپ کوپتہ ہی نہیں چلنے دیتے کہ آپ کا بھیجا ہوا ’’گفٹ‘‘ انہیں ملا بھی ہے کہ نہیں! ان کے ایرو کبھی بلیو ہی نہیں ہوتے، بہت سے دوست اپنی ادبی فتوحات کی تفصیل سے آگاہ کرتے ہیں اور یہ باتصویر ہوتی ہیں۔

کچھ فیس بک پر اپنے ابا کی دادی کی پھوپھی زاد بہن کے انتقالِ پرُملال کی اطلاع دیتے ہیں اور پھرسینکڑوں دوست صدمے سے بھرپور تعزیت کرتے ہیں، بعض دوست اپنی شادی کی 80ویں سالگرہ کی تصویر فیس بک پرلگاتے ہیں، جس میں میاں بیوی ایک دوسرے کو دیکھ کرمسکرا رہے ہوتے ہیں، اس پر بیشتر کمنٹس اس طرح کے ہوتے ہیں کہ 80 ویں سالگرہ؟ تصویر میں تو 18ویں سالگرہ لگ رہی ہے، فارسی کا یہ مصرعہ اسی حوالے سے ہے کہ

؎ دل بدست آور کہ حجِ اکبر است

البتہ ایک چیز اور بھی ہے جس سے میرا کبھی واسطہ نہیں پڑا، اسے ’’سوشل میڈیا‘‘ کہتے ہیں اور کل جہان میں اس کا شہرہ ہے، سنا ہے اس میں گالی گلوچ ہوتی ہے جی بھر کر افراد کی کردار کشی کی جاتی ہے، پرلے درجے کی جھوٹی خبروں کو اس میں شامل کیاگیا ہوتا ہے، نامور لوگوں کے حوالے سے فیبریکیٹڈ خبریں اور تصویریں ہوتی ہیں، یہ کام فی سبیل اللہ نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے ذریعے یوٹیوبر لاکھوں روپے کماتے ہیں، چنانچہ گزشتہ دنوں یہ کاروبار بہت عام تھا مگر 9مئی کے بعد سے پاکستان میں کم کم اور بیرون پاکستان اب بھی روز نشر ہوتا ہے۔ ان افواہ سازوں اور نفرت پھیلانے والوں نے پوری دنیا میں کہرام مچایا ہوا ہے۔ ابھی تک اس طوفانِ بدتمیزی پر قابو پانے کا کوئی طریقہ کسی کوسمجھ نہیں آ رہا۔ یہ آگ اب ان کوبھی جھلسا رہی ہے جنہوں نے یہ لگائی تھی اور جس کے شعلوں کو ہوا دی جاتی رہی تھی۔

میں اس فسادی کے بارے میں صرف سنتا ہی چلا آیا ہوں اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا کبھی موقع نہیں ملا کیونکہ اس نوع کے پاگل لوگوں کو میں نے خود سے بہت دوررکھا ہوا ہے، میرے دوستوں کی بڑی تعداد صاف ستھرے اور پڑھے لکھے لوگوں پر مشتمل ہے۔ اگر کبھی کبھار مجھے کسی طرف سے کوئی ناپسندیدہ پوسٹ آ جائے تو میں نہ صرف وہ ڈیلیٹ کردیتا ہوں بلکہ سینڈر کو بلاک کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں ،اس کے باوجود میری خواہش ہے کہ میں اس ’’سوشل میڈیا‘‘ پر ایک نظر تو ڈالوں اور سنی سنائی باتوں کی بجائے ان حشرات الارض کی آماجگاہ پر ایک نظر ڈال سکوں، اس کیلئے مجھے دوستوں کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے