تعلیمی نظام کی خرابیاں

ہمارے تعلیمی نظام میں کچھ بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ میرا ان اصلاحات سے مطلب ہر گز یہ نہیں کہ تعلیم کے شعبہ میں انقلابی تبدیلیوں کی صورت میں دودھ اور شہد کی ندیاں بہنے لگ جائیں گی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جو سزائیں ہم اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کی بدولت بھگت رہے ہیں، ان کا ازالہ کیا جائے۔

پاکستان کے بورڈ اور یونیورسٹیوں میں انگریزی نہ سمجھنے والے طلباء کے لیے اردو میں پرچہ دینے کا آپشن موجود ہوتا ہے۔ یقیناً یہ پالیسی طلباء کی آسانی کے لئے اپنائی گئی۔ مگر طلباء کی آسانی اگر اردو کے بجائے اپنی علاقائی زبان میں تعلیم حاصل کرنے میں ہے تو تعلیمی نظام میں مطلوبہ تبدیلی کیوں نہیں لائی جاتی؟

اگر طلباء کو ان کی مادری زبان میں پڑھنے کا موقع دیا جائے تو نہ صرف وہ اچھی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں بلکہ اپنی معاش کا بہترین بند و بست کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ طلباء کو اچھے نمبرز کے حصول میں جو دقتیں پیش آتی ہیں، ان میں سے آدھی مشکلیں زبان کے مسئلے کے حل ہو جانے سے نمٹ جائیں گی۔

تعلیم کا مقصد صرف نمبروں کا حصول نہیں مگر  پڑھے اور سیکھے گۓ ہنر میں مہارت حاصل کرنا بھی ہے۔ پاکستان میں طالب علموں کی کثیر تعداد ہے جو شاندار حافظے کی بنیاد پر اچھے نمبرز حاصل کر لیتے ہیں مگر جب عملیت کا وقت آتا ہے تو گزشتہ برسوں میں کی گئی محنت رائیگاں ہو جاتی ہے کیونکہ بیگانی زبان میں سبق یاد کیا جا سکتا ہے پر چیزوں کی سمجھ سہی سے نہیں بنتی اور اس طرح بنیادیں کمزور رہ جاتی ہیں اور کام کی گہرائی میں جاتے ہوئے جب ٹیکنیکل پہلو سمجھ نہیں آتے تو طالب علم کا پڑھنا نہ پڑھنا برابر ہوتا ہے۔

تعلیمی اصلاحات میں زبان کے علاوہ بھی ایک پہلو غور طلب ہے اور وہ معاش سے منسلک شعبوں کا انتخاب اور ان کی آگاہی ہے۔

ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں مارکیٹ میں موجود حد درجے شعبہ جات کا علم ہے مگر ایسا نہیں ہوتا۔ خاص کر طلبا کا شعور ان کے والدین تک محدود ہوتا ہے اور والدین کی سوچ اپنے زمانے تک محدود ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ نئے پنپتے مواقعوں کو بھانپ نہیں پاتے۔ دنیا کا سیاسی و معاشی منظرنامہ لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہوتا رہتا ہے اور نئی ضرورتیں ابھرنے لگتی ہیں جن کو پرانے لوگ کیا کوئی بھی ذی روح پہچاننے میں ناکام رہ جائے۔ یہ ذمہ داری ریاست کی بنتی ہے کہ ہماری تعلیم سے مختص وسائل کو بتائی گئ ضروری کھوج میں استعمال کرے تاکہ ریاست کا اپنی عوام سے کیا گیا وعدہ بھی وفا ہو سکے اور طلباء اور والدین کی بے خبری ان کے مستقبل میں بگاڑ کا سبب نہ بنے۔

جس طرح میٹرک سے پہلے بچوں کو سائنس کے روایتی مضامین میں باندھ دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس آگے چل کر یونیورسٹیوں میں جن نئے مضامین کا سامنا ہوتا ہے اس کے حوالے سے بھی آگاہ کرنا چاہئیے یا اس کے متعلق شروعاتی تعلیمی کورس بنایا جائے یا کم از کم آگاہ ضرور رکھا جائے تاکہ مستقبل میں کم علمی کی بدولت ان مضامین سے ہاتھ نہ دھونا پڑے۔ روایتی مضامین میں الجھ کر مقابلہ بڑھ جاتا ہے اور نتیجتاً آدمی کو نوکری کی تلاش میں در در کی ٹھوکر کھانی پڑتی ہے۔ اگر متبادل مضامین کے بارے میں طلباء کو پہلے سے علم ہو تو ان کی نوکریوں کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ میں نے بھی اپنی طرف سے میس کمیونیکیشن میں داخلہ لے کر ایک انقلابی قدم اٹھایا مگر بعد میں معلوم ہوا کہ میرا یہ فیصلہ بھی میرے گردو نواح کے محدود علم سے منسلک تھا۔

مزید حیرانی تب ہوئی جب بے اے کرنے والے لوگوں کو صحافت میں قدم رکھتے دیکھا اور احساس ہوا کہ لوگوں کو آخری وقت تک اپنی زندگی سے متعلق ارادوں کا سہی علم نہیں ہوتا اور اس میں ان کی کوئی غلطی نہیں۔ یہ ہمارے تعلیمی نظام کا نقص ہے جو ہمیں شروعات سے بے راہ روی کا شکار رکھتا ہے۔ ایسے نظام میں اپنے شوق اور مواقعوں کو جاننا ہی اپنے آپ میں بہت بڑی کامیابی ہے لیکن اس شوق کو درست سمت دینے کے لئے باقاعدہ تعلیم بھی ضروری ہے ورنہ روایتی مضامین میں قید ہو کر جب مقابلہ سخت ہوتا ہے اور نوکری نہیں ملتی تو پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے اور دوبارہ ڈگری حاصل کرنے کی سکت کسی میں نہیں ہوتی۔ اور کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ بیچ تعلیم میں آپ نئے مواقعوں سے روشناس ہوتے ہیں مگر وقت کافی گزر چکا ہوتا ہے اور وآپسی ممکن نہیں ہوتی۔ میرے ساتھ بھی ایسا ماضی قریب میں ہوا جب مجھے میٹرک سے کچھ سال بعد تاریخ کا شوق ہوا جس کی بدولت آرکیالوجی اور انتھروپولوجی سے بھی روشناس ہوا مگر نہ تو پاکستان میں اس واسطے کوئی

معیاری ادارہ تھا نہ مجھے پہلے کسی نے روایتی مضامین کے علاوہ کچھ بتایا تاکہ اس کو یونیورسٹی میں پڑھنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھاتا اور شاید اگر بتا بھی دیتے تو کوئی نتیجہ نہ نکلتا۔ صرف یہی نہیں کچھ ایسے شعبوں کے ساتھ منسلک ہونے کا اتفاق ہوا جن کے بارے میں مجھے کان و کان خبر نہ ہونے دی گئی جبکہ اس کا جال ہمارے ملک سمیت پوری دنیا میں ہے، این جی اوز کی صورت میں مگر اس کام کی آگاہی نہ ہونے کے باعث اس میں شمولیت کے لیے مینیجمینٹ یا انٹرنیشنل ریلیشنز کا مضمون نہ پڑھ سکا اور نہ اس کام کا سہی سے رکن بن سکا۔

اس سے تعلیمی نظام کی ناکامی واضح ہے کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ ہم کیا چاہتے ہیں اور جب ہم جان جائیں تو ہنگامی بنیادوں پر وہ کام سر انجام دیتے ہیں بجائے باقاعدگی اور مراحل طے کرنے کے اور اگر ہنگامی بنیادوں پر کام نہ ہو سکے تو شاید آدمی کا مستقبل ساری عمر کے لیے سوالیہ نشان رہتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے