مون سون کی بپھری رت: جڑواں شہر جل تھل، چکوال میں کلاوڈ برسٹ کا قہر

پاکستان میں مون سون کی حالیہ لہر نے ایک بار پھر اپنی شدت کا ثبوت دے دیا ہے۔ راولپنڈی، اسلام آباد اور چکوال میں ہونے والی موسلا دھار بارش نے معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ کہیں سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کر رہی ہیں، تو کہیں شہری اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

راولپنڈی اور اسلام آباد میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 129 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس شدید بارش کے باعث نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی ہے۔ کٹاریاں کے مقام پر سطحِ آب 16 فٹ جبکہ گوالمنڈی پل پر 14 فٹ تک پہنچ گئی، جو کہ محکمہ موسمیات اور ضلعی انتظامیہ کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر بارش کا یہی سلسلہ برقرار رہا تو نالہ لئی کی طغیانی نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔

ادھر چکوال میں کلاوڈ برسٹ جیسا خطرناک موسمی مظہر سامنے آیا، جہاں 423 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس غیر معمولی بارش نے چکوال کے کئی دیہی و شہری علاقوں کو بری طرح متاثر کیا۔ بارشی پانی گھروں، دکانوں اور گلی محلوں میں داخل ہو گیا، جس سے لوگوں کا لاکھوں روپے کا نقصان ہوا۔ کئی علاقے ایسے ہیں جہاں پانی اب بھی کھڑا ہے اور لوگوں کو نکاسی آب کے شدید مسائل کا سامنا ہے۔

یہ تمام صورتحال ملک میں موسمیاتی تغیرات (Climate Change) کی واضح علامت ہے۔ شدید بارشوں، کلاوڈ برسٹ، اور ندی نالوں میں اچانک طغیانی اب محض اتفاق نہیں رہے۔ اگر اب بھی حکومت، متعلقہ ادارے اور شہری سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کریں تو ہر سال مون سون کا موسم ہمارے لیے ایک نئی آفت بن کر آتا رہے گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ:

1. شہری علاقوں میں نالوں کی بروقت صفائی اور جدید ڈرینیج سسٹم قائم کیا جائے۔

2. کلاوڈ برسٹ جیسے خطرات سے نمٹنے کے لیے ضلعی سطح پر ایمرجنسی الرٹ سسٹم بنایا جائے۔

3. شہریوں میں موسمیاتی ہنگامی صورتحال سے بچاؤ کے لیے آگاہی مہم شروع کی جائے۔

4. ندی نالوں کے کناروں پر آبادکاری پر پابندی اور پہلے سے آباد افراد کی محفوظ مقامات پر منتقلی یقینی بنائی جائے۔

پاکستان میں مون سون کا موسم محض بارشوں کا نہیں، ایک سنجیدہ چیلنج کا روپ اختیار کر چکا ہے۔ اس کا سامنا صرف محکمہ موسمیات کے اعلانات سے نہیں، منصوبہ بندی، حکمت عملی اور عملی اقدامات سے ہی کیا جا سکتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے