جنوبی وزیرستان؛ سام ٹپارغائی دوسرا پریمئر لیگ کرکٹ ٹورنامنٹ اختتام پذیر، فائنل میچ میں شکئی نے بازی مار لی

محکمہ بلدیات اور محکمہ کھیل کے تعاون سے جنوبی وزیرستان میں جاری سام ٹپارغائی دوسرا پریمئر لیگ کرکٹ ٹورنامنٹ کامیابی سے اختتام پذیر ہو گیا۔ اس ٹورنامنٹ کا مقصد علاقے کے نوجوانوں کو کھیلوں کے مثبت مواقع فراہم کرنا اور مقامی سطح پر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا تھا۔

ٹورنامنٹ میں جنوبی وزیرستان آپر، جنوبی وزیرستان لوئر، جنڈولی، ٹانک اور بنوں سمیت مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ اس بڑے ایونٹ میں کل 35 ٹیموں نے حصہ لیا، جنہوں نے آپس میں شاندار مقابلے پیش کیے۔

ٹورنامنٹ کا فائنل میچ مکین اور شکئی کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا، جو ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد اختتام پذیر ہوا۔ شکئی کی ٹیم نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائنل جیت لیا اور ٹورنامنٹ کی ٹرافی اپنے نام کر لی۔

اس موقع پر چیئرمین سام ون محمد سلیم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ٹورنامنٹ کا مقصد صرف کھیل کا فروغ نہیں بلکہ علاقے کے نوجوانوں کو ایک مثبت پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایسے ایونٹس کے ذریعے نوجوانوں کو مصروف رکھا جائے اور علاقے میں خوشی اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے۔

فائنل میچ دیکھنے کے لیے مقامی لوگوں کی بڑی تعداد اسٹیڈیم میں موجود تھی، جنہوں نے کھیل سے خوب لطف اٹھایا اور دونوں ٹیموں کی حوصلہ افزائی کی۔

تماشائیوں کا کہنا تھا کہ ایسے ٹورنامنٹس کا انعقاد نہایت ضروری ہے کیونکہ اس سے نوجوان نسل کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کیا جا سکتا ہے اور علاقے میں خوشگوار ماحول قائم ہوتا ہے۔

مقامی رہائشیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں موجود کرکٹ گراؤنڈ کی ابتر حالت کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے تاکہ کھلاڑیوں کو مناسب سہولیات میسر آ سکیں اور آئندہ اس طرح کے مقابلوں کا انعقاد مزید بہتر انداز میں ممکن ہو سکے۔

ٹورنامنٹ کے کامیاب انعقاد پر منتظمین، کھلاڑیوں اور شائقین نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اس طرح کے کھیلوں کے ایونٹس جاری رہیں گے، جو نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہیں بلکہ نئی نسل کی شخصیت سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے