فیکٹ چیک: کرنسی نوٹوں کے اصلی یا نقلی ہونے کی شناخت صرف سیریل نمبروں سے نہیں کی جا سکتی

سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس گردش کر رہی ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی شہری محض سیریل نمبر دیکھ کر نقلی نوٹوں کی شناخت کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، "AF” سے شروع ہونے والا 500 روپے کا نوٹ، "CE” والا 1000 روپے کا نوٹ، اور "HO” کے ابتدائی حروف والا 5000 روپے کا نوٹ جعلی ہوگا۔

یہ دعویٰ غلط ہے۔

دعویٰ

27 جنوری کو، ایک فیس بک اکاؤنٹ سے پاکستانی کرنسی نوٹوں (500، 1000 اور 5000 روپے) کی تین تصاویر شیئر کی گئیں۔ اس پوسٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ نقلی نوٹوں کی شناخت ان کے سیریل نمبر کے ابتدائی حروف دیکھ کر کی جا سکتی ہے۔

پوسٹ میں یہ الزام لگایا گیا کہ:

500 روپے کا وہ نوٹ جس کا پریفکس (ابتدائی حروف) "AF” ہو

1000 روپے کا وہ نوٹ جس کا پریفکس "CE” ہو

اور 5000 روپے کا وہ نوٹ جس کا پریفکس "HO” ہو

جعلی ہیں۔

اس آرٹیکل کے شائع ہونے کے وقت تک پوسٹ کو17 ہزارلائکس اور 15ہزار مرتبہ ری شیئر کیا گیا۔

اسی طرح کے دعوے ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور یوٹیوب پر بھی شیئر کیے گئے ہیں، جنہیں یہاں، یہاں اور یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔

حقیقت

حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سیریل نمبر کے ابتدائی حروف کی بنیاد پر نقلی کرنسی کی شناخت کا ایسا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایک نمائندے نے جیو فیکٹ چیک کو میسجز کے ذریعے بتایا کہ آن لائن کیے جانے والے یہ دعوے جھوٹے اور غلط ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو صرف مرکزی بینک کی ویب سائٹ اور اس کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر دستیاب سرکاری معلومات اور پریس ریلیز پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔

جیو فیکٹ چیک نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی آفیشل ویب سائٹ اور تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا بھی جائزہ لیا، لیکن وہاں ایسی کوئی ایڈوائزری (ہدایت نامہ) نہیں ملی۔

فیصلہ: یہ دعویٰ کہ کرنسی نوٹوں کو اُن کے ابتدائی حروف جیسے “AF”، “CE” اور “HO” کی بنیاد پر جعلی قرار دیا جا سکتا ہے، درست نہیں ہے۔
بشکریہ جیو نیوز

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے