اگر یہ سب ختم ہوجائے ۔ ۔ ۔

اس وقت دنیا میں پریشانیاں اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہیں۔ ہر طرف بیماریاں ہیں ، کوئی دل کے امراض میں مبتلا ہے، کوئی شوگر یا بلڈ پریشر کی گرفت میں ہے، بچے الرجی یا انفیکشن سے لڑ رہے ہیں، بزرگوں کی ہڈیوں اور جوڑوں میں درد ہے، دماغ ذہنی دباؤ اور ذہنی تھکن سے زخمی ہیں۔ ہر انسان تھکا ہوا، بے چین، فکر مند اور ٹینشن میں گھرا ہوا ہے۔ لوگ سو نہیں سکتے، نیند پوری نہیں ہو رہی، وقت پر کھانا نہیں کھا سکتے، وقت پر جاگنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ پوری رات موبائل کھول کر بیٹھے رہتے ہیں، نیند نہیں آتی، کھانا کھاتے ہوئے ٹی وی یا موبائل پر مصروف رہتے ہیں، اور دن بھر کی زندگی جیسے ادھوری نیند اور تھکن میں گزار رہے ہیں۔

لیکن یہ سب ٹھیک ہو سکتا ہے۔
ایک دم ٹھیک ہو سکتا ہے۔
سونا وقت پر ہو سکتا ہے، جاگنا وقت پر ہو سکتا ہے، کھانا پینا وقت پر ہو سکتا ہے، صحت اچھی ہو سکتی ہے، بیماریاں ختم ہو سکتی ہیں، منافقت اور بے ایمانی ختم ہو سکتی ہیں، حرص اور ہوس ختم ہو سکتی ہیں۔

اگر انٹرنیٹ، گاڑیاں، ہوائی جہاز اور بجلی ۔

یہ سب دنیا سے ختم ہو جائیں تو شاید زمین پر دوبارہ سکون اتر آئے۔

لوگوں کے چہرے پر پھر سے وہی اطمینان دکھائی دے جو کبھی ہوا کرتا تھا، جب وقت آہستہ چلتا تھا اور دل تیز دھڑکتے تھے۔

سوچئے… اگر سواری کے لیے لوگ دوبارہ گھوڑے رکھنے لگیں۔ صبح کے وقت اصطبل سے گھوڑے کی ہنہناہٹ سنائی دے، اور سفر کی تیاری میں زمین پر ٹاپوں کی آواز گونجے۔ نہ ہارن، نہ ٹریفک جام، نہ پیٹرول کے نرخوں کا غم۔ بس ہوا میں مٹی کی خوشبو، اور راستے میں درختوں کا سایہ۔

سفر کے لیے ہوائی جہاز نہ ہوں ، صرف بحری جہاز ہوں۔
رفتار کم ہو مگر مزہ زیادہ۔ لوگ منزل سے زیادہ سفر سے لطف اٹھائیں۔ سمندر کی لہروں کے ساتھ وقت گزاریں، چہرے پر ہوا کا لمس محسوس کریں، اور دل میں کسی بندرگاہ کے انتظار کی مٹھاس ہو۔

رابطے کے لیے پرانا ڈاک کا نظام واپس آ جائے۔
جب خط کے انتظار میں دل دھڑکنے لگتا تھا، جب ایک لفافہ کھولنے میں ہاتھ کانپتے تھے، جب ہر لفظ کے پیچھے احساس کی خوشبو ہوتی تھی۔

نہ یہ موبائل کا شور، نہ چیٹ کے جھوٹے وعدے، نہ "آن لائن” رہنے کا دکھ۔

ایک خط، جو کئی دن بعد پہنچے مگر دل کو ہمیشہ کے لیے چھو جائے۔

اگر موبائل فون، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا سب ختم ہو جائیں ۔

تو شاید پھر لوگ ایک دوسرے سے بات کرنے لگیں۔
چہرے پر مسکراہٹ، ہاتھوں میں ہاتھ، اور باتوں میں خلوص ہو۔

اب تو ہر رشتہ "ڈیٹا پیکج” کی طرح محدود ہو چکا ہے — ختم ہوتے ہی سب ختم۔

اگر بجلی نہ ہو تو شاموں میں پھر وہی چراغ روشن ہوں،
گلیوں میں لالٹینوں کی نرم روشنی پھیلے،
اور گھر کے صحن میں بیٹھ کر خاندان کہانیاں سنائے۔
ٹی وی اور موبائل کے بجائے دادا جان کی باتیں ہوں،
اور ہر جملہ دل کے کسی گوشے میں نقش ہو جائے۔

ریڈیو ہو، مگر وہی پرانا — جس پر گانے آہستہ آہستہ بجتے ہوں،اور خبر سنانے والے کی آواز میں وقار ہو۔

ٹی وی چینلوں کا شور ختم ہو، نیوز اینکرز کے چیختے چہرے غائب ہوں،
اور لوگ دوبارہ خاموشی میں سوچنے لگیں۔

ہسپتالوں کے بجائے لوگ جڑی بوٹیوں سے علاج کریں،
کیونکہ بیماریوں کی جڑ اکثر وہی “ترقی” ہے جس پر ہم ناز کرتے ہیں۔

جب زندگی سادہ تھی، تو بیماریاں بھی کم تھیں۔
اب ہر گولی کے ساتھ ایک نئی بیماری جنم لیتی ہے۔

اگر بینک، اے ٹی ایم اور کریڈٹ کارڈ ختم ہو جائیں،
تو لوگ پھر سے امانت اور بھروسے پر لین دین کرنے لگیں۔

پیسہ کم ہو مگر سکون زیادہ ہو۔

آج جتنی رقم ہاتھ میں ہے، اتنی ہی بے چینی دل میں ہے۔

اور اگر جدید ہتھیار ختم ہو جائیں، پہلے کی طرح جب جنگیں بھی ہوتی تھیں مگر ان کا پیمانہ مختلف تھا۔

جدید ایٹمی یا بیلسٹک تباہ کاریوں کے بجائے ذاتی، محدود اور روایتی حدود کے ساتھ خنجر، تلوار، نیزے اور برچھیاں استعمال ہوں۔

اگر یہ ساری جدید چیزیں
انٹرنیٹ، بجلی، موبائل، ہوائی جہاز، کاریں
سب ختم ہو جائیں،
تو شاید دنیا ایک بار پھر جی اُٹھے۔
لوگ ٹینشن فری ہوں، نیند پرسکون ہو،
دل میں محبت ہو، دماغ میں سکون ہو،
اور جسم صحت مند۔

پرانے زمانے کی طرح، جب زندگی سادہ تھی — مگر خوش تھی۔

لوگوں کی صحت اچھی تھی، خلوص تھا، اپس میں دید، لحاظ اور مروت تھی۔

احساس کمتری نہیں تھی، کسی کو یہ احساس نہیں تھا کہ وہ پیدل ہے یا سائیکل پر ہے، مکان چھوٹا ہے یا بڑا۔
شاید تب انسان واقعی زندہ تھا،
اور آج صرف مصروف ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے