مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے صحراؤں سے اٹھنے والا بارود کا دھواں اب محض ایک علاقائی تنازع نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ایسے عالمی تصادم کی صورت اختیار کر چکا ہے جس کی پیشگوئی تاریخ کی کتابوں اور آسمانی صحیفوں میں صدیوں پہلے کر دی گئی تھی۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری یہ حالیہ کشیدگی اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں سفارت کاری کے بند کمرے خاموش ہو چکے ہیں اور صرف میزائلوں کی گھن گرج سنائی دے رہی ہے۔
اسرائیل کی جانب سے تہران اور بیروت میں کی جانے والی حالیہ مہم جوئی اور امریکہ کی جانب سے بحیرہ عرب میں طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعیناتی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عالمی استعمار اب کسی بھی قیمت پر مشرقِ وسطیٰ کے نقشے کو اپنی مرضی سے ترتیب دینا چاہتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ٹیکنالوجی اور مادی وسائل کی برتری ہی فتح کا معیار ہے؟ یا پھر "فتحِ حق” کا کوئی اور پیمانہ ہے؟
تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی طاقت کا توازن بگڑا اور ظلم نے حد سے تجاوز کیا، تو قدرت نے کسی نہ کسی صورت میں حق کی فتح کا سامان پیدا کیا۔نمرود کی خدائی کو ایک مچھر نے چیلنج کیا تھا اور فرعون کا غرور نیل کی لہروں میں غرق ہوا تھا۔ آج کا فرعون اپنی جدید ترین انٹیلی جنس، "آئرن ڈوم” اور "ایف-35” طیاروں کے زعم میں مبتلا ہے، مگر وہ یہ بھول گیا ہے کہ غزہ کی گلیوں سے لے کر تہران کے دفاعی مراکز تک، شہادت کا وہ جذبہ موجزن ہے جسے ایٹمی ہتھیار بھی مغلوب نہیں کر سکتے۔ اسرائیل اسے اپنی "بقا کی جنگ” کہتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک غاصب ریاست کا وہ خوف ہے جو اسے ہر معصوم بچے کی آنکھ میں نظر آتا ہے۔
امریکہ کا کردار اس پورے منظر نامے میں ایک ایسے "بڑے بھائی” کا ہے جو اپنے بگڑے ہوئے چھوٹے بھائی کی ہر خطا کو تحفظ فراہم کر رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں انتظامیہ بدلنے سے پالیسیاں نہیں بدلتیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ ہوں یا کوئی اور، امریکی اسٹیبلشمنٹ کا مقصد اسرائیل کی برتری کو قائم رکھنا اور خطے کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔ ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں ہوں یا اس کے سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ، یہ سب اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ لیکن ایران نے گزشتہ چار دہائیوں میں ثابت کیا ہے کہ خودداری کی قیمت چکانا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ ایران کا "محورِ مزاحمت” (Axis of Resistance) آج لبنان، شام، عراق اور یمن تک پھیل چکا ہے، جس نے اسرائیل کے گرد ایک ایسا دفاعی حصار قائم کر دیا ہے جسے توڑنا نام نہاد "ناقابلِ شکست” اسرائیلی فوج کے لیے ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔
حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں ایران کا "آپریشن سچی بات” (Operation True Promise) اس بات کا اعلان تھا کہ اب تزویراتی صبر (Strategic Patience) کی پالیسی ختم ہو چکی ہے۔ جب تل ابیب کے آسمان پر ایرانی میزائلوں نے روشنی کی لکیریں بنائیں، تو دنیا نے دیکھا کہ وہ آئرن ڈوم جس پر اربوں ڈالر خرچ کیے گئے تھے، ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ یہ حق کی وہ پہلی جھلک تھی جس نے باطل کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیا۔ حق یہ ہے کہ فلسطینیوں کو ان کی زمین واپس ملے، حق یہ ہے کہ قبلہِ اول صیہونی قبضے سے آزاد ہو، اور حق یہ ہے کہ خطے کے فیصلے یہاں کے عوام کریں، نہ کہ واشنگٹن میں بیٹھے ہوئے آقاؤں کے اشاروں پر ہوں۔
موجودہ صورتحال میں مسلم امہ کا کردار سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ جہاں ایران اکیلا اس استعماری مثلث کا مقابلہ کر رہا ہے، وہاں بہت سے اسلامی ممالک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں یا پھر پسِ پردہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی فکر میں ہیں۔ تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ یہ وقت مسلکی اختلافات یا علاقائی برتری کی جنگ کا نہیں، بلکہ کفر اور اسلام کے درمیان اس لکیر کو پہچاننے کا ہے جو غزہ کے لہو نے کھینچی ہے۔ اگر آج ایران کو تنہا چھوڑ دیا گیا، تو یاد رکھیں کہ استعمار کی بھوک کبھی ختم نہیں ہوتی، اگلا نمبر کسی اور کا ہوگا۔
"فتحِ حق” کے اس سفر میں انسانی جانوں کا زیاں یقیناً تکلیف دہ ہے، مگر یہ وہ قیمت ہے جو ہر وہ قوم ادا کرتی ہے جو غلامی کی زنجیریں توڑنا چاہتی ہے۔ اسرائیل کا غزہ میں ہسپتالوں اور پناہ گزین کیمپوں پر بمباری کرنا اس کی طاقت نہیں بلکہ اس کی بوکھلاہٹ کی نشانی ہے۔ ایک طرف وہ فوج ہے جو جدید ترین ٹینکوں میں بیٹھ کر بھی موت سے ڈرتی ہے، اور دوسری طرف وہ مجاہدین ہیں جو شہادت کی تمنا لے کر میدان میں نکلتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو جنگوں کا فیصلہ کرتا ہے۔
آنے والے دنوں میں ہمیں ایک بڑی جنگ کی دستک سنائی دے رہی ہے۔ امریکہ شاید براہِ راست اس دلدل میں کودنے سے کترائے، لیکن وہ اسرائیل کو پراکسی کے طور پر استعمال کرنا جاری رکھے گا۔ تاہم، عالمی رائے عامہ اب بدل رہی ہے۔ لندن، پیرس اور خود نیویارک کی سڑکوں پر "فری فلسطین” کے نعرے اس بات کی علامت ہیں کہ باطل کا بیانیہ دم توڑ رہا ہے۔ سوشل میڈیا نے وہ سچائی دنیا کے سامنے رکھ دی ہے جسے عالمی میڈیا دہائیوں سے چھپاتا رہا تھا۔
حق اور باطل کے اس معرکے میں جیت ہمیشہ حق کی ہوتی ہے۔ قرآن کا وعدہ ہے کہ "باطل مٹنے ہی والا ہے”۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے اس ٹکراؤ کا نتیجہ مادی نقصان کی صورت میں کچھ بھی نکلے، لیکن اخلاقی اور نظریاتی طور پر اسرائیل اپنی جنگ ہار چکا ہے۔ وہ دنیا کی نظروں میں ایک مجرم ریاست بن چکی ہے۔ اب صرف وقت کا انتظار ہے جب حق کا سورج پوری آب و تاب سے طلوع ہوگا اور ظلم کے بادل چھٹ جائیں گے۔ ہم ایک ایسے نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں طاقت کا سرچشمہ واشنگٹن نہیں بلکہ عوامی ارادہ اور انصاف ہوگا۔ بے شک، فتح حق کی ہوگی اور باطل کا نام و نشان مٹ جائے گا۔
مصنف معروف ماہرتعلیم ،ہفت روزہ کہوپاکستان اورفتح حق کے چیف ایڈیٹربھی ہیں.