آم صرف غالب کو ہی پسند نہیں تھے۔ آموں سے ہمیں بھی محبت ہے۔ غالب نے کہا تھا کہ آم میں دو خوبیاں ہونی چاہییں ایک تو آم میٹھے ہوں اور دوسری خوبی یہ ہونی چاہیے کہ وہ زیادہ ہوں۔ ہمارا بھی یہی خیال ہے مگر اس مرتبہ آم ہماری پہنچ سے دور ہوگئے ہیں۔اتنے مہنگے اور بے مزا آم ہم نے پہلے کبھی نہیں کھائے۔
تعجب ہوتا ہے کہ ہمارا ملک دنیا بھر میں آموں کو باہر بھیجتا ہے اور اندورن ملک آموں کی یہ حالت ہے۔ پہلے تو صرف لنگڑے آم کی شکل و صورت دیکھ کر ترس آتا تھا لیکن اس مرتبہ تو باقی آموں کو یکھ کر کر یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ آم لنگڑے ہی نہیں لولے گونگے اور بہرے بھی ہوں۔
افسوس کہ آم اب عام لوگوں کی پہنچ سے دور ہوگئے ہیں۔ آم جون کے مہینے میں آتا ہے۔اور جون میں بجٹ بھی آجاتا ہے اس طرح آم کا سارا مزا کرکرا ہوجاتا ہے۔ کمبخت مہنگائی نے آم کو عام نہیں بلکہ خاص بنا دیا ہے۔
آم پھلوں کا بادشاہ کہلاتا ہے اور مرزا غالب کو اردو شاعری کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ دونوں کا اپنا ہی مزا ہے۔ آم کو لوگ دو مہینے کھاتے ہیں مگر سارا سال یاد رکھتے ہیں۔ جبکہ مختصر سے دیوان غالب کو بھی لوگ اپنے سرہانے رکھ کر سوتے ہیں۔ جس طرح آم میٹھے بھی ہوتے ہیں اور ترش بھی۔ اسی طرح سے زندگی بھی کبھی میٹھی اور کبھی ترش ہوتی ہے۔ غالب کی تصنیف دستنبو آپ نے پڑھی ہوگی دستنبو فارسی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معانی ہیں "مٹھی میں آنے والا خوشبو دار پھل” اور ہمیں غالب کی آم سے محبت کو دیکھ کر یہ یقین ہوجاتا ہے کہ وہ پھل آم ہی ہوگا یعنی آم کی خوشبو جو ہاتھوں میں رہ جائے۔
غالب کی یہ تصنیف 1857 میں لکھے گئے روزنامچے کی تاریخ ہے۔اس کتاب میں غالب نے دلی کی تباہی اور اپنی مشکلات کا ذکر کیا ہے۔
دستنبو کا ذکر تو یونہی آگیا مگر آم پر غالب کےلطیفے بہت مشہور ہوئے ہیں۔ پہلے وہی لطیفہ جو شاید آپ نے پہلے بھی کئی بار سنا ہوگا۔ایک بار پھر سن لیجیے۔
ایک روز مرزا کے دوست حکیم رضی الدین خان صاحب جن کو آم پسند نہیں تھے۔ مرزا غالب کے مکان پر آئے۔ دونوں دوست بر آمدے میں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے کہ اتفاق سے ایک کمہار اپنے گدھے لیے سامنے سے گزرا۔ زمین پر آم کے چھلکے پڑے تھے۔ گدھےنے ان کو سونگھا اور چھوڑ کر آگے بڑھ گیا۔ حکیم صاحب نے جھٹ سے مرزا سے کہا دیکھیے آم ایسی چیز ہے جسے گدھا بھی نہیں کھاتا۔ مزا بولے بیشک گدھا آم نہیں کھاتا۔
انگریزی میں آم کو مینگو کہتے ہیں مینگو تمل زبان کے لفظ مینکے یا ملیالم لفظ منگا سے ماخوذ ہے۔ جب پرتگالی تاجر جنوبی ہند میں آباد ہوئے تو انھوں نے مانگا لفظ کا استعمال کیا۔
15 یا 16 ویں صدی میں جب برطانوی تاجروں نے جنوبی ہند سے تجارت شروع کی تو یہ لفظ بدل کر مینگو ہوگیا۔
ہمارے ملک میں پیدا ہونے والا آم دنیا بھر میں مشہور ہے۔ آم کی مشہور اقسام ہیں۔ جیسے لنگڑا ,سرولی ،بیگن پھلی،سندھڑی،چونسا,انور رٹول وغیرہ وغیرہ۔ ہم نے ایک حکیم صاحب سے پوچھا کہ کون سا آم صحت کے لیے سب سے بہتر ہے اور کس وقت آم کو کھایا جائے۔ حکیم صاحب نےمعصومیت سے جواب دیا کہ مفت کا آم اگر کسی بھی وقت کھالیا جائے تو اس کے دور رس نتائج سامنے آتے ہیں۔
دعوت آم کا سیزن ہے۔ بہت سے مینگو مشاعرے بھی منعقد ہورہی ہیں۔ جن میں لوگ شریک ہورہے ہیں۔ ہمارے دوستوں کا خیال ہے کہ مینگو مشاعروں میں اچھے شعر سننے کو ملیں یا نہ ملیں کم از کم اچھے آم کھانے کو تو مل جائیں گے۔ آم کھاتے رہو اور واہ واہ کرتے رہو شاعر بھی خوش انتظامیہ بھی خوش۔
آم کا تعلق بے تکلفی سے ہے۔ ہمارے بہت سے دوست آج بھی آم کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو امریش پوری اور رنجیت بھارتی فلموں کی ہیروئن کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک آم کھانے کا طریقہ بھی یہی ہے کہ آم بالٹیوں میں رکھے ہوئے ہوں اور اسے دھوتی اور بنیان میں کھایا جائے۔
غالب آم کے رسیا تھے۔ مختلف شہروں سے اپنے شاگردوں سے آم منگواتے۔ دیر ہو جاتی تو اپنے انداز سے روٹھتے اور شکایت کرتے۔ موسم سرما میں زیادہ تر آم ہی کھاتے۔ انھوں نے نواب مرزا فخرو کی مدح میں آموں کی تعریف میں ایک مثنوی در صفت انبہ بھی لکھی۔
غالب نابغہ روزگار تھے۔انھوں نے جس چیز سے محبت کی وہ بھی ممتاز ہوگئی۔ مرزا نے غزل میں حقیقت اور فلسفہ شامل کیا تو اس کا انداز ہی نرالا ہوگیا۔ خط لکھے تو مراسلہ کو مکالمہ بنادیا اور آم سے عشق کیا تو ادبی دنیا میں آم کی انٹری ہوگئی۔ حالی فرماتے ہیں کہ غالب آم کی تاریخ اور اس کی اقسام سے بھی واقف تھے۔
ایک مرتبہ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ کے ساتھ ان کے باغ میں موجود تھے کہ باربار آموں کی طرف دیکھتے۔ بہادر شاہ ظفر نے پوچھا کیا دیکھ رہے ہیں۔ مرزا معصومیت سے کہنے لگے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ کس دانے پر میرے آباؤاجداد کا نام لکھا ہے۔ اس جملہ نے بہادر شاہ ظفر کوچونکا دیا۔اور مسکرانے پر مجبور کردیا۔ غالب کی اس بات نے ایسا اثر دکھایا کہ بادشاہ وقت نے غالب کو عمدہ آموں کا تحفہ دیا۔
آم واقعی پھلوں کا بادشاہ ہے۔ جب بھی ہم آم کھاتے ہیں تو اسکی خوشبو ہاتھوں میں بس جاتی ہے اور اردو کے سب سے بڑے شاعر غالب کی کتاب دستنبو کا خیال ذہن میں آجاتا ہے۔