ادب کا طالب علم ہونے کا دعویٰ کرنا شاید میرے لیے بڑی بات ہو اس لیے خود کو ادب کا ایک ادنیٰ سا طالب علم کہنا زیادہ مناسب سمجھتا ہوں ادب کے سمندر سے میرا تعارف ابھی محدود ہے لیکن مطالعے اور لکھنے سے محبت نے ہمیشہ مجھے کتاب اور قلم کے قریب رکھا ہے۔ میری کوشش یہ رہتی ہے کہ جو کچھ پڑھوں یا سنوں، اس پر چند سطریں ضرور لکھوں تاکہ اپنی سوچ کو لفظوں میں ڈھالنے کی مشق بھی ہوتی رہے اور اپنی کمزوریوں اور غلطیوں کو پہچان کر کچھ نیا سیکھنے کا موقع بھی ملے۔
الحمدللہ اب تک جو بھی کتاب مضمون، نظم یا افسانہ میرے مطالعے میں آیا میں نے اس پر اپنی فہم کے مطابق کچھ نہ کچھ لکھنے کی کوشش ضرور کی۔ لکھنا میرے لیے محض ایک مشغلہ نہیں بلکہ سیکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فری لانسنگ آئی ٹی اور ڈیجیٹل دنیا کے مصروف ماحول میں رہتے ہوئے بھی کتاب اور قلم سے میرا تعلق آج تک قائم ہے اور میں اسے اپنی خوش قسمتی اور فخر سمجھتا ہوں۔
اس شوق اور عادت کے پیچھے میرے اساتذۂ کرام کی تربیت اور رہنمائی کا بہت بڑا کردار ہے۔ انہوں نے نہ صرف مطالعے کی طرف راغب کیا بلکہ یہ بھی سکھایا کہ ایک قاری کا سفر اس وقت مکمل ہوتا ہے جب وہ پڑھی ہوئی تحریر پر غور کرے اور اپنے تاثرات کو لفظوں میں بیان کرنے کی کوشش کرے۔
زیرِ نظر افسانوی مجموعہ شوگر ڈیڈی بھی میرے لیے اسی نوعیت کا ایک مطالعہ رہا۔ اس مجموعے کے خالق میرے محترم استاد ہیں، اس لیے اس کتاب کو پڑھتے ہوئے ایک قاری کے ساتھ ساتھ ایک شاگرد کا تعلق بھی میرے ساتھ رہا۔ میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں ان افسانوں کی تمام جہتوں کو سمجھ سکا ہوں لیکن ایک طالب علم کی حیثیت سے جو کچھ محسوس کیا اسے قلم بند کرنے کی کوشش کی ہے
افسانہ جب اپنے عہد کے دکھ، الجھن اور سوالات کو اپنے اندر سمو لے تو وہ محض تفریح یا کہانی نہیں رہتا بلکہ معاشرے کا آئینہ بن جاتا ہے۔ ڈاکٹر سید زبیر شاہ کا افسانوی مجموعہ "شوگر ڈیڈی” اسی نوعیت کا مجموعہ ہے جس میں انسان کی داخلی کشمکش، سماجی جبر، مذہبی رویے، شناخت کا بحران، محبت کی محرومیاں، ہجرت کا کرب، جدید زندگی کی بےحسی اور جنگ کے اثرات مختلف زاویوں سے سامنے آتے ہیں۔
اس مجموعے کے افسانوں کا مطالعہ کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ مصنف کا اصل موضوع کوئی ایک کردار یا ایک واقعہ نہیں بلکہ خود انسان ہے۔ وہ انسان جو معاشرے کے بنائے ہوئے دائروں میں قید ہے جو اپنی اصل شناخت چھپانے پر مجبور ہے، جو اپنی خواہشوں سے خوفزدہ ہے جو دوسروں کے درمیان رہتے ہوئے بھی تنہا ہے اور جو مسلسل اپنے وجود کا مطلب تلاش کر رہا ہے۔
خطوط میں لپٹی کہانی میں مصنف شناخت کے بحران کو موضوع بناتا ہے۔ ایک ایسا کردار جو خود کو مختلف ناموں اور حوالوں میں تلاش کرتا ہے، دراصل اس انسان کی نمائندگی کرتا ہے جو اپنی اصل پہچان سے دور ہو چکا ہے۔ یہ افسانہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ہم واقعی وہی ہیں جو دنیا ہمیں سمجھتی ہے یا ہمارے اندر کوئی اور شخصیت بھی زندہ ہوتی ہے جسے ہم خود بھی تسلیم نہیں کر پاتے؟
وجود کی قبر انسانی خواہشات اور سماجی پابندیوں کے تصادم کی کہانی ہے۔ مصنف اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں بعض جذبات اور خواہشات کو اتنا دبا دیا جاتا ہے کہ وہ ایک نفسیاتی عذاب کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس افسانے میں فرد کے اندر چلنے والی خاموش جنگ کو بڑی شدت سے پیش کیا گیا ہے۔
شوگر ڈیڈی معاشرے کے ایک ایسے موضوع کو چھیڑتا ہے جس پر عموماً خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ یہ افسانہ محبت، جنس، شناخت اور قبولیت کے سوالات اٹھاتا ہے۔ مصنف کسی کردار کو مجرم یا ہیرو بنانے کے بجائے اس کے اندر کے انسان کو سامنے لاتا ہے اور قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہر مختلف انسان واقعی سماج کے طے کردہ پیمانوں سے ناپا جا سکتا ہے؟
بےحسی کے غبار میں سانس لیتی زندگی مذہبی طبقے کے گرد بنائی گئی رومانوی تصویروں اور عملی زندگی کی تلخ حقیقتوں کے درمیان موجود فاصلے کو بےنقاب کرتا ہے۔ قاری خیر البشر کی زندگی کے ذریعے مصنف یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ہم واقعی مذہبی لوگوں کی خدمت اور قربانیوں کی قدر کرتے ہیں یا صرف ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں؟ جب آزمائش آتی ہے تو ہمارا رویہ ہمدردی کا ہوتا ہے یا تماشائی کا؟
زندہ لاش ہجرت، شناخت اور جڑوں سے کٹ جانے کے مسئلے پر ایک اہم افسانہ ہے۔ بیرونِ ملک جا کر معاشی کامیابی حاصل کرنے والا انسان بھی اپنی تہذیبی اور جذباتی جڑوں سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہو سکتا۔ مصنف یہ دکھاتا ہے کہ بعض اوقات انسان ترقی کی دوڑ میں اپنی روح کھو بیٹھتا ہے۔
گمشدہ جدید دور کی سب سے بڑی سماجی بیماری یعنی تنہائی اور خاندانی بکھراؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد ایک دوسرے سے دور ہو چکے ہیں۔ موبائل، اسکرینیں اور مصروفیات نے مکالمے، تعلق اور قربت کی جگہ لے لی ہے۔ یہ افسانہ جدید زندگی کی اس خاموش تباہی کی طرف توجہ دلاتا ہے جسے اکثر ترقی کا نام دیا جاتا ہے۔
"معنی بےمعنی” فکری اور تہذیبی انتشار کا افسانہ ہے۔ اس میں مذہب، سیاست، جنگ، نظریات اور جدید دنیا کے بحرانوں کے درمیان انسان کی بےبسی نمایاں ہوتی ہے۔ مصنف یہ سوال اٹھاتا ہے کہ اگر ہر طرف شور ہو اور ہر شخص اپنے سچ کا دعوے دار ہو تو اصل سچ کہاں تلاش کیا جائے؟
"لذت ناتمام” قبائلی دشمنیوں، انتقام اور وراثت میں ملنے والی نفرتوں پر ایک گہرا تبصرہ ہے۔ افسانہ یہ بتاتا ہے کہ بعض معاشروں میں انسان زندہ کم اور اپنے آباؤ اجداد کی دشمنیوں کا بوجھ زیادہ اٹھاتا ہے۔
"قبر” والدین سے محبت یاد اور جذباتی وابستگی کا افسانہ ہے لیکن اس کے اندر یہ پیغام بھی موجود ہے کہ جدید زندگی کی دوڑ میں انسان اپنے اصل رشتوں کی اہمیت کو فراموش کرتا جا رہا ہے۔
"فینٹم پین” جنگ اور تشدد کے اثرات پر لکھا گیا نہایت مؤثر افسانہ ہے۔ یہاں ایک معصوم بچی کی کٹی ہوئی ٹانگ دراصل پورے معاشرے کے زخم کی علامت بن جاتی ہے۔ مصنف یہ دکھاتا ہے کہ جنگ صرف جسموں کو زخمی نہیں کرتی بلکہ روحوں کو بھی معذور کر دیتی ہے بعض درد ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود ختم نہیں ہوتے۔
مجموعی طور پر "شوگر ڈیڈی” ایک ایسے معاشرے کی تصویر پیش کرتا ہے جو بظاہر زندہ ہے مگر اندر سے مختلف قسم کے بحرانوں کا شکار ہے کہیں شناخت کا مسئلہ ہے کہیں محبت کی محرومی ہے کہیں مذہبی اور سماجی منافقت ہے کہیں ہجرت کا کرب ہے کہیں جدید زندگی کی تنہائی ہے اور کہیں جنگ کے زخم ہیں۔
ڈاکٹر سید زبیر شاہ کا کمال یہ ہے کہ وہ ان مسائل کو براہِ راست نعرے یا وعظ کی صورت میں پیش نہیں کرتے بلکہ کرداروں کی زندگیوں، ان کی خاموشیوں، ان کے دکھوں اور ان کے سوالوں کے ذریعے قاری کے سامنے رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ افسانے محض پڑھے نہیں جاتے بلکہ محسوس کیے جاتے ہیں
"شوگر ڈیڈی” دراصل ان تمام انسانوں کی کہانی ہے جو اپنے اپنے اندر کوئی نہ کوئی زخم لیے پھر رہے ہیں، اور شاید یہی اس مجموعے کا سب سے بڑا پیغام ہے کہ انسان کو سمجھنے سے پہلے اس کے دکھ کو سمجھنا ضروری ہے۔