حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں
حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک ، میں حاضر ہوں
بے شک تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے ہی لیے ہیں، اور بادشاہت بھی تیری ہی ہے
تیرا کوئی شریک نہیں۔
حج کا سفر بلاشبہ ایک مبارک اور منفرد سفر ہے۔ مشاہدہ اور عملی تجربہ کہتا ہے کہ یہ بلاوے کی بات ہے۔ کوئی متقی ہو یا گناہ گار، اس کی اجازت کے بغیر کوئی حاضر نہیں ہو سکتا۔
الہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
تیرے سوا کوئی در نہیں، تجھی سے مانگنے آیا ہو ں
یہ سفر مبارک درویش وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کے ساتھ کرنے کی سعادت نصیب ہو ئی۔ لوگ وزیروں کے ساتھ اس لیے سفر کرتے ہیں کہ ان کو پروٹول ملے گا۔ سہولیات ملیں گیں۔ بہت سارے احباب کی خواہش تھی کہ وہ وہاں قیام کریں جہاں وزیر صاحب رہائش پذیر ہیں۔ متحدہ امارات سے ہمارے تعلق دار ربیعہ فیملی کا خیال تھا
کہ وزیر مکہ ٹاور میں قیام پذیر ہوں گے، اور ان کو بھی
رکھا جائے لیکن ان کو یہ سن کر مایوسی ہوئی کہ
وزیر عزیزیہ کی ایل عام عمارت قیام پذیر تھے جہاں پوری عمارت میں پاکستان کے عام حاجی مقیم تھے۔پارلیمانی سیکرٹری سردار شمشیر مزاری،
سینیٹر عبدالقادر، عبدالغفار ڈوگر، ملک ندیم، سردار مشتاق، اظہر الاسلام، شرجیل بھائی، ای ڈی نیوٹیک عامر جان ، ممبران قومی اسمبلی عثمان اویسی، میاں خان بگٹی، قاری محبوب الرحمن،اور بہت سارے عشاق کے ہمراہ لبیک کے ترانوں کے ساتھ سفر حج بھی ایک دلفریب نظارہ تھا۔ سردار محمد یوسف نے یہاں بھی آرام کرنے کی بجائے لوگوں سے ملنا مناسب سمجھا، جب تک تھک نہ گئے چلتے رہے چلتے رہے۔ پروٹول کے متلاشی ساتھی یہاں بھی مایوس ہو گئے، یہاں بھی وہی خیمہ تھا جس میں پاکستان کے عام حاجی بھی لبیک کے ترانے بآواز بلند پکار رہے تھے۔ ہر گروپ کو ایک ناظم ملا تھا، ہمارے ساتھ طیب تھے۔ اس کے سوا حج مشن کاکوئی عملہ پروٹوکول کی بجائے عام حاجیوں کی خدمت میں مصروف عمل تھا۔
عرفات کا تاریخی خطبہ مسجد نبوی ﷺ کے امام شیخ ڈاکٹر علی عبدالرحمن الحذیفی، جن سے ملنے کا شرف ہمیں حاصل ہے، انھوں نے دیا۔
میدان عرفات کی سفید چادروں میں لپٹے لاکھوں حجاج کے سامنے امام مسجد نبوی نے خطبہ دیتے ہوئے امت کو یاد دلایا کہ حج صرف جسم کی مشقت نہیں، روح کی صفائی ہے۔ فرمایا: "تقویٰ اختیار کرو، اسی میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے”۔
شیخ نے کہا کہ یہاں عرفات میں کوئی عرب نہیں، کوئی عجمی نہیں، کوئی امیر نہیں، کوئی غریب نہیں۔ احرام کی دو چادریں دنیا کو بتا دیتی ہیں کہ اللہ کے ہاں برتری صرف تقویٰ سے ہے۔ اسی لیے فرقہ واریت، لسانی تعصب اور سیاسی نعروں کو حج کے مقدس صحن سے دور رکھنا ہوگا۔
خطبے کے اختتام پر فلسطین کے مظلوم بچوں کے لیے آہ بھری گئی اور دعا کی گئی کہ "یا اللہ! تو ظالموں کو ان کے ظلم سمیت غرق کر دے اور مظلوموں کی مدد فرما”۔
پیغام ایک تھا: اگر عرفات کا اتحاد ہم گھر لے جائیں، تو امت کے ٹوٹے دل بھی جڑ سکتے ہیں۔
عرفات میں بھی سردار محمد یوسف نےمختلف خیموں میں جا کر عازمین حج سے ملاقاتیں کیں اور ان کی خیریت دریافت کی۔
مزدلفہ کی رات بھی عجیب ہے۔ نرم بچھونوں پر سونے والے ، دنیا کے عظیم رہنماء، اپنے اپنے ملکوں کی قیادت کرنے والے یہاں کھلے آسمان تلے کھردری زمین پر اپنے اللہ کو پکار رہے تھے اور شکر ادا کر رہے تھے۔ ڈی جی حج یا کسی عملہ کی بجائے گوجرانوالہ کے ہمارے دوست چوہدری خرم افتخار نے کمال یہ کیا کہ منی اور مزدلفہ میں بہترین کھانے کا اہتمام کر کے بہت ثواب کمایا۔
۔سعودی اعداد و شمار کے مطابق اس سال 1707301 مسلمانوں کو یہ عظیم الشان سعادت نصیب ہوئی۔بیرون ممالک سے 1546655جبکہ سعودی عرب سے 160646 حاجیوں کو یہ سعادت ملی۔ جن میں مقامی سعودی اور یہاں مقیم غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ صنفی تقسیم بھی بہت دلچسپ رہی جس کے مطابق مرد اور خواتین قریب قریب برابر رہے۔ مرد 894396,جبکہ خواتین 813905 تھیں۔
دنیا کے ایک سو اسی ممالک کے مسلمان حاجیوں کا ترانہ اپنے لبوں پر جاری رکھتے ہوئے اس سعادت سے سرفراز ہوئے۔
سعودی عرب کے فرماں راو شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد سمو الامیر محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی قیادت میں حکومت رشیدہ نے اپنے تمام وسائل اس آپریشن کے لیے بروئے کار لائے۔ ولی عہد جو کہ وزیراعظم ہیں براہ راست اس آپریشن کی نگرانی میں مصروف عمل رہے۔ ایک لاکھ کے قریب سیکورٹی فورسز کے جوانوں نے سخت ترین موسم کے باوجود حاجیوں کی بہترین انداز اوراعلی اخلاق کے ساتھ رہنمائی کی۔
پاکستان سے ایک لاکھ اسی ہزار کے قریب عازمین نے فریضہ حج ادا کیا۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کا موجودہ دور حکومت میں یہ دوسرا جبکہ مجموعی طور پر ساتواں حج تھا۔ وزیر مذہبی امور نے رواں برس کے حج انتظامات کے لیے سعودی عرب کے تین دورے کیے۔ اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ پاکستان کا شمار ان دو تین ممالک میں ہوتا ہے جن کے حاجی سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ اس سال سرکاری سطح پر ایک لاکھ بیس ہزار عازمین نے حج کیا۔ اتنی بڑی تعداد میں حاجیوں کا انتظام کر نا بہر حال ایک مشکل امر ہے۔
حج 2026 کے دوران بہترین کوآرڈینیشن کا "لبیتم ایکسی لینس”ایوارڈ ملا ۔ سیکرٹری مذہبی امور ابرار مرزا،
ڈی جی حج، عبدالوہاب سومرو،
ڈائریکٹر عارف اسلم راو ، وزارت مذہبی امور اور حج مشن کے عملے نے مستعدی کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دیے۔
جبکہ پرائیوٹ حج اسکیم کو تین ایوارڈ ملے۔ روٹ ٹو مکہ پراجیکٹ رواں سال لاہور سے بھی شروع کیا گیا جس کی وجہ سے اسی فیصد عازمین حج اس سہولت سے مستفید ہوئے۔ مدینہ منورہ میں فائیو اسٹار سے ون اسٹار تک بہترین ہوٹل حاصل کیے گئے تھے۔ 146 شدید بیمار اور ضعیف حجاج کو وقوف عرفات اور طواف زیارت سمیت دیگر مناسک ادا کروائے گئے۔ اس سلسلہ میں سعودی جرمن ہسپتال، سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کی حج رضاکار تنظیم اور حج میڈیکل مشن کا تعاون مثالی رہا۔ سعودی سفیر جناب نواف بن سعید المالکی کا ویزوں کے اجراء سے ہر عمل تک تعاون مثالی رہا۔ جناب مالکی نے عملی طور پر ثابت کیا کہ وہ صرف سعودی عرب نہیں کہ پاکستان کے بھی سفیر ہیں۔ اگر کسی اعلی عہدیدار کو آپ کوئی کام بتا دیں تو وہ دوبارہ فون نہیں سکتا۔ نواف صاحب عام حالت میں شاید فون نہ سن سکیں لیکن جب آپ ان کو کوئی کام بتا دیں تو وہ نہ صرف فون سنیں گے بلکہ خود کال کریں گے۔
گزشتہ سال ہر گروپ کے اوپر ایک ناظم مقرر کیا گیا تھا، چند ایک کے سوا سب کی کارکردگی اچھی رہی۔ تاہم اس پر مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
کھانے کے حوالے سے لوگوں نے اطمینان کا اظہار کیا، ہمارے ہمسایہ ملک نے اس دفعہ کھانے کا بندوبست نہیں کیا جس کی وجہ سے ان کے حاجی بہت زیادہ پریشان رہے اور اس کا اظہار بھی کرتے رہے۔ سرکاری حج کے اچھا ہونے کی وجہ سے بہت سارے وہ عازمین جو امیر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں انھوں نے بھی اس سال کثیر تعداد میں سرکاری حج اسکیم سے استفادہ حاصل کیا۔ کھانوں میں کافی تنوع تھا جو عام حاجی کے لیے اعلی درجے کا عامل تھا۔ لیکن شاید وہ امیر طبقے کے مطابق پھر بھی نہ ہوئے ہوں۔
وزیر مذہبی امور کے لیے یہ چیلنج ہے کہ سعودی وزارت حج نے اگلے حج کی پالیسی کا اعلان کر دیا ہے۔ اور تمام مراحل کے لیے اوقات کار بھی متعین کر دیے ہیں۔ سردار محمد یوسف نے اعلان کیا ہے کہ حج پالیسی فوری منظور کے لیے پیش کی جائے گی اور جو لوگ حج پر جانا چاہتے ہیں وہ اپنے پاسپورٹ بنو لیں۔
انتظامات کو مزید اعلی و ارفع کرنے کے لیے ازحد ضروری ہے کہ پاکستان کا حج مشن سو فیصد وزارت مذہبی امور کے ماتحت ہو، وزارت مذہبی امور اور حج مشن ایک پیج پر ہوں، آپس میں مکمل ہم آہنگی ہو تو پاکستان کے حج انتظامات پوری دنیا کے ممالک میں نمبر ون ہو سکتے ہیں۔