فالوورز کی دوڑ میں کھوئی ہوئی شناخت

گزشتہ چند برسوں میں سوشل میڈیا نے ہماری زندگیوں کو جس طرح بدل دیا ہے، اس میں سب سے نمایاں کردار “انفلوئنسر کلچر” کا ہے۔ آج ہر دوسرا شخص خود کو انفلوئنسر کہلانا چاہتا ہے، ہر کوئی وائرل ہونے کی دوڑ میں شامل ہے، اور ہر لمحہ اس کوشش میں گزرتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اسکرین پر جگہ بن جائے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ کلچر واقعی معاشرے کے لیے مثبت ہے یا آہستہ آہستہ ہمیں ایک غیر حقیقی دنیا میں دھکیل رہا ہے؟

انفلوئنسر کلچر کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اس میں اکثر وہی چیزیں نمایاں کی جاتی ہیں جو حقیقت میں عام زندگی کا حصہ نہیں ہوتیں۔ مہنگے برانڈز، لگژری لائف اسٹائل، مہنگے سفر، اور ایک “پرفیکٹ” زندگی کا تاثر ، یہ سب مل کر ایک ایسا مصنوعی معیار بنا دیتے ہیں جو عام انسان کی پہنچ سے باہر ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دیکھنے والا اپنی اصل زندگی کو کم تر سمجھنے لگتا ہے۔

یہی وہ جگہ ہے جہاں مسئلہ صرف مواد کا نہیں رہتا بلکہ ذہنی صحت تک پہنچ جاتا ہے۔ نوجوان نسل، خاص طور پر Gen Z، اس کلچر سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ آج کل وائرل ہونے کی خواہش نے معیار کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کوئی بھی شخص، کسی بھی طرح کا مواد بنا کر، صرف ویوز اور فالوورز کی بنیاد پر خود کو انفلوئنسر کہلانے لگتا ہے۔ مگر حقیقی معنوں میں انفلوئنس کرنا صرف مقبولیت نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ اصل انفلوئنسر وہ ہوتا ہے جو لوگوں کو بہتر سوچ، بہتر فیصلوں اور بہتر زندگی کی طرف لے کر جائے — نہ کہ صرف دکھاوے اور مقابلے کی طرف۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ اس کلچر میں مواد کا معیار اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے۔ مثبت رہنمائی، تعلیم، ذہنی صحت، یا معاشرتی بہتری جیسے موضوعات کی جگہ زیادہ تر ایسا مواد لے لیتا ہے جو وقتی تفریح یا دکھاوے پر مبنی ہوتا ہے۔ اس سے نہ صرف معاشرتی شعور کمزور ہوتا ہے بلکہ ایک سطحی سوچ بھی پروان چڑھتی ہے۔

اگر ہم گہرائی میں دیکھیں تو یہ مسئلہ صرف انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ہے۔ پلیٹ فارمز کا الگورتھم بھی اسی مواد کو زیادہ پروموٹ کرتا ہے جو زیادہ engagement لاتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی غیر حقیقی یا غیر تعمیری کیوں نہ ہو۔ یوں ایک ایسا نظام بن جاتا ہے جو حقیقت سے زیادہ “تاثر” کو فروغ دیتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم انفلوئنسر کلچر کو مکمل طور پر رد نہیں کریں بلکہ اسے درست سمت دیں۔ انفلوئنسرز کو اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہیے کہ ان کا اثر نوجوانوں پر کس حد تک جاتا ہے۔ ساتھ ہی صارفین کو بھی یہ شعور ہونا چاہیے کہ وہ ہر دکھائی جانے والی چیز کو حقیقت نہ سمجھیں اور اپنی زندگی کا موازنہ کسی فلٹر شدہ اسکرین سے نہ کریں۔

اگر انفلوئنس واقعی اثر ڈالنے کا نام ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ ہم کس قسم کا اثر پیدا کر رہے ہیں . تعمیر کا یا تخریب کا؟

کیونکہ آخر میں معاشرے وہی ترقی کرتے ہیں جہاں اثر صرف نظر نہیں آتا بلکہ سوچ بھی بدلتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے