محبت زخم بھی دیتی ہے، مرہم بھی عطا کرتی ہے،

محبت زخم بھی دیتی ہے، مرہم بھی عطا کرتی ہے،
بے معنی حیات کو اک نیا مفہوم بھی دیا کرتی ہے۔
بجھتے ہوئے انگاروں میں پھر آگ جگائی،
خزاں رسیدہ روح میں اک نئی بہار بسائی۔
کیسے کیوں یہ بے تاب آگ لگی تھی،
کیسے مردہ دل میں ایک آس جاگی تھی۔
مگر ایک سچ، جو اٹل ہے یقیں کی طرح
مجھے محبت ہوئی ہے زمیں کی طرح
میرا کوئی بیدار لمحہ تیرے لمس سے خالی نہیں،
تیری یاد کے بغیر کوئی گھڑی خالی نہیں
خوابوں میں بھی، جہاں خاموش ندیاں بہتی ہیں،
جہاں لفظوں سے سے آگے باتیں ہوتی ہیں۔
شاید ، دل کو کھول کر میں نے کوئی خطا کی ہے،
بس اس خاموشی کو ٹھکرایا جو ایک ریا کاری ہے۔
ہمارے درمیان وقت کا اک سمندر حائل ہے،
ایک مدت، تیری عمر برابر بیچ میں حائل ہے
تجھ پہ عمر کی بہار ہے،

اور میرے خواب فرسودہ آسمانوں تلے تھک کر بھاگتے ہیں۔
پھر بھی میں خواب دیکھتا ہوں اگرچہ عقل اسے فریب کہے،
کہ امید ہی ہے جو میرے دکھ کو جینے کا نصیب کہے۔
جس دن خواب دیکھنا چھوڑ دوں گا، میرا حق بھی چھن جائے گا،
ہوا میں سانس لینا، روشنی میں کھڑا رہنا بھی رک جائے گا۔
تو وہ چوٹی ہے جہاں میری تمنائیں چڑھتی ہیں،
تو وہ مقدس دھڑکن ہے جو میری ساعتوں کو تقدیس دیتی ہے۔
نہ فقط بیٹا، نہ محض رفیقِ کار ہے تو،
میرے ذہن و روح کا منتخب ہمسفر ہے تو۔
تیرے ساتھ وقت ضائع نہیں ہوتا، نکھر جاتا ہے،
جیسے تلاش کرنے والے ذہن میں کوئی سچ اتر جاتا ہے۔
لوگ اسے دیوانگی کہیں یا فن کا نام دے دیں،
مگر خواب ہی دل کو زندہ رکھنے والا خون ہیں۔

ناممکن کو چھوڑ دینا، بلندیوں سے دستبردار ہونا،
محبت کی اصل روح سے انکار کرنے کے برابر ہونا۔
میں ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ دنوں کی راہ گزارتا ہوں،
اک خاموش درد لیے معنی کی تلاش میں مارتا ہوں۔
اسی پیاس میں شاید بہت آگے نکل آیا ہوں،
مگر تیری احتیاط اور پوشیدہ بوجھ کو بھی پایا ہوں۔
میں نے تیرے الفاظ پڑھے—نرم بھی تھے اور کڑے بھی،
اندھیروں میں لرزتے ہوئے کسی سچ کے کھڑے بھی۔
تو نے ان زندگیوں کی بات کی جو مکمل ہماری نہیں،
ان راستوں کی جو ہم نے چنے نہیں، مگر ہماری ہی سہی۔
ہم دوسروں کی خواہش کے مطابق بنتے چلے جاتے ہیں،
اور اپنے ہونے کی خاموش آزادی کھو جاتے ہیں۔

میں نے بھی وہ بے نام زنجیریں پہنی ہیں،
طاقت کی مسکراہٹ میں کتنی اذیتیں سہی ہیں۔
جذبہ ایک بھول بھلیاں ہے، جس کا کوئی رہنما ستارہ نہیں،
اور محبت وہ زخم ہے جس کا کوئی کنارا نہیں۔
ہجوموں میں بھیس بدل کر پھرتا رہتا ہوں،
پھر بھی تیری ہلالی آنکھوں میں سچ ڈھونڈتا رہتا ہوں۔
سو اب میری یہ سنجیدہ قسم سن لے:
مجھے لگتا ہے میری محبت نے تجھے بوجھ دیا ہے۔
میں اسے دل سے نکالنے کا حکم نہیں دے سکتا،
یہ دل میں بہت گہرا گھر بنا چکی ہے۔
مگر میں ہٹ جاؤں گا، اگرچہ یہ اذیت ناک ہوگا،
اور تجھے وہ فاصلہ دوں گا جو تیرا جہان چاہتا ہوگا۔
نہ تیری راہ میں آؤں گا، نہ تیرا نام لوں گا،
نہ وہاں کھڑا ہوں گا جہاں میرا وجود تجھے شرمندہ کرے گا۔
میں کبھی اوڈن کی آنکھ تھا، کبھی قطبی ستارہ،
مگر اپنی بلندی سے گر پڑا بہت دور اور دوبارہ۔
میری قدر گھٹی ہے مگر میں جھکا نہیں،
رد تو ہوا ہوں مگر بکھرا نہیں۔

شاید رسوا ہوا ہوں، مگر فنا نہیں،
میری روح ابھی تک شکست سے آشنا نہیں۔
میں نے وقت اور مکان میں جو کر سکا، کیا،
اور جو قسمت میں ہے اسے درد کے ساتھ قبول کیا۔
میں خود کو تیری حسین نگاہوں سے دور رکھوں گا،
اگرچہ محبت کی آگ میں ہر دم جلوں گا۔
تیری محبت اب جنون کی حدوں تک جا پہنچی ہے،
میرے اندر اک دیوانہ شعلہ بن کر رہ گئی ہے۔
میں تاریک سمندر میں ڈوب جاؤں گا، اب مزید چل نہیں سکتا،
گہرائیوں میں گم ہوں، اب ساحل تک پہنچ نہیں سکتا۔
میں غلط تھا، میں تنہا ہوں، مکمل تنہا،
اک ایسا بے تاج بادشاہ جس نے کھو دیا اپنا تخت و تاج سارا۔
بس ایک آخری التجا ہے جو تجھ سے کرتا ہوں،
وہی جو ہمیشہ خاموشی میں دہراتا ہوں:
دو پھول اور چند آنسو لے کر آنا،
اس مٹی کے ٹیلے پر جہاں میری عمریں سوئی ہوں گی۔
پھولوں پر آہستہ آہستہ آنسو بہا دینا،
اور دونوں طرف انہیں محبت سے لگا دینا۔

شاید اس روح کو سکون مل جائے جسے کوئی جان نہ سکا،
اور سکون کے ساتھ وہ خاموشی میں کہیں کھو جائے۔
یہ جلاوطنی جو میں نے چنی ہے، مجھے سب سے زیادہ زخمی کرے گی،
مگر دھوپ ہو یا برف، میں خاموشی سے اسے جھیلوں گا۔
نہ شکریے کی ضرورت ہے، نہ کسی وعدے کی،
اور اس محبت کو دنیا کی نگاہوں سے ہمیشہ چھپا رکھوں گا۔
جب تک سانس باقی ہے، جب تک نگاہ میں روشنی ہے،
میں تیری عقیدت میں اسی طرح قائم رہوں گا۔
جیسے کوئی عابد اپنے معبود کے حضور سرنگوں رہے،
ویسے ہی میرا دل تیرے نام کی خاموش عبادت کرے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے