پاکستان کا جیو اکانومک مقدمہ

عصرِ رواں کی ابجد اب جغرافیائی حدود اور عسکری فتوحات کے روایتی ابواب سے آزاد ہو کر ایک ایسے تغیرِ کلی کے دوراہے پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں مادی وجود سے زیادہ غیر مادی مظاہر معیشتوں کے عروج و زوال کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ وہ عہدِ رفتہ تاریخ کے تہ خانوں میں دفن ہو چکا جب بادبانوں کی قوت سے لہروں کا سینہ چاک کرتے بحری جہاز، سونے، چاندی اور مسالوں کی خوشبو کے تعاقب میں نئی منڈیوں کا سراغ لگایا کرتے تھے، اور نہ ہی اب وہ وقت باقی رہا ہے جب ارضِ پاک یا کسی بھی خطے کے بطن سے ابلتا ہوا سیاہ سونا اور خام مال کسی قوم کی حتمی سیادت کا پروانہ بن سکے۔ آج کا عالمی سرمایہ ایک سحر انگیز، چوکنا اور حد درجہ حساس مسافر ہے، جس کے ایک ہاتھ میں عالمگیر تغیرات کا میزان ہے اور دوسرے میں بقائے باہمی اور شفافیت کا ابدی منشور۔ یہ نیا معاشی مسافر نقشوں پر کھینچی گئی لکیروں یا زمین کی طبعی بساط کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ ریاستوں کے اندرونی مزاج، قانون کے جلال اور پالیسیوں کے تسلسل کا غائر مطالعہ کرتا ہے۔ موجودہ بساطِ عالم پر جہاں مصنوعی ذہانت کی بجلیاں انسانی معیشت کی رفتار کو سحر انگیز مگر بے رحم تغیر دے رہی ہیں، جہاں ماحولیاتی جبر نے ترقی کے روایتی پیمانوں کو جھلس کر رکھ دیا ہے، اور جہاں عالمی سپلائی چین ایک نئے جغرافیائی مسکن کی تلاش میں سرگرداں ہے، وہاں پاکستان ایک ایسے قدیم، پُرشکوه مگر مقفل قلعے کی مانند دکھائی دیتا ہے جس کے کواڑ اب وسائل کی روایتی کنجی سے نہیں، بلکہ بین الاقوامی برادری کے "اعتماد” کی نایاب چابی سے ہی وا ہو سکتے ہیں۔

اگر اس اچھوتے اور پیچیدہ معاشی منظرنامے کو ایک سیاسی اور فکری داستان کی صورت دی جائے، تو ارضِ پاکستان کا وجود ایک ایسے سحر انگیز، عبقری اور لامتناہی صلاحیتوں کے حامل نوجوان کی صورت ابھرتا ہے جس کے بازوؤں میں بجلیاں تو کوند رہی ہیں مگر اس کے اپنے ہی قدموں کی الجھنیں، داخلی تضادات اور فکری انتشار اس کی رفتارِ گام کو سست کر رہے ہیں۔ ہماری دھرتی کے سینے میں مدفون تانبے، سونے اور نایاب معدنیات کے وسیع ذخائر ایک طلسماتی اور سحر زدہ خزانے کی طرح ہیں، ہماری متحرک اور بپھری ہوئی نوجوان آبادی ایک بے چین اور صرصر صفت لشکر کی صورت کھڑی ہے، اور ہمارا جغرافیائی محلِ وقوع ایک ایسے حیاتیاتی اور تزویراتی پل کا استعارہ ہے جو بیک وقت مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کی تقدیروں کو ایک ہی لڑی میں پرو سکتا ہے۔ مگر اس قومی داستان کا المیہ تب گہرا ہوتا ہے جب کوئی غیر ملکی سرمایہ کار اس کتاب کے اوراق پلٹتا ہے، جہاں اسے چند ہی صفحات کے بعد پالیسیوں کے تضادات کی دھند، سرخ فیتے کی فصیلیں، اور ریگولیٹری ابہام کے تاریک سائے دست و گریباں دکھائی دیتے ہیں۔ معاصر عمرانیات اور جدید معاشیات کی لغت میں ایسی ادارہ جاتی غیر یقینی صورتحال محض ایک انتظامی سقم یا لغزش نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا جابرانہ اور پوشیدہ ٹیکس ہے جسے کوئی بھی ہوشمند معاشی کاروان ادا کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ عالمی سرمایہ صرف انھی ساحلوں پر لنگر انداز ہوتا ہے جہاں اقتدار کے ایوانوں میں چہرے بدلنے سے ریاست کے قبلے نہیں بدلتے، جہاں معاہدے محض کاغذی پرزے نہیں بلکہ قومی وقار کا حلف نامہ ہوتے ہیں، اور جہاں عدل کا نظام سیاسی موسموں کے تغیر و تبدل سے بے نیاز ہو کر پائیداری کی ضمانت بنتا ہے۔

چنانچہ، پاکستان کا اصل قضیہ مادی وسائل کی قلت یا خاک کی بے برکتی ہرگز نہیں، بلکہ اپنے "اعتماد کے سرمائے” (Trust Capital) کو جلا بخشنا ہے، کیونکہ آج کی منڈی کا مسافر منڈی کی رونق اور منافع کی شرح دیکھنے سے پہلے ریاست کے رویے میں ٹھہراؤ اور متانت کا طالب ہوتا ہے۔ آنے والا کل صرف انھی قوموں کی تاریخ بنے گا جو اپنی انسانی آبادی کے ہجوم کو محض خام اعداد و شمار کی دلدل سے نکال کر علم، تخلیق، اور تکنیکی ہنر کی ایک فعال اور جدید ترین قوت میں تبدیل کرنے کا ہنر جانتی ہوں گی۔ ہماری یہ بپھری ہوئی نوجوان نسل اس ملک کی سب سے بڑی جیو اکانومک حکمتِ عملی بن سکتی ہے، بشرطیکہ ہم اس کے فکری دھارے کو مصنوعی ذہانت، زرعی ٹیکنالوجی، گرین انرجی، سیمی کنڈکٹر سپلائی چین، اور بائیو فارماسیوٹیکل جیسے مستقبل کے انقلابی شعبوں سے ہم آہنگ کر دیں۔

ہمیں اپنے خصوصی اقتصادی زونز کو کارخانوں کی روایتی بستیوں کے بجائے ایک ایسے مربوط "معاشی ماحولیاتی نظام” (Economic Ecosystem) میں ڈھالنا ہوگا جہاں سرمایہ کار کو زمین کے خطے کے ساتھ ساتھ سستی توانائی، تیز ترین ڈیجیٹل رابطہ کاری، اور عدالتی تحفظ کا پیکیج ایک ہی چھت تلے میسر ہو۔ اسی طرح، دیارِ غیر میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کو ترسیلاتِ زر کے روایتی بندھن سے آزاد کر کے قومی تعمیر کے فعال ستونوں میں تبدیل کرنا ہوگا، تاکہ وہ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور وینچر کیپٹل کے ذریعے وطنِ عزیز میں جدت کے نئے چراغ روشن کر سکیں، کیونکہ قوموں کی معاشی ترقی محض کاغذی نوٹوں کی فراوانی سے نہیں، بلکہ علم اور ادارہ جاتی بلوغت کے پائیدار امتزاج سے جنم لیتی ہے۔

پاکستان آج تاریخ کے ایک ایسے ہی فیصلہ کن اور اچھوتے موڑ پر ایستادہ ہے جہاں اس کا جغرافیہ اس کا سب سے بڑا حلیف بننے کو تیار ہے اور عالمی سیاست کی کروٹیں اس کے لیے نئے دریچے وا کر رہی ہیں، جہاں امریکہ، چین، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ متوازن اور باوقار تعلقات کی استواری اسے ایک ناگزیر معاشی سنگم کی حیثیت دلا سکتی ہے۔ مگر اس حسیں خواب کی حقیقی تعبیر کے لیے ریاست کو کم از کم ایک دہائی پر محیط ایک ایسے غیر متزلزل "میثاقِ معیشت” اور مستقل قومی حکمتِ عملی کی بنیاد رکھنی ہوگی جو حکومتوں کی تبدیلی سے سرِمو انحراف نہ کرے۔ ٹیکسوں کے نظام کی سہولت، معاہدوں کا تقدس، عدالتی نظام کی برق رفتاری اور حقیقی معنوں میں ون ونڈو آپریشن وہ ناگزیر ستون ہیں جن پر ملکی اور غیر ملکی سرمائے کی پائیدار عمارت استوار ہوتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سرمایہ کبھی کسی خاص سرحد کا اسیر یا کسی مخصوص جغرافیے کا محتاج نہیں رہا، وہ ہمیشہ سے صرف اور صرف "اعتماد کا مسافر” رہا ہے، اور وہ اسی مٹی کو اپنا مسکن بناتا ہے جہاں قانون کا جلال جاگ رہا ہو، جہاں پالیسیاں دور اندیش ہوں اور جہاں ریاست اپنے وعدوں کو اداروں کی صورت میں نبھانے کی سچی اہلیت رکھتی ہو۔ ہمارے پاس امکانات کا ایک بحرِ بے کراں موجود ہے، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اپنے ان لامتناہی وسائل کو استحکام کی ایک معتبر زبان عطا کر دیں، تاکہ عالمی سرمائے کا یہ چوکنا کارواں اس سرزمین سے محض گزرنے کے بجائے یہاں اپنے خیمے مستقل طور پر نصب کرنے کو ہی اپنی آخری اور بہترین منزل تصور کرے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے