سچ بھی تو سنو، فلاحِ بہبود کے نام پر نقاب میں چھپے چہرے

تیسرا حصہ
پوری رات میری آنکھوں سے نیند کوسوں دور رہی۔دل پر ایسی بے چینی طاری تھی کہ ہرگزرتا لمحہ صدیوں پر محیط محسوس ہو رہا تھا۔ رات کے تقریباً دو بجے میں اٹھ کر نوافل ادا کیے اور اللہ تعالیٰ کے حضور دستِ دعا بلند کیے۔اشک بار آنکھوں کے ساتھ گڑگڑا کر دعا مانگی کہ وہ میری فریاد ضرور سنے، میرے دل کا بوجھ ہلکا کرے، اے مالک مجھ پر میرے حال پر رحم کرے،میں بے بس ہو لیکن اپنا معاملہ تجھے سپرد کرتی ہو،تو ہی مدد فرما، پریشانیوں آسانیاں پیدا فرمائے۔

فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد کچھ دیر کے لیے بستر پر لیٹ تو گئی،مگر دل کی بے قراری میں ذرّہ برابر بھی کمی نہ آئی۔ذہن مسلسل انہی الجھنوں میں اُلجھا رہا۔ صبح ناشتے کے بغیر ہی بابا کے پاس روانہ ہو گئی۔ہم ان کے انتظار میں بیٹھے تھے کہ اتنے میں بابا جان کے چند جاننے والے بھی وہاں آ پہنچے۔

اسی دوران میری نظر کچھ فاصلے پر رکھی ہوئی ایک بینچ پر بیٹھی ایک نوجوان لڑکی پر جا ٹھہری۔وہ بار بار اپنی ٹانگیں ہلا رہی تھی، جیسے شدید درد کے باعث سکون سے بیٹھنا اس کے لیے ممکن نہ ہو۔کبھی اٹھ کر چند قدم چلتی اور پھر واپس آ کر اپنی جگہ بیٹھ جاتی،مگر اٹھنے اور بیٹھنے میں بھی اسے شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے،جنہیں وہ بار بار پونچھنے کی کوشش کرتی، مگر ہر بار ناکام رہتی۔

اس کے ہاتھوں پر جگہ جگہ زخموں کے نمایاں نشانات تھے،جبکہ انگلیوں پر گہرے زخم بن چکے تھے۔ بیشتر زخموں پر جما ہوا خون صاف دکھائی دے رہا تھا۔ وہ بار بار اپنے ہاتھ چھپانے کی کوشش کرتی،جیسے اپنے جسم کے ساتھ ساتھ اپنے دل کے زخم بھی دوسروں کی نگاہوں سے اوجھل رکھنا چاہتی ہو۔اس کی کیفیت دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ کسی ایسی اذیت سے گزر رہی ہو جس کا نہ کوئی اختتام تھا اور نہ ہی کوئی مرہم۔

اس کی حالت دیکھ کر میرا دل بھر آیا۔ میں خود کو مزید روک نہ سکی اور آہستہ آہستہ اس کے قریب جا کر بیٹھ گئی۔ ہمت جمع کرتے ہوئے نہایت نرمی سے اس سے پوچھا:
"بہن، کیا بات ہے؟ اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھیں، ان شاء اللہ سب بہتر ہو جائے گا۔”
میری بات سنتے ہی اس کی ہچکیاں مزید تیز ہو گئیں۔ یوں محسوس ہوا جیسے میرے ایک سوال نے اس کے دل کے وہ ناسور پھر سے تازہ کر دیے ہوں، جنہیں وہ بڑی مشکل سے اپنے سینے میں دفن کیے بیٹھی تھی۔چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے کانپتی ہوئی آواز میں کہنا شروع کیا:
"میں آپ کو کیا بتاؤں… میری ہی بلی مجھے میاؤں کہتی ہے۔

آج مجھے اپنے ہی فیصلوں پر افسوس ہوتا ہے، بلکہ اپنے آپ پر بھی غصہ آتا ہے۔جس کا میں نے ہر حال میں ساتھ دیا، جس کے لیے ہر مشکل میں ڈھال بن کر کھڑی رہی، آج وہی میرے خلاف حسد اور جلن کی آگ میں جل رہی ہے۔مجھے نیچا دکھانے کے لیے اس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ میرے مقام تک پہنچنے کے لیے اس نے اپنی پوری طاقت صرف کر دی، مگر آج بھی خالی ہاتھ ہے، اور شاید ہمیشہ خالی ہاتھ ہی رہے گی۔

نہ اسے والدین کی دعائیں نصیب ہوئیں،نہ بہن بھائیوں کی حقیقی محبت اور اپنائیت،اور نہ ہی معاشرے میں وہ عزت حاصل کر سکی جس کی ہر انسان خواہش رکھتا ہے۔جس ادارے میں وہ ملازمت کرتی رہی، وہاں بھی اس کے اپنے کردار اور اعمال ہی اس کی بدنامی کا سبب بنے۔ اس کی شہرت پر لگنے والا داغ ایسا ہے جو شاید عمر بھر بھی نہ دھل سکے۔

کسی کے عشق میں اس قدر مبتلا ہوئی کہ چھ سات برس تک اپنے ہی گھر والوں کو شرمندگی اور اذیت کے سوا کچھ نہ دے سکی۔ جس شخص پر وہ جان نچھاور کرتی تھی، اس سے ملنے کے لیے نہ وہ ہفتہ وار تعطیل کی پروا کرتی، نہ عید جیسے مقدس مواقع کی،اور نہ ہی کسی اور مناسبت کی۔

یہاں تک کہ اگر گھر میں کوئی بیمار ہوتا، گھریلو مسائل سر اٹھا لیتے، مہمان آ جاتے، یا بہن کے بیٹے کا انتقال بھی ہو جاتا، تب بھی وہ نہ تعزیت کے لیے جاتی اور نہ ہی فون پر تسلی کے دو بول کہنے کی زحمت کرتی۔وہ اپنی عشقیہ دنیا میں اس قدر کھو چکی تھی کہ اسے اپنے گھر والوں کے دکھ، تکلیف، احساسات اور ذمہ داریوں کا ذرّہ برابر احساس نہ رہا۔ اس کی اپنی خواہشات ہی اس کی پوری دنیا بن چکی تھیں، جبکہ اپنوں کے غم اس کے لیے بے معنی ہو کر رہ گئے تھے۔
جاری ہے۔۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے