حزبِ اختلاف کا پارلیمان کے اندر احتجاج اور سوال 70

پاکستان میں حزب مخالف کی جماعتوں نے پاناما لیکس کے حوالے سے وزیرِ اعظم کی طرف سے وضاحت کے معاملے پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس کے کارروائی کا بائیکاٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میاں نواز شریف بڑی دیر کے بعد ایوان میں آئے ہیں جبکہ حزب مخالف کی جماعتوں کا تو گھر ہی پارلیمنٹ ہے اور وہ اپنے گھر سے کیسے دور رہ سکتے ہیں؟‘
اُنھوں نے کہا وہ اب پارلیمنٹ کے اندر احتجاج کریں گے۔

سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ حزب مخالف کی طرف سے وزیر اعظم سے جو سوالات پوچھے گئے ہیں اُن کا جواب دینا ہوگا۔

[pullquote]سات سوال اب 70
[/pullquote]
دوسری جانب پارلیمنٹ میں موجود حزب مخالف کی جماعتوں نے پاناما لیکس میں وزیر اعظم کے بچوں کی آف شور کمپنیز اور اُن کے اثاثہ جات کے بارے میں پوچھے گئے سات سوالات کو پیر کو میاں نواز شریف کی تقریر کے بعد اب 70 سوالات میں تبدیل کردیا ہے۔
یہ سوالات حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے تیار کیے گئے ہیں جن کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا ہے۔
حزب مخالف کی طرف سے وزیر اعظم سے آٹھ مختلف معلامات میں 70 سوالات کیے گئے ہیں اور وزیر اعظم سے کہا گیا ہے کہ وہ ان سوالات کا تفصیلی جواب دیں۔
جن آٹھ معاملات میں وزیر اعظم سے 70 سوالات کیے گئے ہیں اُن میں یہ پوچھا گیا ہے کہ شریف فیملی نے لندن میں پارک لین میں جائیداد خریدنے کے لیے رقم بھجوانے کے لیے حوالہ اور ہنڈی کا استعمال کیا اور اس ضمن میں حوالہ ہنڈی کا کاروبار کرنے والے پشاور کے دو افراد نے بیانات بھی دیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ شریف فیملی لندن میں جائیداد خریدنے کے لیے پاکستانی کرنسی میں رقم بھجواتی تھی جنہیں بعد میں غیر ملکی کرنسی میں تبدیل کیا جاتا تھا۔

اس کے علاوہ ان معاملات میں یہ بھی وزیر اعظم سے وضاحت طلب کی گئی ہے کہ سنہ 1988 سے لے کر سنہ 1991تک شریف فیملی نے ساڑھے چودہ کرروڑ روپے کی رقم ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک بھجوائی تھی۔
حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے تیار کردہ سوالوں میں وزیر اعظم سے پوچھا گیا ہے کہ وہ اُن چھ آف شور کمپنیز کے بارے میں بتائیں جو شریف فیملی کی ملکیت ہیں۔
وزیر اعظم سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ لندن میں خریدی گئی جائیداد جن میں پارک لین میں واقع لگژری اپارٹمنٹ کن میں 16، 16 اے، 17 اور 17اے شامل ہیں کیا وہ بھی ان آف شور کمپنیز کی ملکیت ہے۔
حزب مخالف کی جماعتوں سے طرف سے وزیر اعظم سے اُن بےنامی جائیداد کے بارے میں بھی دریافت کیا گیا ہے جو اُن کے خاندان نے بیرون ملک بنائی ہیں جن کی مالیت اربوں روپے میں ہے۔
ان معاملات میں وزیر اعظم سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ میاں نواز شریف نے سنہ 1990 میں بطور وزیر اعظم فیصل بینک سے 3 کروڑ ڈالر کا قرضہ لیا اور قرضے کے حصول کے لیے میاں نواز شریف نے بطور وزیر اعظم اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے