کھانے کے اوقات کا راز: دماغ پر خاموش اثر

کیا روزمرہ کی ایک سادہ عادت کھانے کے اوقات کو محدود کرنا آپ کے دماغ پر بھی اثر ڈال سکتی ہے؟ ایک نئی تحقیق نے اسی سوال کا چونکا دینے والا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔

امریکی سوسائٹی فار نیوٹریشن کے سالانہ اجلاس نیوٹریشن 2026ء میں پیش کی گئی تحقیق کے مطابق اگر روزانہ کھانے کو صرف 8 سے 9 گھنٹے کے دورانیے تک محدود رکھا جائے تو دماغی کارکردگی میں بہتری آ سکتی ہے۔ اگرچہ یہ نتائج ابتدائی ہیں، مگر ماہرین کے لیے خاصی دلچسپی کا باعث بن گئے ہیں۔

رٹجرز یونیورسٹی کے محققین نے 50 سے 79 سال عمر کی خواتین پر چھ ماہ تک تحقیق کی۔ اس دوران تمام شرکا کو روزانہ تقریباً 500 کیلوریز کم لینے کی ہدایت دی گئی۔ نتائج کے مطابق جن خواتین نے اپنی غذا محدود وقت (اوسطاً 8.2 گھنٹے) میں مکمل کی، ان میں منصوبہ بندی اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت بہتر دیکھی گئی، جبکہ دیگر خواتین نے زیادہ طویل دورانیے (اوسطاً 12.3 گھنٹے) میں کھانا کھایا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں گروپوں کے وزن میں تقریباً یکساں کمی (تقریباً 15 پاؤنڈ) دیکھنے میں آئی، مگر دماغی کارکردگی کے کچھ پہلوؤں میں فرق نمایاں رہا۔ تاہم یادداشت، سیکھنے کی صلاحیت اور ردِعمل کی رفتار میں کوئی خاص تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس بہتری کی ممکنہ وجہ جسم کی حیاتیاتی گھڑی (سرکیڈین ردھم) میٹابولزم اور جسم میں ہونے والی اندرونی کیمیائی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔ تحقیق کی سربراہ پروفیسر سو شیپسز کا کہنا ہے کہ سونے سے چند گھنٹے قبل کھانا چھوڑ دینا اور کھانے کے دورانیے کو محدود رکھنا عمر کے ساتھ دماغی صلاحیت کو بہتر رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، اس کا مکمل سائنسی جائزہ نہیں لیا گیا اور شرکا کی تعداد بھی محدود تھی، اس لیے حتمی نتائج اخذ کرنے کے لیے مزید تحقیق ناگزیر ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے