’13 نکات مان لیں تو وزیراعظم کا نام حذف کرنے پر تیار ہیں‘

پاناما لیکس کی تحقیقات کے ضوابط کار طے کرنے والی پارلیمانی کمیٹی میں شامل حزب مخالف کے رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ اگر حکومت اپوزیشن کے 15 نکات میں سے 13 کو من وعن تسلیم کر لے تو وہ ان نکات میں سے وزیراعظم نواز شریف کا نام اور اُنھیں سعودی عرب میں ملنے والے تحائف کے نکات کو حذف کرنے کے لیے تیار ہیں۔

سپیکر قومی اسمبلی نے 24 مئی کو پاناما لیکس، کک بیکس اور سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرکے قرضے معاف کروانے کی تحقیقات کے بارے میں ضابطہ کار طے کرنے کے لیے 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی قائم کی ہے جسے ضوابطِ کار طے کرنے کے لیے دو ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے۔

اس کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے چھ چھ ارکان شامل ہیں اور اس کا تیسرا اجلاس جمعے کو منعقد ہوا ہے۔

حزب مخالف کی چھ رکنی ٹیم کے سربراہ بیرسٹر اعتزاز احسن نے جمعے کو اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن پاناما لیکس پر وزیراعظم سے تحقیقات کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے جو ضوابط کار کیے جائیں گے اُن میں اس معاملے کو بھی زیر بحث لایا جا رہا ہے کہ اگر کسی شخص کا نام پاناما لیکس میں نہیں ہے لیکن اُن کے بچوں یا اُن کے پوتا پوتی کے نام بھی شامل ہیں تو پھر بھی اس شخص کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر پاناما لیکس کی تحقیقات سے وزیراعظم میاں نواز شریف کا نام نکال بھی دیا جائے تو پھر بھی اُن کے خلاف تحقیقات ہوں گی کیونکہ پاناما لیکس میں اُن کے بچوں کے نام بھی آئے ہیں اور اُنھیں اپنے بچوں کی وجہ سے جواب دہ ہونا پڑے گا۔
Image copyright AFP

اعتزاز احسن نے کہا انھوں نے حکومت کو پیشکش کی ہے کہ ضوابطِ کار کے حوالے سے اگر اپوزیشن کے باقی نکات تسلیم کر لیے جائیں تو اسی صورت میں اپوزیشن وزیراعظم نواز شریف کا نام نکالنے کو تیار ہے لیکن اگر ان کے ٹی او آرز نہ مانے گئے تو پھر یہ پیشکش بھی نہیں رہےگی۔

پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جمعے کو پارٹی کا مشاورتی اجلاس طلب کیا ہے جس میں پانامالیکس کی تحقیقات میں وزیراعظم کا نام نکالنے سے متعلق حزب مخالف کی دیگر جماعتوں کی طرف سے کی جانے والی پیشکش کا جائزہ لیا جائے گا۔

دوسری جانب حکومت نے پارلیمانی کمیٹی میں شامل اپنے چھ ارکان میں سے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا نام واپس لے کر اُن کی جگہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کا نام شامل کیا ہے۔

اس سے پہلے زاہد حامد ضوابط کار طے کرنے والی کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون کی حیثیت سے شرکت کرتے تھے جس پر حزب مخالف کی جماعتوں نے اعتراض کیا تھا۔

خیال رہے کہ اپوزیشن کی طرف سے مطالبے کے بعد حکومت چیف جسٹس کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن بنانے پر تیار تو ہو گئی تھی لیکن اس معاملے پر تحقیقات کے لیے حکومت نے جو ضوابط کار تجویز کیے تھے ان کو حزب اختلاف کی جماعتوں نے یکسر مسترد کر دیا تھا۔

اس کے بعد پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی پاناما لیکس کے معاملے پر تحقیقات کے لیے حکومت کی طرف سے بھجوائے گئے ضوابط کار کے تحت عدالتی کمیشن تشکیل دینے سے معذوری ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ اس سلسلے میں جو ضوابطِ کار پیش کیے گئے ہیں وہ اتنے وسیع ہیں کہ بظاہر اس کے تحت کمیشن کو اپنی کارروائی مکمل کرنے میں کئی برس لگ جائیں گے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے