کیا افغان مہاجرین کو واپس چلا جانا چاہیے؟

ملا منصور کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد ہمارے ہاں یہ باعث شدت اختیار کرتے دکھائی دے رہی ہے کہ افغان مہاجرین پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ ہیں اُن کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے لہذا انہیں واپس افغانستان روانہ کر دینا چاہیے۔بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگتی نے دو قدم آگے بڑھ کر یہ بیان دیا کہ مہاجرین عزت سے واپس چلے جائیں ورنہ دھکے دے کہ نکالیںگے۔ اور ہاں انہوں نے یہ بیان واپس بھی لے لیا افغان مہاجرین کی پاکستان آمد روس کے افغانستان پر حملے کا طفری نتیجہ تھی آج ان کی پاکستان میں موجودگی دو تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ بیت گیا ہے۔
افغانستان کے حالات میں بہتری آنے کے بعد بہت سے مہاجرین واپس بھی چلے گئے لیکن اب بھی ان مہاجرین کی پاکستان میں موجود ہے۔

اس امر میں کوئی دو رائے نہیں کہ جو افغان مہاجرین دہشت گردی اور غیر سماجی سر گرمیوں میں ملوث ہیں انہیں ناصرف افغانستان کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ پاکستان کے مروجہ قوانین کے تحت قرار واقعی سزا بھی دینی چاہیے۔لیکن کیا جو افغان مہاجرین پاکستان میں پر امن شہری بن کہ اسکی تعمیرو ترقی میں حصہ لے رہے ہیں پاکستان کی طرز معاشرت میں بس چکے ہیں کیا اُنہیں زبردستی واپس بھیج دینا چاہیے۔پاکستان نے اقوام متحدہ کے مہاجرین کے انسانی حقوق سے متعلق اعلامیہ کو بھی تسلیم کیا ہوا ہے جو جنگ سے متاثرہ مہاجرین کو وہ تمام بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کی ضمانت دیتا ہے جو جدید جمہوری ریاستوں میں شہریوں کو حاصل ہیں۔اور پاکستان کے 1973 کے آئین کا بھی حصہ ہیں۔بہت سے افغان مہاجرین پاکستان میں جائیداد خرید چکے ہیں اور مختلف اقسام کے کاروبار میں معروف ہیں۔ تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ بیت جانے کے بعدان افغان مہاجرین کی دوسری نسل بحثیت پاکستانی شہری پروان چڑھ چکی ہے وہ پاکستان کو اپنا گھر اور اپنا وطن سمجھا ہیں۔

ایسے میں ان مہاجرین کو زبردستی افغانستان واپس بھیجنے سے افغانستان میں موجود پاکستان مخالف افغانیوںاور پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کا ایک موقع اور ہاتھ آجائے گا۔ دنیا بھر کی جدید جمہوری ریاستوں میں اُن مہاجرین اور تارکین وطن کو جن کا ہجرت کرنے والے ملک میں کوئی کرینل ریکارڈ نہ ہو اور کسی سنگین مجرمانہ مقدسات میں مطلوب نہ ہوں قیام کے پانچ سال بعد شہرت دے دی جاتی ہے۔ لاکھوں پاکستانی تارکین وطن اسی قانون سے قیام کے پانچ سال بعد شہرت دے دی جاتی ہے۔

لاکھوں پاکستانی تارکین وطن اسی قانون سے مستفید ہو کہ یورپ امریکہ کی دوسری شہریت حاصل کر چکے ہیں ان میں سے بہت سے پاکستانی آج اراکین پارلیمنٹ سینڑ،وزرا اور کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔ایک جانب کو ہم ان لاکھوں پاکستانیوں کی سلامتی اور خوشحالی کے لئے دعا گو ہیں جن کے دل بیرون ملک شہریت حاصل کرنے کے باوجود پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔

اگر یورپ اور امریکہ میں دہشت گردی کے کسی واقعہ میں پاکستانی نثراد شہری ملوث ہو تو ہم یہ جائز مطالبہ کرتے ہیں کہ کسی ایک شہری کے ملوث ہونے کی بنا پر پوری پاکستانی کمیونٹی کو انتقام اور نفرت کا نشانہ بنانا درست نہیں۔اسی طرح کسی ایک افغان مہاجر کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کی سزا سارے افغان مہاجرین کو

دینا انصاف کے اصولوں کے منافی ہو گا۔
آج ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ 80کی دہائی میں جب افغان مہاجرین پاکستان آرہے تھے تو حکومت نے اُن کی رجسٹریشن کیوں نہ کی۔ خود اقسائی اس امر کا تقاضہ بھی کرتی ہے کہ ہم گذشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں بسنے والے افغان مہاجرین کے لئے پاکستانی شہری کی پالیسی دینے میں نا کام رہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں حوالے سے وزارت داخلہ قانون سازی کرے اور افغان کو افغان پاکستانی قرار دے کر رجسٹر کیا جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے